دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستانی سیاسی ڈرامہ اور بلڈی سویلین
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
پاکستان میں جہاں ہر ادارہ زوال کا شکار ہے، وہاں شوبز بھی اس تباہی سے نہیں بچا ہے۔ اس زبوں حالی کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن سب سے بڑی وجہ شاید ہماری بطور ہجوم، معذرت، بطور قوم اخلاقی انحطاط ہے۔ بہرحال، اگر ہم چاہیں تو راتوں رات ترقی اور جمہوریت میں نہ سہی، فلم، تھیٹر اور ٹیلی ویژن میں ہندوستان کو چاروں شانے چت کر سکتے ہیں۔ تمام سیاست دانوں اور سول بیوروکریسی کو ایکٹنگ پر لگا دیا جائے تو بخدا ان سے بہترین فنکار کہیں بھی نہیں ملیں گے۔
پہلے بات کرتے ہیں سیاسی اداکاروں کی۔ سیاسی اداکاروں کی پرفارمنس لاجواب ہے، لیکن ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پاکستانی ڈرامے میں یہ مہمان اداکار ہوتے ہیں۔ ایک آدھ ڈائیلاگ اور ایک آدھ سین میں نمودار ہوتے ہیں۔ افسر شاہی البتہ اس ڈرامے کے مستقل کرداروں میں شامل ہے۔ اور یہی پاکستانی ڈرامے کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
زیادہ پرانی بات نہیں کرتے، گزشتہ 13 سال پر نظر دوڑاتے ہیں، جب پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں مسلسل 13 سال نئے پاکستان کا ڈرامہ سٹیج کیا۔ اب بھی کھڑکی توڑ رش ہے، لیکن سیاسی سینما میں انٹرول ہے، جو وقفے وقفے سے روزِ اول سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔
دوسرا مسئلہ بعض چھوکروں کا منیجر کو باتھ روم میں بند کرکے ٹکٹیں بلیک میں فروخت کرنا اور آواز اٹھانے والوں کو اٹھانا ہے۔ سینما کی ویرانی حقیقی نہیں، مصنوعی ہے، اور عنقریب کرارے چپس اور سپاری کی آواز سنائی دے گی۔
گزشتہ 13 سال میں جن افسران نے گند مچایا تھا، انہی کے ہاتھوں میں اب جھاڑو تھما دی گئی ہے۔ یہ کیا خاک صفائی کریں گے؟ اپنے گند کی ڈھیری کون بناتا ہے؟ بس گند کو قالین کے نیچے چھپا دیں گے۔
سیاسی اداکاروں کی نئی اور پرانی نسل کو بھی پرفارمنس کا موقع دیا گیا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے افسر شاہی کے گھرانوں سے ہیں۔ معدودے چند اگرچہ سیاسی گھرانوں کے چشم و چراغ ہیں، لیکن ہوں گے دونوں ناکام۔ وجہ بہت صاف اور اکلوتی ہے۔ سکرپٹ رائٹر کے پاس نہ آئیڈیاز بچے ہیں اور نہ ہی نئے ڈائیلاگ۔ ایک ہی سکرپٹ کو بار بار نام بدل کر فلمایا جا رہا ہے۔ ایسے میں خاک کامیابی ہوگی؟ جب تک سکرپٹ نہیں بدلا جائے گا اور اوریجنل پرفارمرز کو کاسٹ نہیں کیا جائے گا، پروڈیوسر نقصان میں رہے گا۔
یہ سالا پروڈیوسر بھی بڑا بے وقوف ہے۔ ڈیڈ انویسٹمنٹ کرتا ہے، بلڈی سویلین۔
واپس کریں