طاہر سواتی
حکومت پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک ارب ڈالر 2023 میں ملے، دو ارب ڈالر 2018 میں حضرت منگو کو ملے تاکہ وہ کہیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خودکشی نہ کر لیں، اور یوں ریاستِ مدینہ کی تعبیر کا خواب ادھورا نہ رہ جائے، اور آدھ ارب ڈالر 1996 میں ایک سال کے لیے ملے تھے۔
اب تیس سال بعد جب وہ اپنے پیسے واپس مانگ رہے ہیں تو بجائے شکریہ ادا کرنے کے، ہم اجتماعی طور پر ان پر لعن طعن کر رہے ہیں۔ حالانکہُ پچھلے سال سے وہ اس رقم کی واپسی کا مطالبہٗ کررہے تھے اس لیے صرف ماہانہ بنیاد پر اس کی تجدید ہوتی رہی ۔
ایک طرف ہماری نظروں میں 57 ممالک میں سے صرف ایران ہی غیرت مند ہے، باقی سب بکاؤ مال ہیں، خاص طور پر عرب اور خلیجی ممالک تو بےغیرت ہیں۔ دوسری طرف ہم انہی بےغیرتوں سے پیسے لیے ہوئے ہیں اور ہماری ایک چوتھائی آبادی وہاں کے روزگار پر گزارا کر رہی ہے۔ تیسری طرف اگر وہ اپنے پیسے واپس مانگیں تو بجائے خود شرم کرنے کے، انہیں بےشرمی کے طعنے دیتے ہیں، اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ہماری گفتگو میں ہر دوسرا جملہ اقبال کے “خودی” والے اشعار سے شروع ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر نہ صرف کیڑا ہے بلکہ اس کیڑے کے اندر بھی ایک کیڑا ہے، جو اسے آرام کرنے نہیں دے رہا۔
اب انگلینڈ میں ساٹھ ہزار کے قریب فلسطینی رہتے ہیں۔ میں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کسی مظاہرے میں انہیں نہیں دیکھا، بلکہ زیادہ تر نے یہودیوں کے ساتھ مل کر شاورما اور ڈونر کباب کا کاروبار کھولا ہوا ہے۔ جبکہ پاکستانی ہر جگہ پیش پیش ہوتے ہیں۔ اب تین پاکستانیوں پر ایک یہودی عبادت خانے پر حملے کی فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ ان میں سے ایک 20 سالہ حمزہ اقبال، دوسرا 19 سالہ ریحان خان اور تیسرے کی عمر صرف 17 سال ہے، قانون کے مطابق اس کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے۔
برطانوی معاشرے میں انہیں پرتشدد بنانے والے یہاں کی مساجد کے مولوی اور سوشل میڈیا ہیں۔ میں ہر فرقے کی مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہوں ، یہاں ہر ایک کا امام مولوی فضل اللہ اور خادم گالوی بنا ہوا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں دس لاکھ ایرانی اور چار لاکھ فلسطینی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ایرانی رجیم کے خلاف بولتے ہیں ورنہ خاموش ہیں، لیکن پاکستان کے اللہ دتہ اور اللہ وسایا کو آرام نہیں، جنہوں نے ویزے کے لیے مان کا زیور بیچا اور وہاں ہزار بارہ سو میں مزدوری کر رہے ہیں۔
ادھر پاکستانی “زینبیون” کے نوجوان تہران میں وردی پہن کر جلوسوں کو کنٹرول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس موقع پر ہمیں متحدہ عرب امارات کو گالیاں دینے کی بجائے ایران کو غیرت دلانی چاہئے جو قطر، امارات، کویت اور بحرین سے زیادہ تیل پیدا کرتا ہے، لیکن ان کا پیسہ میزائلوں کے پہاڑ کھڑے کرنے میں صرف ہو رہا ہے تاکہ خمینی کا انقلاب پوری دنیا میں نافذ کیا جائے۔ انہوں نے تو پابندیوں میں جکڑی گیس پائپ لائن میں بھی عالمی قیمت سے کم پر گیس مہیا کرنے سے انکار کیا تھا۔
اب جس ایران کے لیے پاکستان نے عربوں کو ناراض کیا ہوا ہے، اسی ایران نے کل اسلام آباد میں کسی قسم کے مذاکرات میں شمولیت سے انکار کرکے ثالثی ہمارے منہ پر دے ماری ہے۔ اب ترکی اور مصر نے قطر سے ثالثی کی درخواست کی ہے، لیکن قطر نے فی الحال کسی قسم کی ثالثی میں مرکزی کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
یاد رہے شروع میں اس جنگ کو روکنے کے لیے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مل کر امریکہ سے درخواست کی تھی اور ترکی میں مذاکرات کا پہلا دور طے ہوا، لیکن ایرانی ملاوں نے ان سب ممالک کو مذاکرات سے باہر کرکے عمان کے راستے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود پاکستان ثالثی کی کوششیں کرتا رہا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق دو بار امریکہ کا نائب صدر اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے والا تھا، لیکن ایرانی قیادت کے انکار کے بعد یہ فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔ کل امریکہ نے اسرائیل کو بھی مذاکرات میں تعطل سے آگاہ کر دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ جو بڑے حملے 6 اپریل تک مؤخر کر دیے گئے تھے، وہ جلد شروع ہو جائیں گے۔ اور ہمارے ہاں پھر ماتم شروع ہو گا۔
واپس کریں