یہ حادثہ نہیں، ریاست کے کٹہرے میں کھڑا ایک مقدمہ ہے۔ محمد اکرم چوہدری

چودہ نومولود بچوں کی موت کو محض ’’حادثہ‘‘ لکھ دینا شاید سب سے آسان کام ہے۔ ایک لفظ لکھا ، افسوس کیا، انکوائری کمیٹی بنائی، چند افسروں کو ادھر سے ادھر کیا اور زندگی معمول پر آگئی مگر ان ماؤں سے پوچھئے جنہوں نے اپنے بچے علاج کے لیے ہسپتال کے حوالے کیے تھے اور جواب میں انہیں زندگی نہیں، موت کی خبر ملی۔
یہاں لفظوں کی نہیں، انصاف کی ضرورت ہے اور ایسا انصاف نہیں جس کا اعلان پریس کانفرنس میں ہو۔ ایسا انصاف جو ہوتا ہوا نظر آئے، فوری نظر آئے، شفاف نظر آئے اور ذمہ دار کی کرسی، عہدہ، تعلق اور طاقت سے بے نیاز نظر آئے پمز میں جو کچھ ہوا، اس کی مکمل فوجداری اور تکنیکی تحقیقات ہونی چاہییں آگ کہاں سے شروع ہوئی، یہ ایک سوال ہے؛ مگر اس سے کہیں بڑا سوال یہ ہے کہ آگ بچوں تک کیسے پہنچی؟ حفاظتی نظام نے اسے کیوں نہ روکا؟ الارم، فائر فائٹنگ انتظامات، ایمرجنسی انخلا، بجلی کا نظام ، آلات کی دیکھ بھال اور ذمہ دار عملہ کہاں تھا؟ اور اگر ان میں پہلے سے خامیاں موجود تھیں تو انہیں جاننے ، رپورٹ کرنے اور دور کرنے کی ذمہ داری کس کس پر تھی؟
یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب کسی بند کمرے میں نہیں رہنے چاہییں ہر فائل نکالی جائے ہر متعلقہ افسر کا بیان لیا جائے ہر منظوری، ہر خریداری، ہر معائنہ، ہر سیفٹی آڈٹ اور ہر شکایت کا ریکارڈ سامنے لایا جائے دیکھا جائے کہ کس افسر کو کیا معلوم تھا ، کب معلوم تھا اور اس نے کیا کیا اگر کسی نے خطرہ جانتے ہوئے فائل دبا دی ، ضروری اقدام نہ کیا ، حفاظتی سامان فراہم نہ کیا ناقص انتظام کو درست قرار دیا یا سرکاری ذمہ داری پوری نہ کرکے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالا تو معاملہ محض محکمانہ غفلت کا نہیں رہتا پھر تحقیقاتی اداروں اور استغاثہ کو دیکھنا ہوگا کہ ملکی فوجداری قانون کے تحت کون کون سے جرائم بنتے ہیں۔
چودہ زندگیاں گئی ہیں ذمہ داری بھی چودہ تعزیتی جملوں سے پوری نہیں ہوسکتی ہمیں ’’احتساب ہوگا‘‘ کا نعرہ نہیں چاہیے ہمیں انصاف چاہیے احتساب کا لفظ اس ملک میں اتنی مرتبہ استعمال ہوچکا ہے کہ اب عوام اس کے اعلان سے زیادہ اس کا نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کسی وزیر کا غصہ ، کسی افسر کی معطلی اور کسی کمیٹی کی تصویر نہیں چاہیے ہمیں معلوم ہونا چاہیے ذمہ دار کون نکلا، اس کے خلاف کون سی قانونی کارروائی ہوئی، مقدمہ کہاں پہنچا اور عدالت کے سامنے کیا ثبوت پیش کیے گئے۔
معطلی سزا نہیں،تبادلہ سزا نہیں، او ایس ڈی بنانا سزا نہیں اور چند ماہ بعد کسی دوسری کرسی پر بٹھا دینا تو انصاف کے ساتھ مذاق ہے اگر آزاد تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی شخص کی مجرمانہ غفلت ، دانستہ چشم پوشی یا کسی دوسرے قابلِ تعزیر فعل نے ان اموات میں کردار ادا کیا تو اس کے خلاف وہی سنگین فوجداری دفعات لگنی چاہییں جو ثابت شدہ حقائق اور قانون تقاضا کرتے ہیں اگر شواہد قتل کے قانونی معیار تک پہنچتے ہیں تو قتل کی دفعات سے بھی گریز نہ کیا جائے اور اگر قانون کسی دوسری نوعیت کے جرم کا تعین کرتا ہے تو اسی کے مطابق سخت ترین قانونی سزا مانگی جائے کیونکہ انصاف غصے سے نہیں ، ثبوت اور قانون سے طاقتور بنتا ہے۔
لیکن ایک بات طے ہے: صرف یہ کہہ دینا کہ ’’آگ لگ گئی تھی‘‘ کافی نہیں آگ خود اپنی فائر ہوز چیک نہیں کرتی، آگ خود سیفٹی آڈٹ پر دستخط نہیں کرتی، آگ خود بجٹ منظور یا روک نہیں سکتی، آگ خود خراب نظام کو برسوں چلنے نہیں دیتی اور آگ کسی افسر کو یہ اختیار نہیں دیتی کہ انسانی جان کی حفاظت والی فائل کو معمول کی سرکاری فائل سمجھ کر میز پر پڑا رہنے دے اگر نظام میں مجرمانہ غفلت ثابت ہوتی ہے تو پھر اس سانحے کے پیچھے صرف آگ نہیں، انسانی فیصلے بھی کھڑے ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش صرف ایک انتظامی انکوائری تک محدود نہیں رہنی چاہیے فرانزک ماہرین ، فائر سیفٹی ماہرین ، الیکٹریکل انجینئرز اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں کو شواہد کی بنیاد پر پوری زنجیر قائم کرنی چاہیے۔ سی سی ٹی وی، ڈیوٹی روسٹر، خریداری کا ریکارڈ، مرمت کی درخواستیں ، فائر آڈٹ ، بجٹ ، انسپیکشن رپورٹس اور سابقہ شکایات محفوظ کی جائیں۔ کوئی فائل غائب نہ ہونے دی جائے ، کوئی ریکارڈ تبدیل نہ ہو اور کوئی طاقتور شخص تفتیش پر اثرانداز نہ ہوسکے۔
متاثرہ والدین کو بھی اس سارے عمل میں تماشائی نہ بنایا جائے انہیں قانونی معاونت دی جائے۔ انہیں تحقیقات کی پیش رفت سے باخبر رکھا جائے۔ ان کے سوالات سنے جائیں اور تحقیقاتی رپورٹ کا قابلِ اشاعت حصہ عوام کے سامنے رکھا جائے یہ مقدمہ صرف چودہ خاندانوں کا نہیں یہ ہر اس پاکستانی کا مقدمہ ہے جو اپنے بچے، اپنی ماں، اپنے باپ یا خود اپنی زندگی کسی سرکاری ہسپتال کے سپرد کرتا ہے عوام کو بھی اب ایک کام کرنا ہوگا: بھولنا نہیں ہے۔
سانحہ چند دن ٹرینڈ کرے اور پھر اگلی خبر کے نیچے دفن ہوجائے، یہی وہ اجتماعی بھول ہے جس کے سہارے ناقص نظام زندہ رہتے ہیں۔ سوال مسلسل پوچھا جائے: رپورٹ کہاں ہے؟ ذمہ دار کون ہے؟ ایف آئی آر یا دوسری قانونی کارروائی کہاں تک پہنچی؟ فرانزک نتیجہ کیا آیا؟ کس افسر کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ مقدمہ کس عدالت میں ہے؟ اگلی سماعت کب ہے؟
یہ سوال بدلہ نہیں، یہ انصاف کا حق ہیں اور حکومت کے لیے بھی یہی موقع ہے کہ ثابت کرے ریاست صرف کمزور آدمی سے قانون منوانے کا نام نہیں۔ اگر ذمہ داری کسی بڑے افسر تک جاتی ہے تو دروازہ وہاں بھی کھٹکھٹایا جائے۔ اگر کسی بااثر شخص کا نام آتا ہے تو قلم وہاں بھی چلے۔ اگر کسی محکمے کی اجتماعی ناکامی ثابت ہوتی ہے تو پورے انتظامی سلسلے کی ذمہ داری طے کی جائے۔
چودہ نومولود بچوں کے پاس کوئی سیاسی طاقت نہیں تھی وہ احتجاج نہیں کرسکتے تھے وہ پریس کانفرنس نہیں کرسکتے تھے وہ عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹا سکتے تھے ان کی طرف سے اب ان کے والدین، صحافت، عدالت، پارلیمان اور معاشرہ بولے گا اور ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا کہ آگ کیسے لگی؟ ہمیں پوچھنا ہے وہ تمام ہاتھ کہاں تھے جن کی ذمہ داری تھی کہ آگ لگ بھی جائے تو بچے نہ مریں؟ اگر ان ہاتھوں کی غفلت جرم ثابت ہوتی ہے تو پھر ان ہاتھوں تک قانون پہنچنا چاہیے جلد پہنچنا چاہیے سب کے سامنے پہنچنا چاہیے اور انجام تک پہنچنا چاہیے۔
کیونکہ انصاف جو برسوں بعد کسی گرد آلود فائل سے نکلے ، وہ متاثرہ ماں کے لیے انصاف کا پورا مفہوم کھو دیتا ہے۔ اس مقدمے کو غیر ضروری تاخیر سے بچایا جائے ، شفاف تفتیش مکمل کی جائے اور قانون کے مطابق عدالتی عمل تیزی سے آگے بڑھے مگر ملزم کے منصفانہ ٹرائل کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے، تاکہ کل کوئی سزا تکنیکی کمزوری کی وجہ سے ختم نہ ہوسکے۔
ہمیں کسی بے گناہ کو مجرم نہیں بنانا، ہمیں اصل مجرم کو بچنے بھی نہیں دینا یہ فرق بہت اہم ہے چودہ ننھی قبریں انتقام نہیں مانگ رہیں وہ ریاست سے صرف اپنا حق مانگ رہی ہیںسچ، انصاف، اور ایسا انجام جس کے بعد کسی افسر کو انسانی جان کی حفاظت والی فائل پر دستخط کرتے ہوئے یہ ضرور یاد آئے کہ اس دستخط کے پیچھے زندہ انسان ہیں۔
پمز کی آگ بجھ چکی ہوگی، مگر یہ مقدمہ ابھی جل رہا ہے اسے بیانات کی راکھ میں مت دبائیے، اس مرتبہ کمیٹی نہیں، نتیجہ دکھائیے ،معطلی نہیں، قانون چلتا ہوا دکھائیے، نعرہ نہیں ، انصاف ہوتا ہوا دکھائیے اور اگر جرم ثابت ہو تو مجرم خواہ کتنی ہی اونچی کرسی پر کیوں نہ بیٹھا ہو ، اسے اس جرم کی پوری قانونی سزا ملتی ہوئی دکھائیے کیونکہ چودہ بچوں کی موت کسی سرکاری فائل کا آخری صفحہ نہیں ہوسکتی یہ ریاست کے ضمیر کا مقدمہ ہے اور اس مقدمے کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
واپس کریں