دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آم دریا میں اور تعلقات نفرت کے بھنور میں؟
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
افغانستان میں مبینہ طور پر پاکستان سے غیر قانونی طور پر لے جائی جانے والی آم کی پیٹیاں دریا میں پھینکے جانے کی ویڈیو نے دونوں ممالک کے تعلقات کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو کی صداقت اور اس کے پس منظر کی مکمل تصدیق اپنی جگہ اہم ہے، تاہم سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردعمل نے اس حقیقت کی نشاندہی ضرور کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان عوامی سطح پر موجود بداعتمادی اور تلخی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
ویڈیو میں بڑی تعداد میں آم پانی میں بہائے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ بہت سے پاکستانی صارفین نے اسے صرف پھل ضائع کرنے کا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان سے نفرت کے اظہار کی علامت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس ملک نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، اس کے پھلوں کو اس طرح دریا برد کرنا احسان فراموشی اور دشمنی کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب اگر افغانستان کے اندر موجود جذبات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو وہاں پاکستان کے خلاف پائی جانے والی ناراضی کے کئی اسباب بھی موجود ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں سرحدی کشیدگی، بارڈر بندشیں، تجارتی رکاوٹیں، افغان مہاجرین کی واپسی کی مہم اور افغانستان کے اندر دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے کیے گئے بعض فضائی یا عسکری اقدامات ایسے عوامل رہے ہیں جنہوں نے افغان عوام کے ایک حصے میں ناراضی کو جنم دیا۔ افغان حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران عام شہری بھی متاثر ہوئے، جس نے منفی جذبات کو مزید ہوا دی۔
تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں جا چکی ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہو تو اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا اس کا حق اور ذمہ داری دونوں ہیں۔ اسی طرح غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی بھی ریاستی خودمختاری اور قانون کے نفاذ سے جڑا ہوا معاملہ ہے جسے دنیا کے بیشتر ممالک اپنے قومی مفادات کے مطابق دیکھتے ہیں۔
اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ ماضی میں پاکستان مخالف جذبات زیادہ تر سیاسی یا حکومتی سطح تک محدود سمجھے جاتے تھے، لیکن اب سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بعض واقعات اور ردعمل سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ تلخی عوامی سطح تک بھی منتقل ہو رہی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ دونوں ممالک کے لیے تشویش ناک صورتحال ہے، کیونکہ پاکستان اور افغانستان محض ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، مذہب، زبانوں اور انسانی رشتوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اگر آموں کو دریا میں پھینکنے کی ویڈیو حقیقی ہے تو یہ صرف چند پیٹیوں کے ضائع ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی نفسیاتی دوری کی علامت بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ نفرت کا یہ ماحول کسی ایک فریق کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان کو اپنی قومی سلامتی، سرحدی نظم و نسق اور دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں پر قائم رہنا چاہیے، جبکہ افغانستان کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ جذباتی ردعمل اور نفرت پر مبنی رویے مسائل کا حل نہیں بنتے۔
آخرکار آم دریا میں بہہ جانے سے شاید چند تاجروں کا نقصان ہوا ہو، لیکن اگر دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا دریا بھی اسی طرح خشک ہوتا گیا تو نقصان کہیں زیادہ بڑا اور دیرپا ہوگا۔
واپس کریں