دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان کی کشمیر پالیسی اور نظریہ خورشید
No image کے ایچ خورشید (خورشید ملت) بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ذاتی سیکرٹری اور بعدازاں آزاد کشمیر کے پہلے منتخب صدر خورشید حسن خورشید (کے ایچ خورشید) نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاستی وحدت کی بحالی کے لیے خاص نظریہ پیش کیا۔ 1959ء میں آزاد کشمیر کے صدر بننے کے بعد انہوں نے جموں و کشمیر کی سیاسی یکجہتی کو مقدم رکھا۔ ان کے مطابق، آزاد کشمیر کی حکومت کو جموں و کشمیر کی قانونی و آئینی نمائندہ حکومت تسلیم کیا جائے تاکہ وہ خود بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر پیش کر سکے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ پاکستان سب سے پہلے آزاد کشمیر حکومت کو تسلیم کرے اور پھر اپنی سفارتی قوت سے اس حکومت کو عالمی سطح پر قبول کروائے۔ اس سے کشمیر کے دوطرفہ تنازع کی بجائے کشمیر کی عالمی حیثیت اجاگر ہوگی اور عالمی رائے بھارت کے خلاف منظم ہو سکے گی۔ خورشید ملت کے نظریے کے چند بنیادی نکات یہ تھے:
ریاست جموں و کشمیر کی یکجہتی: کے ایچ خورشید چاہتے تھے کہ گلگت بلتستان سمیت آزاد کشمیر کی حکومت کو پورے جموں و کشمیر کی باغی، نمائندہ اور جانشین حکومت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ ان کے نزدیک ریاست کی وحدت بحال ہونے سے کشمیری خود اپنا مقدمہ عالمی فورمز پر پیش کر سکیں گے۔
عالمی سطح پر توجہ: نظریہ خورشید میں زور دیا گیا کہ پاکستان حکومت پہلے آزاد کشمیر حکومت کو تسلیم کرے اور پھر اپنی سفارتی و سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر اس کی بھی پذیرائی حاصل کرے۔ اس طرح مسئلہ کشمیر دو ملکوں کے داخلی معاملے کی بجائے عالمی توجہ کا مرکز بن جائے گا۔
کشمیر کی خودارادیت: اس نظریے کے تحت کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرانے پر بھی زور تھا۔ کے ایچ خورشید نے آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو جموں کشمیر لبریشن لیگ کے پلیٹ فارم پر منظم کیا اور ایک منظم تحریک چلانے کا منصوبہ بنایا تاکہ کشمیری قوم حقِ خودارادیت حاصل کر سکے۔
پاکستان کے کشمیر موقف پر اثر
خورشید ملت کا نظریہ پاکستان کے رسمی موقف سے ملتا جلتا تھا کیونکہ قائداعظم کی کشمیر پالیسی بھی ریاست کی وحدت اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی تھی۔ تاہم انتظامی حلقوں میں ان کے اس موقف کو عملی شکل دینے میں دلچسپی نہ لیتی گئی۔ کئی رپورٹس کے مطابق، آزاد کشمیر کے چند لیڈروں نے اس نظریے کے خلاف پاکستان کے عسکری و سیاسی اداروں سے رابطے کیے۔ نتیجتاً پاکستانی قیادت نے نظریہ خورشید کو قبول نہیں کیا اور روایتی اندازِ کار اپناتے ہوئے مسئلہ کشمیر کی روایتی سفارتی روش پر قائم رہی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس غفلت کی وجہ سے 2019ء میں بھارت کے ہاتھوں آرٹیکل 370 کی منسوخی پر پاکستان مؤثر عالمی دباؤ نہیں لا سکا۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر نظریہ خورشید کو اپنایا جاتا تو صورتِ حال مختلف ہوتی (جیسا کہ آزاد کشمیر کے سرکردہ سیاسی رہنما خواجہ محمد لطیف نے کہا ہے کہ اگر یہ نظریہ تسلیم ہوتا تو آج ریاست جموں و کشمیر آزاد مملکت ہوتی)۔
پاکستان کی کشمیر پالیسی میں جھلک
پاکستان کی کشمیر پالیسی میں ہمیشہ اقوامِ متحدہ کے فیصلوں اور استصوابِ رائے پر زور دیا جاتا رہا ہے، جسے قائداعظم نے بھی ریاست کی یکجہتی اور حقِ خودارادیت کی بات کے ساتھ جوڑا تھا۔ خورشید ملت کا نظریہ اس نقطہ نظر کو آگے لے جاتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ آزاد کشمیر کو پاکستان کے آئین میں پورے طور پر ضم نہ کرنے سے آج تک یہ تنازع اب بھی برقرار ہے۔ بہرحال، نظریہ خورشید کے بنیادی خیالات کے بعض پہلو پاکستان کی پالیسی میں جزوی طور پر نظر آتے ہیں جیسے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بات اور مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھانے کی کوشش، لیکن آزاد کشمیر حکومت کو مکمل تسلیم کرنے اور عالمی طاقتوں کے سامنے مسئلہ اجاگر کرنے کے انفرادی اقدامات حکومت کی پالیسی میں شامل نہیں ہوئے۔
موجودہ دور میں اہمیت
نظریہ خورشید کو کشمیر آزادی کے حل کے طور پر کشمیری سیاسی رہنما اور حلقے زیرِ بحث لاتے رہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل نظریہ خورشید میں مضمر ہے۔ 2024ء میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بزرگ رہنما خواجہ محمد لطیف نے بھی استدعا کی کہ اگر خورشید ملت کا”تسلیم کرو کشمیر“ نظریہ تسلیم کیا جاتا تو آج جموں و کشمیر آزاد ہوتا۔ برطانیہ میں مقیم کشمیری کمیونٹی رہنماؤں نے 2019ء میں اس نظریے کو اپنانے اور لندن میں تمام جماعتوں پر مبنی کانفرنس بلانے کی تجویز دی جبکہ جموں کشمیر لیبریشن لیگ کے سابق سیکرٹری اطلاعات اور نو منتخب مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری جنرل خلیق الرحمان سیفی ایڈوکیٹ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے الحاق پاکستان،الحاق بھارت کے علاوہ خود مختار کشمیر کے آپشن کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے جو کہ نظریہ خورشید کے عین مطابق ہے۔ ان سب مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیری اس نظریے کو آج بھی ایک مؤثر اور متبادل حل سمجھتے ہیں۔
سفارتی، سیاسی اور عوامی سطح پر کردار
سفارتی سطح: پاکستان کے ماضی میں سفارتی بیانات میں ہمیشہ کشمیر کو اہمیت دی گئی ہے، لیکن نظریہ خورشید کا لفظی طور پر سرکاری پالیسی میں ذکر نہیں ملتا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی قیادت عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ اجاگر کرنے پر قائم ہے، جو خورشید ملت کے بنیادی مقصد سے متصل ہے۔
سیاسی سطح: آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت خورشید ملت کی خدمات کو سراہتی ہے۔ 2025ء میں آزاد کشمیر کے صدر اور وزیراعظم نے انہیں جمہوری اقدار اور کشمیری عوام کے حقوق کے علمبردار قرار دیا۔ آزاد کشمیر کے وزراء اور دیگر رہنما بھی کھل کر خورشید ملت کو اپنا رہنما مانتے ہیں اور اس نظریے کو تسلیم کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ اس طرح نظریہ خورشید کو آزاد کشمیر کی قیادت میں نظریاتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔
عوامی سطح: کشمیری عوام اور جموں کشمیر لبریشن لیگ کے کارکنان اپنے شہداء کے یوم یا کانفرنسوں میں نظریہ خورشید کا حوالہ دیتے ہیں۔ عوامی اجتماعات اور سیمینارز میں اس کا تاثر مضبوط ہے۔ مثال کے طور پر، مختلف کشمیری رہنماؤں نے مختلف اوقات میں میڈیا اور مختلف فورمز میں گفتگو کرتے ہوئے ”نظریہ خورشید“ کو ایک متبادل لائحہ قرار دیا ہے تا ہم نظریہ خورشید”رسمی پالیسی“ میں شامل نہ ہونے کے باوجود، کشمیر کے مسئلے میں اس کی فکر و تحریک کو روشن خیال حلقوں اور عوام میں اہمیت حاصل ہے۔
واپس کریں