دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبرپختونخوا، ضد کی سیاست اور عوامی مسائل
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبرپختونخوا اس وقت جن سنگین مسائل سے گزر رہا ہے، ان میں بدترین لوڈشیڈنگ، معاشی بدحالی، بے روزگاری، تباہ حال انفراسٹرکچر، گرتا ہوا نظامِ صحت و تعلیم، اور امن و امان کی خراب صورتحال سرِفہرست ہیں۔ عوام مسلسل سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر صوبے کے مسائل کب حل ہوں گے؟ اور اگر مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ واپڈا اور بجلی کا نظام وفاقی حکومت کے ماتحت ہے۔ صوبائی حکومت احتجاج، بیانات اور جلسوں کے ذریعے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل کر سکتی ہے، مگر زمینی حقائق یہی ہیں کہ بجلی کے مسائل مذاکرات، رابطوں اور عملی حکمتِ عملی سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا واقعی عوامی مفاد کو ترجیح دیں تو وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر نہ صرف لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر پیش رفت ممکن ہے بلکہ صوبے کے دیگر اہم معاملات بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب سی این جی، گندم اور آٹے جیسے سنگین بحران گورنر کے ذریعے مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں تو بجلی، این ایف سی، ترقیاتی فنڈز، دہشتگردی اور دیگر صوبائی مسائل پر سنجیدہ بیٹھک کیوں نہیں ہو سکتی؟ کیا عوام کی مشکلات سیاسی انا سے کم اہم ہیں؟
خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کی یہ تیسری مسلسل حکومت ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اگر آج بھی صوبہ بنیادی سہولیات، صنعت، روزگار، صحت، تعلیم اور امن کے بحران میں گھرا ہوا ہے تو پھر عوام کو سوال اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔ ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف وفاق کو قرار دینا اب سیاسی نعرہ تو ہو سکتا ہے، مگر مستقل حل نہیں۔
صوبے کے عوام اب جذباتی نعروں سے زیادہ عملی نتائج چاہتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے سیاسی کشیدگی کم کرکے عوامی مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ وفاق کے ساتھ بیٹھ کر اپنے صوبے کے حقوق، بجلی کے کوٹے، ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی صورتحال پر مذاکرات کریں تو یقیناً اس کے مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ صوبہ دہشتگردی، بدامنی اور معاشی بحران کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قومی اور صوبائی مفاد میں مشترکہ حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوام کو اس بات سے غرض نہیں کہ کون کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے، عوام صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے گھروں میں بجلی ہو، نوجوانوں کو روزگار ملے، سڑکیں تعمیر ہوں، ہسپتال فعال ہوں اور کاروبار چل سکے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ذاتی انا، سیاسی ضد اور محاذ آرائی کی سیاست سے نکل کر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ اگر وزیراعلیٰ واقعی صوبے کے عوام کے نمائندہ ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ قیدی نمبر 804 کی سیاست سے ہٹ کر خیبرپختونخوا کے کروڑوں عوام کے مسائل کو ترجیح دیں۔ کیونکہ اقتدار کا اصل مقصد سیاسی جنگ نہیں بلکہ عوامی خدمت ہوتا ہے۔
تاریخ ہمیشہ انہی رہنماؤں کو یاد رکھتی ہے جو ضد نہیں بلکہ تدبر، مفاہمت اور عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
واپس کریں