کامیاب ترین ہتھیار مذہبی ٹچ اور امریکی رجیم مردہ ہیں
طاہر سواتی
ایمانداری سے بتائیں، کیا آج ہم میں سے کوئی یہ برداشت کر سکتا ہے کہ طالبان حکومت جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو؟ لیکن آج سے پچیس سال قبل ہم ملا عمر کو پورا کہوٹہ دینے کو تیار تھے۔ ڈاکٹر قدیر کے بس میں ہوتا تو دو چار سنٹری فیوجز کندھے پر رکھ کر خود قندھار چھوڑ آتے۔
ایسی کیا تبدیلی آئی کہ آج ہم ان کے پاس امریکہ کا چھوڑا ہوا روایتی اسلحہ بھی تباہ کرنا ثواب سمجھتے ہیں؟ حالانکہ اسی ملا عمر کا بیٹا وزیر دفاع اور حقانی کا بیٹا وزیر داخلہ ہے، اور ہم خود انہیں بڑی چاہ سے اقتدار میں لے کر آئے تھے۔
جواب ایک ہی ہے کہ آج طالبان حکومت ہمارے لیے تھریٹ ہے، وہ دہشت گردی کرنے والوں کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اب اگر خود ہماری قومی سلامتی کو خطرہ ہو تو ہم اپنے ہم مذہب اور ہم مسلک کو کسی خاطر نہیں لاتے، بلکہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے دوران سویلین ہلاکتوں کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔
تو امریکہ اور اسرائیل اس ریاست کو کیسے جوہری ہتھیاروں سے لیس برداشت کریں جس کا قومی نعرہ ہی 'مرگ بہ امریکہ' اور 'مرگ بہ اسرائیل' ہو؟
لیکن یہود و نصاریٰ چونکہ ہماری طرح خالی جذباتی نعروں کی بجائے عمل پر یقین رکھتے ہیں، اس لیے 45 برسوں تک جب تک انہیں کوئی حقیقی خطرہ نہیں تھا، ایران کو فری ہینڈ دیا گیا۔ لیکن جب اس نے پہلے حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کے ذریعے اسرائیل پر حملہ کیا اور پھر اگست 2025 میں خود براہِ راست حملہ آور ہوا، تو پھر انہوں نے وہی کیا جو آج کل ہم اپنے پیاروں کے ساتھ کر رہے ہیں۔
اگر ہم اپنی قومی سلامتی کے خلاف کسی خطرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، تو پھر کسی اور کو یہ حق کیوں نہیں؟ ہمیں چونکہ صبح کا ناشتہ یاد نہیں رہتا، تو دو تین سال پرانی باتیں کیا یاد رہیں گی؟
آج کل چونکہ ہر دوسرا بندہ منصورہ سے فارغ التحصیل لگتا ہے، تو دلیل یہ دی جاتی ہے کہ افغان دہشت گردوں کا اسلام کے جانثار پاسداران انقلاب سے کیا جوڑ؟ وہ یہود و نصاریٰ سے لڑ رہے ہیں اور یہ ایک اسلامی ملک پر حملہ آور ہیں۔ لیکن جب یہی ایران مسلمان عرب ممالک پر حملہ آور ہوتا ہے تو پھر ہمارا بیانیہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہم ایران کی جارحیت کو جائز سمجھتے ہیں، کیونکہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ اور آج کل ہم عشق پاسداران میں گرفتار ہیں۔
اگر ایران مظلوم مسلمانوں کا اتنا ہی خیرخواہ ہے تو پھر بھارت کا کشمیر میں قتل عام فلسطین سے کچھ کم تو نہیں، پھر قاتل بھارت سے جگری یاری کیوں؟ چینی ایغوروں کے نسل کشی پر خاموشی کیوں؟
دلیل دی جاتی ہے کہ ایران نے اکیلے پوری امت مسلمہ کا ٹھیکا تھوڑی لیا ہوا ہے، وہ تو مسجد اقصیٰ کی وجہ سے فلسطین کی حمایت کرتا ہے۔ اگر ایرانی ملاوں کو القدس سے اتنا پیار ہے تو پھر اسی القدس کو سب سے پہلے خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور پھر صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں سے آزاد کروایا۔ جہاں ایران میں گاندھی نام سے سڑکیں اور ہسپتال موجود ہیں، ایران عراق جنگ میں مرنے والے یہودیوں کی یادگاریں قائم ہیں، وہاں کوئی گلی ان شخصیات کے نام سے بھی منسوب ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ایرانی ملا انہیں ہیرو ماننے کی بجائے کن الفاظ میں یاد رکھتے ہیں، سب کو معلوم ہے۔
چونکہ مسلمان القدس کے ساتھ جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں، اس لیے صدام کی طرح ہر نوسر باز اس کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے۔ 45 برسوں تک عراق، شام، لبنان اور یمن میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد ایرانی ملا اب القدس کارڈ بڑی کامیابی سے کھیل رہے ہیں۔ حالانکہ شیعہ مکتب فکر کے امام جعفر صادق اور امام جعفر مرتضیٰ کے نزدیک مسجد اقصیٰ فلسطین میں نہیں بلکہ چوتھے آسمان پر ہے۔ جعفر مرتضیٰ کے ہاں تو مسجد کوفہ بیت المقدس سے زیادہ مقدس ہے۔
آخر میں دلیل میں قرآنی آیات کو کوٹ کیا جاتا ہے کہ یہود و نصاریٰ آپ کے دوست نہیں ہو سکتے، اور جو ان کا دوست ہوگا وہ اسلام کا دشمن تصور ہوگا۔ یہ دلیل پیش کرنے والے زیادہ تر زومبیز یورپ، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ میں رہائش پذیر ہیں، جہاں انہوں نے خود نصاریٰ کی سلطنتوں کے وفاداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے اور دن رات ان سے مالی مراعات لیتے رہتے ہیں۔ خود مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے بعد یہودیوں کی سب سے بڑی آبادی ایران میں آباد ہے اور پارلیمان میں ان کی ایک مخصوص نشست بھی ہے۔
اگر یہود و نصاریٰ سے دوستی جرم ہے، تو پھر خدا سے انکاری روس اور چین سے دوستی کس روایت کے تحت جائز ہے؟
در حقیقت اس قوم کے جذبات سے کھیلنے کے کامیاب ترین ہتھیار مذہبی ٹچ اور امریکی رجیم مردہ ہیں ،جسے ایرانی ملاُ آج کل بڑی کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں”
واپس کریں