دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عالمی طاقت کا بدلتا توازن، پاکستان کے امکانات اور تیاریاں
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں پرانے عالمی نظام کی گرفت کمزور ہو رہی ہے، نئی طاقتیں اپنے لیے جگہ بنا رہی ہیں اور علاقائی ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے اتحاد اور شراکت داریاں تلاش کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی محض چند ممالک کے درمیان تعلقات کی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے پورے ڈھانچے میں رونما ہونے والی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس نئے منظرنامے میں پاکستان کہاں کھڑا ہے اور کیا وہ اپنی جغرافیائی اہمیت کو حقیقی قومی طاقت میں تبدیل کر سکے گا؟
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے نظام میں مرکزی حیثیت حاصل کر لی تھی۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد کچھ عرصے کے لیے امریکی بالادستی مزید مضبوط ہوئی، لیکن چین کے معاشی عروج، روس کی دوبارہ عالمی سیاست میں مؤثر موجودگی، مغربی ممالک کے اندرونی مسائل اور مختلف خطوں میں امریکی پالیسیوں کی حدود نے اس یک قطبی نظام کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ اب دنیا بتدریج ایسے نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں طاقت کے مراکز زیادہ ہوں گے اور ہر معاملے میں ایک ہی طاقت کے فیصلے کو حتمی حیثیت حاصل نہیں رہے گی۔
تاہم، اس تبدیلی کو مغرب کے مکمل خاتمے یا امریکہ کی فوری پسپائی سے تعبیر کرنا درست نہیں۔ امریکہ اور یورپ کے پاس اب بھی مضبوط معیشتیں، جدید ٹیکنالوجی، مالیاتی ادارے، وسیع سفارتی روابط اور مؤثر عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ عالمی معاملات میں ان کی مرضی کو ہر جگہ بلا مزاحمت قبول کرانا پہلے کی نسبت مشکل ہو رہا ہے۔ مستقبل کی دنیا میں طاقت کا مطلب صرف دوسروں کو حکم دینا نہیں بلکہ مختلف طاقتوں کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق معاملات طے کرنا بھی ہوگا۔
چین کا بڑھتا ہوا کردار اس تبدیلی کا اہم ترین پہلو ہے۔ اس کی صنعتی صلاحیت، عالمی تجارت میں حصہ، ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں میں معاشی روابط نے اسے عالمی نظام کا ناگزیر فریق بنا دیا ہے۔ روس بھی اپنی علاقائی اور عالمی ترجیحات کے مطابق اثرورسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کے لیے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ وہ مختلف طاقتوں کے درمیان رابطے اور تعاون کا ذریعہ بنے، لیکن اس امکان سے فائدہ اٹھانے کے لیے محض اچھے تعلقات کافی نہیں ہوں گے۔
پاکستان کے چین کے ساتھ دیرینہ تزویراتی تعلقات ہیں۔ امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کی اپنی اہمیت ہے، جبکہ روس کے ساتھ بھی مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح ایران، سعودی عرب، ترکیے اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ تعلقات پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہ صورت حال پاکستان کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کرتی ہے جہاں وہ مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان معاشی، تجارتی اور سفارتی رابطوں میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات رکھنا اور ان طاقتوں کے درمیان آزادانہ طور پر اپنے مفادات کا تحفظ کرنا دو الگ صلاحیتیں ہیں۔ اگر پاکستان کے تعلقات بظاہر وسیع ہوں لیکن اس کی معیشت کمزور، توانائی کا نظام غیر مستحکم، برآمدات محدود اور داخلی سیاست مسلسل تصادم کا شکار رہے تو یہ سفارتی اہمیت پائیدار قومی طاقت میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔ اس کے برعکس، اگر پاکستان اپنے اندرونی مسائل پر قابو پا لے تو اس کا جغرافیہ کہیں زیادہ قیمتی اثاثہ بن سکتا ہے۔
سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کی نئی صورتیں اسی بدلتے ہوئے علاقائی ماحول کا حصہ ہیں۔ ایسے انتظامات رکن ممالک کے درمیان اعتماد، مشترکہ دفاعی صلاحیت اور سفارتی رابطوں کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ لیکن دفاعی معاہدوں کی اہمیت کا اندازہ صرف ان کے اعلان یا ادارہ جاتی ڈھانچے سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی رکن ملک کو خطرہ لاحق ہو، مختلف ممالک کے مفادات میں اختلاف پیدا ہو یا کوئی تنازع وسیع جنگ میں تبدیل ہونے لگے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر اہم ہے۔ اسے ایک طرف اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گردی اور بدامنی کا مقابلہ کرنا ہے، دوسری طرف معاشی بحالی، سیاسی استحکام اور عوامی مسائل پر توجہ دینا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی نئے دفاعی انتظام کا جائزہ اس بنیاد پر لینا چاہیے کہ وہ پاکستان کی سلامتی کو کس حد تک مضبوط کرتا ہے، علاقائی امن میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر کون سی اضافی ذمہ داریاں عائد ہو سکتی ہیں۔ قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ ہر معاہدے کے فوائد کے ساتھ اس کے ممکنہ اخراجات اور خطرات کو بھی سمجھا جائے۔
مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا کردار، ایران کے ساتھ کشیدگی، خلیجی ریاستوں کے سلامتی کے خدشات اور امریکہ کی بدلتی ہوئی ترجیحات بھی اس پورے منظرنامے کا حصہ ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی اور علاقائی اثرورسوخ کے لیے سرگرم ہے، جبکہ مختلف عرب اور مسلم ممالک اپنے مفادات کے مطابق دفاعی اور سفارتی راستے اختیار کر رہے ہیں۔ اس ماحول میں پاکستان کے لیے ایک اہم موقع یہ ہے کہ وہ مسلم ممالک کے درمیان رابطے اور کشیدگی میں کمی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ تاہم، کسی ملک کی حکمت عملی کو محض سازش قرار دینے یا اس کی ناکامی کو یقینی سمجھنے کے بجائے اس کی صلاحیتوں، مفادات اور عملی اقدامات کا تجزیہ ضروری ہے۔
وسطی ایشیا کے ساتھ تعلقات بھی پاکستان کے مستقبل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان اور کرغزستان کے ساتھ تجارتی روابط، توانائی کے منصوبے، زمینی راستے اور علاقائی تعاون پاکستان کو نئی معاشی گنجائش فراہم کر سکتے ہیں۔ آذربائیجان کے ساتھ تعاون بھی وسیع تر علاقائی روابط میں اہم ہے۔ لیکن سفارتی ملاقاتوں اور معاہدوں کو حقیقی کامیابی اسی وقت کہا جا سکے گا جب ان کے نتیجے میں تجارت بڑھے، سرمایہ کاری آئے، نقل و حمل آسان ہو اور عام شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی حیثیت کو محض عسکری اور سفارتی اہمیت تک محدود نہ رکھے۔ اسے علاقائی تجارت کا مؤثر مرکز بننا ہوگا۔ اس کے لیے سڑکوں اور ریل کے رابطوں، بندرگاہوں، توانائی کی ترسیل، کسٹم کے نظام، صنعتی پیداوار اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہوگا۔ اگر پاکستان وسطی ایشیا کی منڈیوں کو جنوبی ایشیا اور سمندری راستوں سے مؤثر طور پر جوڑ سکے تو اس کی اہمیت محض دفاعی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ ایک معاشی ضرورت بھی بن جائے گی۔
اس مقصد کے لیے اندرونی استحکام بنیادی شرط ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان مسلسل محاذ آرائی، اداروں کے اختیارات پر تنازعات، حکمرانی کی کمزوریاں اور معاشی غیر یقینی صورت حال کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کو محدود کر دیتی ہیں۔ دنیا میں باوقار مقام حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کو امن، انصاف، تعلیم، صحت اور روزگار فراہم کرے۔ ایسی ریاست جس کے عوام معاشی مشکلات میں گھرے ہوں، وہ طویل عرصے تک اپنی بیرونی اہمیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔
نئے عالمی نظام میں پاکستان کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت اور دفاعی صلاحیت کو مختلف طاقتوں کے درمیان کشمکش میں اپنی سودے بازی بڑھانے کے لیے استعمال کرے، لیکن اس دوران داخلی مسائل کو نظرانداز کرتا رہے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ علاقائی تعاون، معاشی ترقی، سائنسی تحقیق، صنعتی پیداوار اور پُرامن سفارت کاری کو اپنی طاقت کی بنیاد بنائے۔ پہلا راستہ وقتی اہمیت تو دے سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ بیرونی دباؤ اور تنازعات میں الجھنے کے خطرات بھی رہیں گے۔ دوسرا راستہ زیادہ مشکل ضرور ہے، لیکن پائیدار خودمختاری کی بنیاد اسی پر رکھی جا سکتی ہے۔
عالمی طاقتوں کی صف بندی میں تبدیلی پاکستان کے لیے ایک حقیقی موقع ہے، مگر موقع اور کامیابی ایک چیز نہیں۔ اس موقع کو کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے درست فیصلے، قومی ترجیحات کا تعین، معاشی خودانحصاری اور داخلی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ پاکستان کو نہ کسی عالمی طاقت کے خلاف محض جذباتی صف بندی کرنی چاہیے اور نہ کسی طاقت کی خوشنودی کو اپنی خارجہ پالیسی کا مقصد بنانا چاہیے۔ اسے تمام ممالک کے ساتھ اپنے مفادات کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے اور تنازعات میں غیر ضروری فریق بننے سے گریز کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔
آنے والی دنیا میں وہی ریاستیں زیادہ مؤثر ہوں گی جو اپنے شہریوں کی صلاحیتوں کو ترقی دیں گی، معیشت کو مضبوط کریں گی اور اپنی آزادیِ فیصلہ برقرار رکھ سکیں گی۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ دوسروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش میں اپنی اہمیت منوانے کے بجائے ایسی داخلی طاقت پیدا کرے جس کے باعث اس کی اہمیت کو نظرانداز کرنا ممکن نہ رہے۔ عالمی نظام کی تبدیلی اس کے لیے دروازہ کھول سکتی ہے، لیکن اس دروازے سے آگے بڑھنے کا فیصلہ پاکستان کو خود کرنا ہوگا۔
واپس کریں