خالد خان۔ کالم نگار
میں اب انقلاب کی بات نہیں کرتا۔ ارتقا سے بھی میرا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ کبھی امید تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارا معاشرہ شعور حاصل کرے گا، انسان کی قدر بڑھے گی، جمہوریت مضبوط ہوگی، ادارے مہذب ہوں گے، سیاست خدمت بنے گی اور نئی نسل اپنے بزرگوں سے زیادہ باشعور، تعلیم یافتہ اور آزاد فکر ہوگی۔ لیکن آج، 2026ء میں، جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم آگے جانے کے بجائے کئی میدانوں میں الٹا سفر کر آئے ہیں۔
یہ تحریر ایک ایسے پاکستانی کا ذاتی نوحہ ہے جس نے اپنی زندگی کے کئی عشرے اس امید میں گزارے کہ شاید اس ملک اور معاشرے کا مقدر بدل جائے۔
مجھے ستر کی دہائی کا پاکستان یاد آتا ہے۔ اس زمانے میں بھی غربت تھی، ناانصافیاں تھیں، سیاسی کشمکش تھی، آمریت تھی، معاشرتی پابندیاں تھیں اور بے شمار مسائل تھے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ کوئی مثالی دور تھا۔ مگر اس زمانے کے فکری ماحول میں ایک کشادگی محسوس ہوتی تھی۔ ادب، شاعری، ترقی پسند فکر، سیاسی مباحث اور متبادل نظریات کے لیے گنجائش تھی۔ اختلاف کرنے والا لازماً دشمن، سوال اٹھانے والا لازماً گمراہ اور نئی بات کرنے والا لازماً غدار نہیں سمجھا جاتا تھا۔ معاشرے میں ایسے لوگ موجود تھے جو روایت سے اختلاف کرتے، مذہبی تعبیرات پر سوال اٹھاتے، طبقاتی نظام پر تنقید کرتے اور ایک بہتر دنیا کا خواب دیکھتے تھے۔
آج مجھے اپنا معاشرہ پہلے سے کہیں زیادہ تنگ نظر دکھائی دیتا ہے۔ اختلاف کی جگہ دشمنی نے لے لی ہے، دلیل کی جگہ الزام نے اور شعور کی جگہ جذباتی وابستگیوں نے۔ ہم نے جدید دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے جس فکری آزادی، سائنسی مزاج اور تنقیدی شعور کی ضرورت تھی، اسے فروغ دینے کے بجائے کئی جگہوں پر سوال کرنے کی صلاحیت ہی کو مشکوک بنا دیا۔ ہم اپنے بچوں کو کامیاب انسان بنانے کے دعوے تو کرتے ہیں، لیکن کیا ہم انہیں آزادانہ سوچنے، غلطی تسلیم کرنے، دلیل سمجھنے اور اپنے سے مختلف انسان کا احترام کرنے کی تربیت دے رہے ہیں؟
یہ سوال میرے لیے اس لیے اہم ہے کہ میں نے معاشرے کو بدلنے کی امید انقلاب سے زیادہ ارتقا سے وابستہ کی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ تعلیم بڑھے گی، دنیا سے رابطہ بڑھے گا، علم عام ہوگا، نئی نسل پرانی نسل سے زیادہ باشعور ہوگی اور وقت کے ساتھ فرسودہ تصورات خود بخود کمزور پڑ جائیں گے۔ لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ محض وقت گزرنے، سکولوں کی تعداد بڑھنے، ڈگریاں تقسیم ہونے اور موبائل فون ہاتھوں میں آنے سے شعور پیدا نہیں ہوتا۔ معاشرہ جدید آلات استعمال کرتے ہوئے بھی فکری طور پر پسماندہ رہ سکتا ہے۔
پھر میں عالمی سیاست کی طرف دیکھتا ہوں تو وہاں بھی کوئی امید افزا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ سرد جنگ کے زمانے میں دنیا دو بڑی طاقتوں، امریکہ اور سوویت یونین، میں تقسیم تھی۔ ان کی رقابت کے اپنے تباہ کن نتائج تھے، چھوٹی ریاستیں ان کی پراکسی جنگوں کا میدان بنتی تھیں، لیکن مختلف طاقتوں کی موجودگی سے بعض ممالک کو متبادل راستے تلاش کرنے کا موقع بھی ملتا تھا۔ آج بھی دنیا میں متعدد طاقتیں موجود ہیں، مگر طاقتوں کی تعداد بڑھ جانے سے لازماً انصاف نہیں بڑھ جاتا۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے حکومتوں سے تعلقات بناتی ہیں، تزویراتی شراکت داروں کی پشت پناہی کرتی ہیں اور اکثر وہاں کے عام لوگوں کی آزادی، معاشی حالت اور جمہوری حقوق کو اپنے مفادات پر ترجیح نہیں دیتیں۔
تیسری دنیا کے ممالک میں حکمران اشرافیہ کو اس وقت تک بیرونی حمایت ملتی رہ سکتی ہے جب تک وہ کسی طاقت کے مفادات پورے کرتی رہے۔ حکومت کی جمہوریت، عوام کی خوش حالی اور ریاستی اداروں کی آزادی سے زیادہ اہمیت اس بات کو دی جاتی ہے کہ وہ عالمی طاقت کے لیے کتنی مفید ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقامی حکمرانوں کو اپنے عوام کے سامنے جواب دہ ہونے کی ضرورت کم محسوس ہوتی ہے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اصل اہمیت کہیں اور بھی ہے۔ میں اب اس امید سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہوں کہ عالمی طاقتوں کی رقابت ہمارے جیسے معاشروں کے لیے کسی حقیقی آزادی کا دروازہ کھولے گی۔
پاکستان کی طرف آتا ہوں تو مجھے محض سیاسی جماعتیں نظر نہیں آتیں، مجھے مفادات کے ایسے جال دکھائی دیتے ہیں جن میں سیاست، دولت، سرکاری اختیار اور منظم جرائم کے درمیان سرحدیں بعض اوقات دھندلا جاتی ہیں۔ میرے نزدیک پاکستان کا المیہ صرف یہ نہیں کہ یہاں بدعنوان سیاست دان موجود ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ سیاست، ریاستی مشینری، معاشی اجارہ داریوں اور بااثر گروہوں کے درمیان ایسا مفاداتی گٹھ جوڑ شروع سے موجود ہے جس میں عوام کے حقوق ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
میرا تلخ مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں بحیثیت مجموعی اس نظام سے الگ تھلگ نہیں، بلکہ مختلف صورتوں میں اس کی محافظ بن چکی ہیں۔ اقتدار میں آنے والی جماعت ہو یا اقتدار سے باہر بیٹھنے والی، ان کے سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن جب مفادات، مراعات، طاقت اور احتساب سے بچنے کا سوال سامنے آتا ہے تو ان کے درمیان فاصلے بعض اوقات حیرت انگیز طور پر کم ہو جاتے ہیں۔ یہ میرا عمومی سیاسی مشاہدہ اور نتیجہ ہے، کسی ایک جماعت کے خلاف فردِ جرم نہیں۔ میں کسی جماعت کو اس لیے بری الذمہ نہیں سمجھتا کہ وہ میری پسندیدہ جماعت ہے، اور نہ کسی کو محض اختلاف کی بنیاد پر مجرم قرار دیتا ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا جرائم صرف وہی ہوتے ہیں جنہیں گلیوں میں بندوق اٹھانے والے لوگ انجام دیتے ہیں؟ کیا وائیٹ کالر کرائمز، مالیاتی دھوکے، سرکاری ٹھیکوں میں ملی بھگت، منشیات کے کاروبار، غیر قانونی دولت، سمگلنگ اور معیشت کے غیر رسمی یا غیر قانونی حصوں سے فائدہ اٹھانے والے طاقت ور نیٹ ورکس معاشرے کو نقصان نہیں پہنچاتے؟ کیا ممکن نہیں کہ بعض چھوٹے جرائم پیشہ گروہوں کے پیچھے زیادہ طاقت ور سرپرست موجود ہوں؟ کیا یہ بعید از قیاس ہے کہ بعض بااثر افراد اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرکاری مشینری، سیاسی اثرورسوخ یا ادارہ جاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھائیں؟
میرا دکھ یہ ہے کہ ہم اکثر چھوٹے مجرم کو پکڑ کر مطمئن ہو جاتے ہیں، لیکن یہ نہیں پوچھتے کہ اس کے پیچھے کون تھا، اس نے اتنی طاقت کہاں سے حاصل کی، اس کے کاروبار کو کس نے تحفظ دیا، اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور اس کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے لوگ ہی کیوں نشانہ بنتے رہے؟ اگر کوئی جرائم پیشہ گروہ کسی طاقت ور سرپرست کی چھتری تلے کام کرتا ہے تو محض چند افراد کی گرفتاری سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جب تک سرپرستی، مالی مفادات اور اداروں کے غلط استعمال کا راستہ بند نہیں ہوتا، ایک گروہ کی جگہ دوسرا گروہ لے سکتا ہے۔
اسی لیے مجھے گاہے بگاہے ہونے والی گرفتاریوں، احتسابی کارروائیوں اور حکومتی برطرفیوں کو دیکھ کر لازماً اطمینان نہیں ہوتا۔ کبھی یہ واقعی قانون کے نفاذ کا نتیجہ ہو سکتی ہیں، لیکن بعض اوقات یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کارروائی اصول کی بنیاد پر ہوئی یا طاقت کے مراکز کی باہمی کشمکش کے نتیجے میں؟ کہیں ایک گروہ کو ہٹا کر دوسرے گروہ کے لیے راستہ تو صاف نہیں کیا جا رہا؟ کہیں احتساب کا نام استعمال کرکے کسی کو قابو اور کسی کو آزاد تو نہیں رکھا جا رہا؟ مجھے گرفتاریوں کی تعداد سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ کیا اس عمل سے نظام کی ساخت بدلی، قانون کا یکساں اطلاق ہوا اور عوام کو کوئی حقیقی فائدہ پہنچا؟
میں جانتا ہوں کہ اس مؤقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ لیکن میری نظر میں کسی ایک شخص کی برطرفی نظام کی اصلاح نہیں، اگر اس کی جگہ آنے والا شخص اسی نظام کے اصولوں پر کام کرے۔ کسی ایک سیاسی جماعت کی شکست تبدیلی نہیں، اگر اقتدار کے کھیل، مراعات کی تقسیم اور عوامی وسائل پر قبضے کا طریقہ برقرار رہے۔ کسی افسر کی گرفتاری انصاف کی تکمیل نہیں، اگر اس سے اوپر موجود سرپرستی کا نظام محفوظ رہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نظام کو بدلے گا کون؟
میں انقلاب کی امید کب کی چھوڑ چکا ہوں۔ مجھے کسی مسلح بغاوت، خونریزی یا کسی نئے نجات دہندہ کا انتظار نہیں۔ میں ارتقا کی امید بھی باندھتا رہا، لیکن آج اس پر بھی سوال اٹھاتا ہوں۔ معاشرے میں مجھے دو بنیادی طبقے دکھائی دیتے ہیں۔ حاکم اور محکوم، آقا اور غلام، مالک اور رعایا، اشرافیہ اور عوام۔ یہ تقسیم ہر جگہ ایک جیسی نہیں، نہ ہر انسان اپنی پوری زندگی ایک ہی خانے میں رہتا ہے، لیکن ہمارے جیسے معاشروں میں طاقت اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم ایک تلخ حقیقت ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے قانون راستہ بناتا ہے، کچھ کے لیے دیوار؛ کچھ کے لیے مواقع پیدا ہوتے ہیں، کچھ نسل در نسل مواقع کی تلاش میں رہ جاتے ہیں۔
اس طبقاتی نظام کی حفاظت صرف سیاست دان نہیں کرتے۔ اس میں دانشور، صحافی، اہلِ نظر و فکر، شاعر، ادیب اور مذہبی شخصیات بھی مختلف صورتوں میں کردار ادا کرتے ہیں۔ کوئی طاقت ور کے مفاد کو نظریے کا لباس پہناتا ہے، کوئی ناانصافی کے لیے اخلاقی جواز تراشتا ہے، کوئی اپنے قلم سے سرپرستی کرتا ہے، کوئی خاموشی اختیار کرتا ہے اور کوئی اپنے ذاتی فائدے کے لیے سچ سے آنکھیں چرا لیتا ہے۔ بعض حالات میں دہشت گرد گروہ بھی طاقت کے اس وسیع کھیل میں استعمال ہوتے یا کسی کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں۔ یوں معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ایسے نظام کا حصہ بنتے ہیں جو بظاہر ان کے درمیان اختلافات کے باوجود طاقت اور مفاد کے تحفظ پر متحد ہو۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صحافی بکاؤ ہے، ہر دانشور منافق ہے، ہر مذہبی شخص مفاد پرست ہے یا ہر سیاست دان مجرم ہے۔ لیکن میں اس خوش فہمی میں بھی نہیں رہ سکتا کہ کسی طبقے کا نام، پیشہ یا دعویٰ اسے اخلاقی برتری کی ضمانت دے دیتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون طاقت کے سامنے سچ بولتا ہے، کون کمزور کے حق میں کھڑا ہوتا ہے اور کون اپنے مفاد کے لیے دوسروں کی بے بسی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
اور اس سب کے بعد میرے پاس کیا بچتا ہے؟ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں میری مایوسی اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔ کبھی خدا پر یقین انسان کے لیے آخری سہارا ہوتا ہے۔ میرے ذہن میں اب اس سوال نے بھی جگہ بنا لی ہے کہ جس خدا سے انسان انصاف کی امید باندھتا ہے، اس نے تو واضح طور پر فرمایا ہے " کہ میں کسی قوم کی حالت اس وقت نہیں بدلتا جب تک اسے خود اپنی حالت بدلنے کا احساس نہ ہو۔" اور بدقسمتی سے ہم بحیثیت مجموعی ایک راہ گم کردہ بےحس ہجوم ہیں۔ ہم تو سرے سے قوم ہی نہیں، منتشر مجمع ہیں اور اللہ تبارک و تعالٰی قوم کی بات کرتا ہے، شتر بے مہار ہجوم کی نہیں۔جب انسان انسانی اداروں، سیاسی نظریات، عالمی نظام اور معاشرتی اخلاقیات سے مایوس ہو جائے تو کبھی خود سے بھی سوال کرنے لگتا ہے۔ میں اس کیفیت کو چھپانا نہیں چاہتا۔ میں خود کلامی کے نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوچکا ہوں۔
لیکن شاید ان سب سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم نے دنیا کو کچھ دینے کے معاملے میں بھی اپنے امکانات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی۔ سائنس، ٹیکنالوجی، طب، انجینئرنگ اور صنعت میں ہم نے وہ مقام حاصل نہیں کیا جس کی خواہش ایک باصلاحیت اور بڑی آبادی رکھنے والے ملک سے کی جا سکتی ہے۔ ہم اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بیرونی پیداوار پر انحصار کرتے ہیں، جدید علم کے صارف تو ہیں مگر اس کے بڑے خالق نہیں بن سکے۔ درآمدات کسی ملک کی ناکامی کا ثبوت نہیں ہوتیں؛ دنیا باہمی تجارت سے چلتی ہے۔ میرا دکھ تجارت سے نہیں، اپنی پیداواری، سائنسی اور تحقیقی صلاحیت کو ترقی نہ دینے سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے، صنعتیں اور ریاستی ترجیحات ایسی کیوں نہ بن سکیں کہ ہم علم کی دنیا میں بھی نمایاں حصہ ڈال سکتے؟
ہم اپنی تاریخ، تہذیب، مذہب اور روایات پر فخر کرتے ہیں۔ لیکن میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ آج کی دنیا میں ہماری پہچان کیا ہے؟ ہم نے کون سی نئی سائنسی دریافت کی، کون سی ایسی ٹیکنالوجی بنائی جس نے انسانیت کے مسائل حل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، کون سا طبی کارنامہ انجام دیا، کون سا صنعتی انقلاب برپا کیا؟ ہماری انفرادی کامیابیاں اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں، لیکن انفرادی ذہانت کو اجتماعی صلاحیت میں بدلنے میں ہم کیوں ناکام رہے؟ کیا ہم نے اپنے باصلاحیت بچوں کو تحقیق، تجربے اور تخلیق کے مواقع دیے؟ کیا ہم نے اختلافِ رائے اور سوال کرنے کی آزادی کو علم کی ترقی کے لیے ضروری سمجھا؟
اور اب آتا ہوں اس دکھ کی طرف جسے شاید سب سے زیادہ محسوس کرتا ہوں اور وہ ہے ہماری اخلاقی اور تہذیبی پونجی کا زوال۔
اگر ہم نے سائنس میں دنیا کو کوئی بڑا حصہ نہیں دیا، اگر ہم نے ٹیکنالوجی اور صنعت میں اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار نہیں لایا، تو کم از کم ہمارے پاس انسانی تعلقات، خاندانی وابستگی، بزرگوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت، پڑوسی کا خیال، مہمان نوازی، وعدے کی پاس داری، شرم و حیا، باہمی اعتماد اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے جیسی اقدار تو تھیں۔ ان میں سے ہر روایت بے عیب نہیں تھی، اور ہمارے ماضی میں بھی ظلم، طبقاتی امتیاز اور ناانصافیاں موجود تھیں۔ ہمیں ان خرابیوں کا دفاع نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لیکن اچھی اقدار کو محفوظ رکھتے ہوئے ناانصافیوں کو ختم کیا جا سکتا تھا۔
ہم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟
آج مجھے خاندانوں میں ٹوٹ پھوٹ، رشتوں میں سردمہری، مفادات کے لیے تعلقات کے استعمال اور ذاتی آسائش کو اجتماعی ذمہ داری پر ترجیح دینے کے رجحانات دکھائی دیتے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں، بہن بھائیوں کے تعلقات مفادات کی نذر ہوتے ہیں، دوستیاں ضرورت کے مطابق قائم اور ختم ہوتی ہیں، اور انسان اپنے قریب ترین لوگوں کے دکھ سے بھی بے خبر رہنے لگتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ماضی میں ہر گھر محبت کا گہوارہ تھا یا آج ہر خاندان بکھر چکا ہے۔ لیکن جب ذاتی مفاد انسانی ذمہ داری پر غالب آنے لگے تو رشتے نام کے باقی رہ جاتے ہیں، ان کی روح کمزور پڑ جاتی ہے۔
ایک معاشرہ صرف بلند عمارتوں، سڑکوں، بازاروں، موبائل فونوں اور جدید گاڑیوں سے قابلِ زندگی نہیں بنتا۔ وہ تب قابلِ زندگی بنتا ہے جب انسان خود کو محفوظ سمجھے، اس کی عزت ہو، اسے انصاف ملے، اس کی محنت کا پھل اسے ملے، اس کے بچے بہتر مستقبل کی امید رکھ سکیں اور اسے یقین ہو کہ مشکل وقت میں کوئی نہ کوئی اس کا ہاتھ تھامے گا۔ اگر انسان ہر وقت معاشی خوف، سماجی دباؤ، سیاسی تقسیم، عدم تحفظ اور رشتوں کی بے یقینی میں زندگی گزارے تو ترقی کے تمام دعوے اس کی روزمرہ زندگی کے سامنے بے معنی ہونے لگتے ہیں۔
میرے لیے پاکستان کا المیہ یہی ہے کہ ہم نے جدید دنیا کے ثمرات بھی پوری طرح حاصل نہیں کیے اور اپنی اچھی روایات بھی کمزور کر بیٹھے۔ ہم علم کے میدان میں مطلوبہ مقام حاصل نہیں کر سکے، لیکن جہالت اور تنگ نظری کے خلاف بھی کوئی فیصلہ کن اجتماعی مزاحمت پیدا نہ کر سکے۔ ہم نے معاشی خودمختاری حاصل نہیں کی، لیکن مفاد پرستی کے خلاف بھی کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد قائم نہ رکھ سکے۔ ہم نے ایسا سیاسی نظام پیدا نہیں کیا جس میں عام آدمی خود کو حقیقی شہری محسوس کرے، اور نہ ایسا معاشرہ قائم کر سکے جس میں کمزور انسان کو ریاست کے علاوہ اپنے لوگوں سے بھی تحفظ اور سہارا ملے۔
یہی وجہ ہے کہ آج مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ رہنے کے قابل نہیں رہا۔ اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں محبت کرنے والے لوگ ختم ہو گئے ہیں، تمام انسان بے حس ہو چکے ہیں یا ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس معاشرے میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر دوسروں کے لیے جیتے ہیں، سچ بولتے ہیں، ایمانداری سے کام کرتے ہیں، مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں اور اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔ شاید انہی لوگوں کی وجہ سے معاشرہ ابھی تک مکمل طور پر ٹوٹا نہیں۔ لیکن میرا دکھ اس بات کا ہے کہ اجتماعی نظام ان خوبیوں کو طاقت دینے کے بجائے اکثر ان کے لیے مشکلات پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے۔
میں اب کسی سیاسی جماعت سے نجات کی امید نہیں باندھتا، نہ کسی ایک شخصیت کو مسیحا سمجھتا ہوں۔ میں عالمی طاقتوں کی رقابت سے بھی کسی اخلاقی انقلاب کی توقع نہیں رکھتا۔ انقلاب کا خواب بہت پہلے چھوڑ چکا ہوں، ارتقا کا خواب بھی دھندلا گیا ہے۔ میں کسی طے شدہ نظریے کے تحت یہ سب کچھ نہیں لکھ رہا۔ میں صرف اپنی زندگی کے مشاہدے، اپنے سوالات اور اپنے دکھ کو الفاظ دے رہا ہوں۔
شاید اس تحریر سے کوئی اتفاق نہ کرے۔ شاید بعض لوگ اسے مایوسی، مبالغہ یا تلخ عمومی رائے قرار دیں۔ انہیں اختلاف کا حق ہے۔ لیکن میں اب ہر بات کے بعد کوئی وضاحتی جملہ لکھ کر اپنے دکھ کو قابلِ قبول بنانے کی کوشش نہیں کرنا چاہتا۔ میں صحافتی احتیاط کی اہمیت سے انکار نہیں کر رہا، نہ یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میرا ہر تاثر ناقابلِ خطا ہے۔ یہ ایک ذاتی تحریر ہے، عدالتی فیصلہ نہیں۔ میں اپنے احساسات کی گواہی دے رہا ہوں، کسی ایک فرد یا جماعت کے خلاف مقدمہ نہیں بنا رہا۔
میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ہم نے اپنے بچوں کے لیے کیسی دنیا بنائی ہے؟ ہم انہیں کیا ورثہ دے رہے ہیں؟ کیا صرف چند ڈگریاں، بیرونِ ملک جانے کی خواہش، دولت جمع کرنے کی دوڑ، سیاسی نفرتیں اور ایک دوسرے کو شکست دینے کا جنون؟ کیا ہم نے انہیں ایسی دنیا دینے کی کوشش کی ہے جس میں وہ آزادانہ سوچ سکیں، باعزت روزگار حاصل کر سکیں، سچ بول سکیں، اپنے خاندان کے ساتھ سکون سے رہ سکیں اور انسان ہونے پر شرمندہ نہ ہوں؟
میں کسی معجزے کا منتظر نہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میری زندگی میں اس معاشرے کو بدلتے دیکھنے کی کوئی گنجائش باقی ہے یا نہیں۔ شاید میری نسل کی امیدیں اپنی منزل تک پہنچے بغیر ہی ختم ہو جائیں۔ شاید آنے والی نسلیں ان سوالوں کے کچھ بہتر جواب تلاش کر لیں۔ میں اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کرتا۔
لیکن آج جو محسوس کرتا ہوں، اسے چھپاؤں کیوں؟
میں نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جو صرف طاقت ور لوگوں کا نہیں، عام انسانوں کا بھی ہو۔ جہاں سیاست اقتدار کی تجارت نہ ہو، مذہب مفادات کی ڈھال نہ بنے، علم محض ڈگری کا نام نہ ہو، صحافت طاقت کی ترجمان نہ ہو، ادب خوشامد کا وسیلہ نہ ہو اور خاندان صرف خون کے رشتے کا نہیں بلکہ محبت اور ذمہ داری کا نام ہو۔
آج اس خواب اور حقیقت کے درمیان فاصلہ دیکھتا ہوں تو دل دکھتا ہے۔
شاید یہی میرا اصل نوحہ ہے کہ ہم دنیا کو وہ سب کچھ نہ دے سکے جس کی ہم میں صلاحیت تھی، اور جو کچھ ہمارے پاس تھا، اسے بھی محفوظ نہ رکھ سکے۔
ہم نے ترقی کی امید میں سفر شروع کیا تھا۔ آج سوال یہ ہے کہ ہم اپنی منزل سے دور ہوئے ہیں یا راستے میں خود کو بھی کھو بیٹھے ہیں؟
واپس کریں