
وہ جلد ہی اس نتیجے پر پہنچ گئی تھی کہ طاقتوروں کی اس دنیا میں انصاف صرف چھین کر ہی لی جا سکتا ہے۔
قانون کتابوں میں لکھا ہوتا ہے، عدالتوں کے دروازے کھلے دکھائی دیتے ہیں، مگر جب تک طاقت تمہارے پاس نہ ہو، وہ سب صرف دھوکہ ہیں۔ جو مالک ہیں، وہی انصاف کی تعریف کرتے ہیں، وہی فیصلہ کرتے ہیں کہ کون مجرم ہے اور کون بے گناہ۔ غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور عورتوں کے لیے انصاف کا مطلب اکثر صرف صبر کرنا رہ جاتا ہےاور صبر آخر کار موت بن جاتا ہے۔
اس نے دیکھا تھا کہ جب زمین چھین لی جاتی ہے تو عدالت خاموش رہتی ہے، جب بہنوں کی عزت لوٹی جاتی ہے تو پولیس آنکھیں بند کر لیتی ہے، جب بچے بھوک سے مرتے ہیں تو حکمران محلوں میں ضیافتیں کرتے ہیں۔ تب اس نے سمجھ لیا کہ انصاف مانگنے سے نہیں ملتا، اسے چھیننا پڑتا ہے۔
اس لیے وہ بندوق اٹھاتی ہے۔ گولے کی پٹی سینے پر باندھتی ہے، سر پر اسکیف لپیٹتی ہے اور جنگل کی راہوں پر نکل پڑتی ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں نہ نفرت ہے نہ خوف۔صرف ایک پکا ہوا یقین ہے۔ وہ جانتی ہے کہ طاقتور کبھی اپنی مرضی سے حصہ نہیں دیتے۔ انہیں مجبور کرنا پڑتا ہے۔ ہر قدم پر وہ یہ سوچتی ہے۔ اگر آج ہم نے نہ چھینا تو کل ہمارے بچے بھی وہی زنجیریں پہنیں گے۔ انصاف کا راستہ نرم نہیں ہوتا۔ وہ کانٹوں بھرا ہے، خون سے رنگا ہوا ہے۔ مگر جو لوگ صرف دعاؤں اور التجاؤں پر بھروسہ کرتے ہیں، وہ ہمیشہ دروازے کے باہر رہ جاتے ہیں۔
اب وہ صرف ایک لڑکی نہیں رہی۔ وہ اس نتیجے کا زندہ ثبوت بن چکی ہے کہ جب دنیا ناعادل ہو جائے تو انصاف چھیننا ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔ اور وہ مسکراتے ہوئے اس راستے پر چل رہی ہے۔
احتشام الحق شامی
واپس کریں