دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ریڈ کریسنٹ ضم اضلاع: ایک دفن ہوتی ہوئی انسان دوست تحریک
No image (رپورٹ ۔خالد خان)جب 2018 میں فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا تو دعویٰ کیا گیا کہ تمام سرکاری و نیم سرکاری ادارے یکساں پالیسی کے تحت کام کریں گے، اور ہر شہری کو یکساں حقوق، سہولیات اور تحفظ حاصل ہوگا۔ مگر سات سال گزرنے کے باوجود "پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی" (PRCS) کے ضمنی ڈھانچے سے وابستہ ایک معاملہ آج بھی تضاد اور بدنظمی کی اعلیٰ مثال بنا ہوا ہے۔

ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے قائم "ریڈ کریسنٹ فاٹا" کا الگ ڈھانچہ آج بھی پوری شان و شوکت سے قائم ہے، حالانکہ نہ صرف قانونی و آئینی طور پر اس کی کوئی ضرورت باقی رہی ہے، بلکہ انسانی ہمدردی کی عالمی تنظیمیں، بالخصوص ICRC (انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس)، بارہا مطالبہ کر چکی ہیں کہ اس ڈھانچے کو ختم کر کے اسے خیبرپختونخوا ریڈ کریسنٹ میں ضم کر دیا جائے۔ لیکن لگتا ہے کہ کچھ مخصوص افراد کی آسائشیں، سرکاری گاڑیاں، اور تنخواہیں اس شفاف اصلاحی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

دلچسپ مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے، مبینہ طور پر سیاسی وابستگی کی بنیاد پر، "ریڈ کریسنٹ فاٹا" کی سربراہی جے یو آئی کے ایک رہنما عمران وزیر کے سپرد کی ہے، جب کہ سیکریٹری کے طور پر سعید کمال محسود کو تعینات کیا گیا ہے۔ یہ تعیناتیاں کسی شفاف طریقہ کار یا میرٹ پر مبنی نہیں بلکہ ذاتی ترجیحات اور سیاسی خوشنودی کے مترادف معلوم ہوتی ہیں۔

بین الاقوامی اداروں کے دباؤ پر 2022 میں جب ICRC نے واضح پیغام دیا کہ اگر فاٹا ریڈ کریسنٹ خیبرپختونخوا برانچ میں ضم نہیں ہوتی تو مالی امداد بند کر دی جائے گی، تو اس کے ردعمل میں، تنظیم نے اپنی اصلاح کی بجائے، سزا کا بوجھ فیلڈ میں کام کرنے والے عام ورکرز پر ڈال دیا۔ باجوڑ، مہمند، کرم، جنوبی و شمالی وزیرستان اور اورکزئی سمیت ضم اضلاع میں قائم دفاتر بند کر دیے گئے۔ ان علاقوں میں فرسٹ ایڈ ٹرینرز، ضلعی پروگرام افسران، سیکیورٹی گارڈز، اور آفس بوائز، جو کزشتہ دس سال سے زیادہ عرصے سے انسان دوست کاموں سے وابستہ تھے، انہیں ایک سادہ سی ای میل کے ذریعے فارغ کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ اس بنیاد پر کیا گیا کہ فنڈنگ کی کمی ہے — مگر فنڈنگ کی یہ کمی صرف فیلڈ ورک کے لیے تھی، پشاور میں قائم مرکزی دفتر کے لیے نہیں، جہاں آج بھی کروڑوں روپے صرف کرایے، لگژری گاڑیوں، تنخواہوں، اور دیگر اخراجات پر خرچ ہو رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یونیورسٹی ٹاؤن پشاور میں واقع فاٹا ریڈ کریسنٹ آفس عملی طور پر ضم اضلاع میں کہیں بھی فعال نہیں ہے۔ وہ علاقے جہاں کسی آفت یا حادثے میں فوری امداد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہاں نہ کوئی اہلکار موجود ہے، نہ کوئی سہولت، نہ کوئی دفتر۔ اس کے برعکس پشاور میں موجود مرکزی دفتر صرف کاغذی کارروائی، تنخواہوں اور مراعات کی حد تک زندہ ہے۔ انسانی خدمت کی اصل روح — فیلڈ میں موجودگی، فرسٹ ایڈ، فوری رسپانس — وہ کہیں دفن ہو چکی ہے۔
یہ صرف بدانتظامی یا کرپشن کا معاملہ نہیں بلکہ ایک پورے خطے کے باسیوں کے ساتھ ناانصافی ہے، جنہیں ریڈ کریسنٹ جیسے انسان دوست ادارے سے بڑی امیدیں تھیں۔ ضم اضلاع کے عوام بجا طور پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر خیبرپختونخوا ریڈ کریسنٹ برانچ مضبوط، فعال اور تجربہ کار ہے، تو الگ فاٹا ریڈ کریسنٹ کے ڈھانچے کو کیوں برقرار رکھا جا رہا ہے؟ کیوں کروڑوں روپے ایسے دفتر پر خرچ کیے جا رہے ہیں جس کا فیلڈ میں کوئی وجود نہیں؟ کیا یہ ریاستی وسائل کا صریحاً ضیاع نہیں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت، ریڈ کریسنٹ کی مرکزی قیادت، اور صوبائی حکام اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ یہ محض اصلاح احوال کی بات نہیں بلکہ انسانیت سے جڑے ایک مشن کی بقا کا سوال ہے۔ ریڈ کریسنٹ جیسے ادارے سیاسی مداخلت اور ذاتی مفادات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اگر فاٹا کو واقعی خیبرپختونخوا کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے تو ہر ادارے، ہر سہولت، اور ہر حق کو یکساں سطح پر دستیاب ہونا چاہیے — اور اس میں ریڈ کریسنٹ کوئی استثنا نہیں۔
واپس کریں