کیا دہشتگردی کے پیچھے مالی مفادات کا بھی کوئی خفیہ کھیل موجود ہے؟
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع ایک مرتبہ پھر خوف، غیر یقینی اور منظم تخریب کاری کی لپیٹ میں ہیں۔ ٹانک، بنوں، لکی مروت، شمالی و جنوبی وزیرستان اور گردونواح میں تعلیمی اداروں، بنیادی مراکز صحت اور دیگر سرکاری عمارتوں پر ہونے والے حالیہ حملوں نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ بظاہر یہ واقعات دہشتگردی دکھائی دیتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔
25 مئی 2026 کو ٹانک کے علاقے چیسن کچ میں ایک گورنمنٹ مڈل سکول اور بنیادی مرکز صحت کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ خوش قسمتی سے جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ رات کے وقت عمارتیں خالی تھیں۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ مارچ 2026 میں بنوں میں ایک سرکاری سکول کو دھماکے سے اڑایا گیا جبکہ اس سے قبل جنوبی وزیرستان کے برمل تحصیل میں بھی ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح شمالی وزیرستان میں شیوا اور میرعلی کے علاقوں میں پل تباہ کیے گئے جس سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ متاثر ہوا۔ لکی مروت میں بھی ایک گرلز پرائمری سکول کے اندر بارودی مواد نصب کیے جانے کا واقعہ پیش آیا جہاں ایک دھماکے نے عمارت کو جزوی نقصان پہنچایا جبکہ دوسرا بم ناکارہ بنایا گیا۔ ان مسلسل واقعات نے یہ سوال مزید گہرا کر دیا ہے کہ آخر جنوبی اضلاع میں بار بار سرکاری عمارتیں ہی کیوں نشانہ بن رہی ہیں۔
مقامی سطح پر اس بارے میں ایک انتہائی تشویشناک تاثر پایا جاتا ہے۔ سیکیورٹی اور مقامی حلقوں سے وابستہ افراد کا دعویٰ ہے کہ بعض علاقوں میں دہشتگردی صرف نظریاتی یا عسکری مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے ساتھ مالی مفادات کا ایک خطرناک پہلو بھی جڑ چکا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق سرکاری عمارتوں کی تباہی کے بعد دوبارہ تعمیر، ہنگامی فنڈز، مرمتی منصوبوں اور خصوصی ترقیاتی سکیموں کے نام پر بھاری رقوم جاری ہوتی ہیں، جن سے مخصوص عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ اور ریاستی سطح پر مکمل تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی، تاہم مسلسل ایک جیسے واقعات نے کئی سوالات کو ضرور جنم دیا ہے۔ خصوصاً جب ایک ہی نوعیت کی عمارتیں بار بار نشانہ بنیں، انہی علاقوں میں دوبارہ فنڈنگ ہو اور بدامنی مستقل شکل اختیار کرتی جائے تو شکوک و شبہات مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔
جنوبی اضلاع کے عوام اس صورتحال کی سب سے بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ جن علاقوں میں ایک سکول کئی کئی میل کے فاصلے پر ہو، وہاں ایک سکول کی تباہی صرف دیواروں کا گرنا نہیں بلکہ سینکڑوں بچوں کے مستقبل پر حملہ ہوتا ہے۔ ایک بنیادی مرکز صحت کا تباہ ہونا صرف ایک عمارت کا نقصان نہیں بلکہ حاملہ خواتین، بچوں، بزرگوں اور غریب مریضوں کے علاج کا راستہ بند ہونا ہے۔ ٹانک، لکی مروت اور وزیرستان کے کئی علاقوں میں پہلے ہی صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بعض دیہات میں ایک ہی بنیادی مرکز صحت ہزاروں افراد کی واحد سہولت ہوتا ہے۔ جب وہ بھی بارود سے اڑا دیا جائے تو متاثرہ آبادی کو کئی کئی گھنٹے دور شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ کئی بچوں کی تعلیم مہینوں متاثر رہتی ہے جبکہ بعض والدین خوف کی وجہ سے اپنے بچوں کو دوبارہ سکول بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین “تصادم کی معیشت” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جہاں بدامنی خود ایک معاشی ڈھانچے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس ماحول میں اسلحہ، تعمیراتی منصوبے، ہنگامی فنڈز، سیاسی اثر و رسوخ اور غیر شفاف مالی مفادات ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علاقوں میں حالات معمول پر آنے کے باوجود تشدد دوبارہ سر اٹھاتا دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں جنوبی اضلاع میں دہشتگردی کے متعدد بڑے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ جنوری 2026 میں ٹانک میں بارودی سرنگ حملے میں چھ پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ لکی مروت میں بھی پولیس پر حملوں اور دھماکوں کے کئی واقعات پیش آئے۔ مقامی آبادی کے مطابق خوف کی فضا اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ لوگ اب سرکاری عمارتوں، سکولوں اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی ممکنہ ہدف سمجھنے لگے ہیں۔ یہی وہ نفسیاتی کیفیت ہے جو کسی بھی شورش زدہ علاقے میں ریاستی رٹ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔
اس صورتحال میں سب سے اہم ضرورت صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ مکمل مالی اور انتظامی شفافیت ہے۔ تباہ ہونے والی تمام سرکاری عمارتوں کا ریکارڈ عوام کے سامنے لانا، تعمیرِ نو پر خرچ ہونے والی رقم کی تفصیلات جاری کرنا، کنٹریکٹرز اور فنڈنگ کا آڈٹ کرنا اور ان تمام ممکنہ سہولت کاروں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے جو بدامنی سے مالی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کیونکہ اگر دہشتگردی کے ساتھ مالی مفادات واقعی جڑ چکے ہیں تو پھر یہ جنگ صرف بندوق برداروں کے خلاف نہیں بلکہ ایک پورے خفیہ نیٹ ورک کے خلاف ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام دو دہائیوں سے خون، ہجرت، خوف اور تباہی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں ریاست کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف حملہ آوروں بلکہ ان پوشیدہ مفاداتی حلقوں تک بھی پہنچے جو شاید اس آگ کو بجھنے نہیں دینا چاہتے۔
واپس کریں