ایک الزام فوری کارروائی اور بعد میں سامنے آنے والی سچائی — نظامِ انصاف پر سنگین سوالات
خالد خان۔ کالم نگار
منڈی بہاؤالدین کے اس واقعے نے ایک بار پھر پورے معاشرے اور ریاستی نظام کے سامنے وہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے جس سے ہم بار بار گزرنے کے باوجود سبق سیکھنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ایک سنگین الزام، سوشل سطح پر پیدا ہونے والا شدید ردعمل، فوری طور پر پھیلنے والی عوامی اشتعال انگیزی اور پھر ریاستی اداروں کی تیز رفتار کارروائی، یہ سب مل کر ایک ایسے انجام تک پہنچے جس کے بعد اب کہانی پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تکلیف دہ ہو چکی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک نوجوان لڑکی کی جانب سے اپنے ہی والد پر جنسی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا گیا۔ یہ الزام سامنے آتے ہی علاقے میں جذباتی کیفیت پیدا ہو گئی، لوگ مشتعل ہوئے اور سوشل سطح پر ایک ایسا دباؤ قائم ہو گیا جس میں حقیقت، قانون اور تحقیق کے تقاضے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے حساس الزامات کے ساتھ بدقسمتی سے ایک مستقل مسئلہ جڑا ہوا ہے کہ فیصلہ جذبات کرتے ہیں اور تفتیش بعد میں ہوتی ہے۔
اسی ماحول میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کی جانب سے ایک کارروائی کی گئی جس میں ملزم قرار دیے گئے باپ کی ہلاکت رپورٹ ہوئی۔ یہ واقعہ قانونی اور آئینی تقاضوں کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ یہاں باقاعدہ عدالتی ٹرائل، شواہد کی مکمل جانچ پڑتال اور قانونی دفاع کا وہ بنیادی مرحلہ موجود نہیں تھا جو کسی بھی فوجداری نظام کی اساس سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود سی سی ڈی کی اس کارروائی کو عملی طور پر ماورائے عدالت قتل کے ایک واقعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ریاستی ادارے نے الزام کی بنیاد پر ایک انسانی جان کے فیصلے کو عدالت کے بجائے موقع پر ہی نمٹا دیا۔
اب اس پورے کیس میں جو نیا اور نہایت اہم موڑ سامنے آیا ہے، اس کے مطابق میڈیکل اور فرانزک رپورٹ نے الزامات کے اس پورے مقدمے پر سنگین سوال اٹھا دیے ہیں۔ ان رپورٹس کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ان میں جنسی زیادتی کے الزام کی کوئی سائنسی یا طبی تصدیق موجود نہیں۔ اگر یہ رپورٹ اپنی قانونی اور فرانزک حیثیت میں درست اور حتمی تسلیم کر لی جاتی ہے تو پھر یہ معاملہ صرف ایک فرد کی بے گناہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس پورے نظام پر سوال بن جاتا ہے جس میں الزام کو فوری سزا اور شک کو حتمی فیصلہ بنا دیا جاتا ہے۔
یہ صورتحال ہمیں ایک بار پھر اسی بنیادی الجھن کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے کہ کیا ایک الزام، چاہے وہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، کسی انسان کی جان لینے کا جواز بن سکتا ہے۔ کیا ریاستی اداروں کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ عدالتی ٹرائل سے پہلے کسی کی زندگی کا فیصلہ کر دیں، خاص طور پر ایسے حالات میں جب بعد میں آنے والے شواہد ہی ابتدائی الزام کی نفی کر رہے ہوں۔ یہ سوال صرف اس ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ اس پورے طرزِ عمل پر محیط ہے جس میں کبھی ہجوم خود کو منصف سمجھ لیتا ہے اور کبھی طاقتور ادارے فوری انصاف کے نام پر عدالتی عمل کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ہجوم کے انصاف کا رجحان پہلے ہی ایک خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے جہاں جذبات سچائی سے زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف ریاستی ردعمل بھی بعض اوقات اسی دباؤ کے تحت اس سمت چلا جاتا ہے جہاں قانونی احتیاط اور عدالتی تقاضے ثانوی ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں انصاف کمزور پڑ جاتا ہے اور بعد میں آنے والی حقیقتیں صرف تاخیر سے پہنچنے والی گواہی بن کر رہ جاتی ہیں۔
اگر اس کیس میں سامنے آنے والی رپورٹیں اپنی مکمل قانونی حیثیت کے ساتھ درست ثابت ہو جاتی ہیں تو پھر یہ سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کہ ایک ممکنہ طور پر بے گناہ شخص کی جان لینے کا ذمہ دار کون ہے، اور کیا ہمارے نظام میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر خود احتسابی کر سکے یا ہم ہمیشہ اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے جہاں الزام ہی فیصلہ بن جاتا ہے اور حقیقت ہمیشہ بعد میں پہنچتی ہے۔
واپس کریں