خالد خان۔ کالم نگار
میں ہر بقر عید پر قربانی کا خصوصی اہتمام کرتا ہوں۔ خوبصورت اور مہنگا جانور عیدِ قرباں سے مہینہ پہلے خریدتا ہوں۔ ناز و نعم سے پالتا ہوں۔ اور کیوں نہ پالوں کہ اس میں ثواب ہے۔ مجھے آج تک جتنے قربانی کے جانوروں سے واسطہ پڑا ہے ان سب میں میں نے انسانیت کھوٹ کھوٹ بھری ہوئی پائی تھی۔ مگر خدا جانے اس عید پر کیا ایسا ہوا کہ مجھے ایک انتہائی گستاخ دنبے سے پالا پڑا۔ ڈھائی لاکھ کا خریدا تھا۔ پورا ایک مہینہ بچوں کی طرح پالا۔ پانی، چارے اور ونڈے کا مکمل خیال رکھا۔ روز نہلاتا رہا۔ عید سے ایک ہفتہ قبل مہندی بھی لگائی اور کمر کے ارد گرد سرخ دوپٹہ بھی باندھا۔ ہر شام گلی میں واک پر بھی لے جاتا تھا۔ چھری بھی میں نے نئی اور تیز خریدی تاکہ ذبح ہوتے وقت اسے تکلیف نہ ہو۔ اس کے گوشت کے بارے میں بھی میں نے فیصلہ کیا کہ کسی کو ایک بوٹی بھی نہیں دوں گا۔ پتہ نہیں کس گناہگار کے پیٹ میں چلا جائے۔
عیدِ قرباں کی نماز پڑھتے ہی میں نے خود تکبیر پڑھ کر اس پر چھری پھیر دی۔ دوپہر کے کھانے میں اس کے مختلف ڈشز کو نوالہ نوالہ حلق سے اتارا۔ کھانا کھا کر قیلولہ کرنے لگا۔ آنکھ لگتے ہی دنبہ میرے خواب میں آیا۔ کہنے لگا ہر سال صرف بے عیب جانور کو ڈھونڈتے رہو گے یا کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھو گے۔ حرام مال سے حلال جانور کی تلاش کبھی روک کر اپنی اصلاح بھی کرو گے یا یونہی خدا کو دھوکا دینے کی کوشش میں خود دھوکے میں رہو گے۔ کیا فرق ہے تم میں اور کسی غیر دین کے پجاری میں۔ وہ بلی چڑھاتا ہے، تم قربانی دیتے ہو مگر عمل اور نیت ایک جیسی ہے۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ کو گوشت اور خون نہیں پہنچتا، وہاں صرف نیتیں قبول کی جاتی ہیں۔ تمہارا کون سا عمل اسلامی ہے کیونکہ اسلام کا ہر عمل اور ہر عبادت کا مرکز و محور خدمت خلق ہوتی ہے اور تم ایک مردم آزار انسان ہو۔ تم کیا، تمہارا سارا معاشرہ روحانی کینسر میں مبتلا ہے۔
بہرحال چھوڑو ان باتوں کو اور مجھے اپنا آخری فرض نبھانے دو۔ سوار ہو جاؤ میرے پیٹھ پر کہ میں تمہیں پل صراط پار کرا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاؤں۔ میں نے بھی بحث نہیں کی بلکہ کر بھی نہیں سکتا تھا۔ دنبہ اگرچہ گستاخ تھا مگر بات درست کر رہا تھا۔ میں بھی جلدی میں اس پر سوار ہوا اور پلک جھپکتے میں پل صراط پر پہنچا۔ لمبی قطار تھی اور مختلف جانوروں پر مختلف لوگ سوار تھے۔ مجھے کسی دوسرے مسلمان کے انجام کا تو نہیں معلوم لیکن میرے گستاخ دنبے نے بیچ پل صراط اوپر سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ میں نے جان بچانے کے لیے جست ماری اور اگلے لمحے بیڈ سے فرش پر پڑا تھا۔ کراہ کر اٹھا۔ جسم پسینے سے شرابور تھا۔ فوراً فریج کی طرف لپک پڑا اور دنبے کے باقی گوشت کو نکال کر گلی کے آوارہ کتوں کے سامنے ڈال دیا۔ ایسے گستاخ جانوروں کا یہی انجام ہونا چاہیے۔
واپس کریں