دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یہ بندر کو استرا پکڑانے والی بات ہے
طاہر سواتی
طاہر سواتی
تہران یونیورسٹی کے پروفیسر فواد ایزدی کہتے ہیں:“خلیجی ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر تیار کی جانے والی تمام آئل پائپ لائنوں کو تباہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہوگی۔”
یہ ایک یونیورسٹی پروفیسر کے خیالات ہیں؛ آپ عام لوگوں میں پائی جانے والی شدت پسندی کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز ایک قدرتی گزرگاہ ہے اور عالمی قوانین کے تحت اس پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہیں ہو سکتی۔ پھر بھی اگر ایران کا دعویٰ تسلیم کر لیا جائے تو تقریباً 40 کلومیٹر چوڑی اس آبنائے کا آدھا حصہ ایران اور آدھا عمان کے زیرِ اختیار آتا ہے، کیونکہ دوسری جانب عمان واقع ہے۔ اگر عمان اسے بند نہ کرے تو زیادہ تر آئل ٹینکر اسی کے حصے سے گزریں گے، کیونکہ وہ حصہ زیادہ گہرا ہے۔ اس صورت میں ایران کو کوئی ٹیکس بھی نہیں ملے گا۔ مزید یہ کہ عمان کے وزیرِ جہاز رانی واضح کر چکے ہیں کہ انہوں نے بین الاقوامی جہاز رانی کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، لہٰذا وہ اس راستے کو بند نہیں کریں گے۔
فرض کریں کہ دونوں ممالک مل کر اسے بند بھی کر دیں، تب بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس زمینی پائپ لائنوں کے ذریعے متبادل راستے موجود ہیں۔
سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن (پیٹرولائن)، جو تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے، تیل کو بحیرہ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ تک منتقل کرتی ہے۔
آج کل اس میںٗ یومیہ سات میلین بیرل تیل جارہا ہے۔
اسی طرح ابوظہبی کروڈ آئل پائپ لائن (ADCOP)، جو تقریباً 400 کلومیٹر طویل ہے، حبشان کے تیل کے ذخائر کو براہِ راست خلیجِ عمان میں واقع فجیرہ بندرگاہ تک پہنچاتی ہے۔
اس کے باوجود ایران کا مؤقف ہے کہ وہ ان متبادل راستوں کو بھی نشانہ بنائے گا ۔
اگر آپ کسی کا راستہ بند کریں، اور وہ دوسرا راستہ اختیار کرے، پھر بھی آپ اسے تباہ کرنے کی دھمکی دیں — تو اسے کیا کہا جائے گا؟
غنڈہ گردی اور بدمعاشی اور کیا ہوتی ہے ؟
دھشت گردی اور کسے کہتے ہیں ؟
یہ صرف سیاست نہیں، کھلی جارحیت ہے۔
ایسی تنگ نظری نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
آپ کہتے ہیں اس کے پاس ایٹمی طاقت بھی ہونیٗ چاہیے ۔ یہ بندر کو استرا پکڑانے والی بات ہے ۔
واپس کریں