جنید احمد شاہ ایڈووکیٹ
یہ صاحب(بیرسٹر افتخار گیلانی) مظفرآباد شہر سے 2021 کا الیکشن ہار گئے تھے ، اِس دفعہ 2026 کا الیکشن بھی ہار گئے ، یعنی ایسا شخص ، جسے اُسکے اپنے حلقے کی عوام نے دوسری دفعہ بھی اسمبلی میں بھیجنے کے قابل نہ سمجھا ، اُسے زور زبردستی قوم پر مُسلط کیا جا رہا ہے۔
موصوف عام انتخابات میں جب ہار گئے تو ن لیگ نے ٹیکنو کریٹ کی مخصوص نشست پر دوبارہ ٹکٹ دے کر زبردستی اسمبلی میں پہنچا دیا کیونکہ آزاد کشمیر کی 8 مخصوص نشستوں پر براہ راست ووٹنگ تو ویسے بھی نہیں ہوتی ، تو ایک آسان اور چور راستہ چُن لیا گیا۔
دوسری طرف آزاد کشمیر اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر(محمد احمد رضا قادری)ایک ایسے شخص کو بنا دیا گیا ہے جو مہاجرین کی مخصوص نشست پر صرف اور صرف 2 ہزار ووٹ لیکر راولپنڈی سے ممبر اسمبلی بن گیا۔
تیسری طرف آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن کے 7 حلقوں میں ابھی تک عام انتخابات ہوئے ہی نہیں ہیں ،، یعنی 8 لاکھ ووٹرز جو ٹوٹل ووٹرز کا 24 فیصد بنتے ہیں ، اُنکی اسمبلی میں نمائندگی کے بغیر ہی ایک جعلی اور دو نمبر حکومت مسلط کی جا رہی ہے ، اور اِنہی حلقوں میں عوامی ایکشن کمیٹی کا دھرنا پچھلے اڑھائی ماہ سے جاری و ساری ہے ، اب اُنکے مطالبات حل کیے بغیر، آنے والی حکومت کیسے چلے گی اور کتنی مضبوط ہو گی ، یہ تو آنے والا وقت خود ہی فیصلہ کرے گا اور صورتحال مزید بھی واضح ہو جائے گی ۔
یہ ہے وہ غلیظ ترین اور گندہ نظام ، جس کی اصلاحات پر عوامی ایکشن کمیٹی پچھلے تین سال سے مسلسل آواز اُٹھا رہی ہے کہ آزاد کشمیر کا فیصلہ ، آزاد کشمیر کے لوگوں کو کرنے کا حق دیا جائے ، آزاد کشمیر کا مینڈیٹ چوری کرنے اور سیاسی انجینیرنگ کے لیے استعمال ہونے والی مہاجرین کی نشستیں ختم کی جائیں جو اپنے مرضی کے فیصلے مسلط کرنے کے لیے اسمبلی میں ووٹنگ کی شکل میں دو نمبر طریقے سے استعمال ہوتی ہیں۔
اب عوامی ایکشن کمیٹی سے بار بار جو یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ، اگر آپ نے اپنے مطالبات منوانے ہیں تو آئیں ، جمہوری عمل کا حصہ بنیں ، انتخابات میں حصہ لیں اور اسمبلی میں آ کر اپنی مرضی کی قانون سازی بھی کروا لیں ، اُنکو بھی اب جواب مل گیا ہو گا کہ ، یہاں کیسے جعلی انتخابات ہوتے ہیں ، کیسے جتوایا اور ہروایا جاتا ہے اور کیسے پارٹی کے باقی سب منتخب لوگوں کو باندھ کر اپنی مرضی کے لوگوں کو مسلط کیا جاتا ہے ، نہ پارٹی کے صدر( شاہ غلام قادر ) کی کوئی اوقات ہے جو براہ راست انتخابات جیت کر آیا اور نہ ہی پارٹی کے جنرل سیکرٹری(چوہدری طارق فاروق) کی کوئی حیثیت ہے ، جو آزاد کشمیر کے ایک سابق وزیراعظم( چوہدری انوار الحق)کو بھاری اکثریت سے شکست دے کر ممبر اسمبلی بنا۔
ہمارے ملک کی سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری عمل موجود نہیں ہے تو یہ حکومت اور نظام کے ذریعے ملک میں کیسے جمہوریت لیکر آئیں گے ،یہاں کی سیاسی جماعتوں پر چند خاندانوں کی حکمرانی ہے۔بند کمروں میں بیٹھ کر اور آمرانہ طرز پر خلافِ میرٹ فیصلے ہوتے ہیں۔
خیر پاکستان میں اگر فارم 47 کا جعلی وزیر اعظم اور جعلی حکومت مُسلط کی جا سکتی ہے تو یہ کام آزاد کشمیر میں یا کسی اور اکائی میں کرنا کونسا مشکل کام ہے ، اِسکی کام کی ابتدا تو تب ہی ہو گئی تھی جب جناح صاحب نے خود پاکستان بننے کے صرف ایک ہفتہ کے بعد 22 اگست 1947 کو خیبر پختونخوا میں ، عبد الجبار خان المعروف ڈاکٹر خان صاحب کی ایک منتخب اور اکثریتی حکومت کو گھر بھیج کر صرف 17 نشستیں جیتنے والی مُسلم لیگ کو مسلط کر کے خان عبد القیوم خان کو وزیر اعلیٰ بنا دیا تھا۔
یہ ایک مثال اس لیے سامنے رکھی گئی ہے کہ ، اگر اِس نظام کو سمجھنا ہے تو اِسکی جڑوں کو بہت پیچھے سے جا کر سمجھنا اور تجزیہ کرنا پڑے گا ، جسکی بنیاد ہی آمرانہ طرز کے فیصلوں میں پوشیدہ ہے جسکا خمیازہ ہم آج 79 سال کا جشن آزادی منانے کے بعد بھی بُگھت رہے ہیں۔
حقیقی آزادی کی تعریف کیا ہے ؟ جمہوریت کی حقیقی روح کا مطلب کیا ہے ؟ عوامی مینڈیٹ کسے کہتے ہیں ؟ سیاسی جماعتوں میں میرٹ پر فیصلے کیسے ہونے چاہئیں؟
اِن سوالات کے جوابات آج بھی حل طلب ہیں۔
واپس کریں