کشمیر میں روٹی کی مانگ پر پی ایچ ڈی سکالر کی شہادت۔ آصف اشرف
مہمان کالم
بابائے قوم مقبول بٹ شہید کو جب تختہ دار پر لٹکایا گیا تو ان کے جگری دوست احمد فراز نے اپنے جذبات اور احساسات کو مختصر الفاط میں یوں سمیٹا ۔۔۔۔بلند رتبہ جس کو ملنا تھا مل گیا ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں اس کا ایک پس منظر تھا اور پس منظر یہ کہ مقبول بٹ شہید کے ساتھ جب جہدوجہد آزادی کشمیر کا سفر اختیار کیا گیا تو بہت بڑے خاندانوں کے لوگ زیادہ سرمائے کے مالک اور زیادہ تعلیم والے بھی شامل تھے مگر رتبہ اور مقام مقبول بٹ کا وکھرا،ٹھرا،کشمیر کے خطہ میں آٹا بجلی اور وسائل پر اختیار ات کی تین سال سے جاری عوامی تحریک میں جہاں خواتین اور بچوں سمیت ایک سو کے لگ بھگ سرفروش اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں وہاں سب سے بلند رتبہ سب سے بڑی قربانی ڈاکٹر سردار اسامہ جمیل کے نام ٹھری عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان قائد اعظم یونیورسٹی میں جیالوجی میں ڈاکٹریٹ کرنے والا اسامہ جمیل کسی اہل علم اور انسان دوست معاشرے میں ہوتا پالکی میں بھٹایا جاتا اس کی خدمت پر عملہ مامور ہوتا لیکن اس کو کرایے کے قاتلوں سے شہید کروایا گیا اس کی ذہانت نہ دیکھی گئی اس کا شعور نہ سمجھا گیااس کی حیثیت نہ جانچی گئی اس کو گولیوں میں نہلا دیا گیا یہ کوئی پہلی مرتبہ بھی نہیں ہوا اس کشمیر کے سب سے بڑے حصہ میں مقبول بٹ شہید کے کارواں نے بھارت سے حصول آزادی کی خاطر جب بندوق اٹھائی تو جنوبی ایشیا کے اولین ہارٹ اسپشلسٹ ڈاکٹر عبد الاحد گرو کو پروفیسر ڈاکٹر عبدالاحد وانی کو پروفیسر ڈاکٹر فاروق عشائی کو سکالرشبیر صدیقی کو پائیلٹ انجنئیر ندیم خطیب کو اسی طرح گولیوں کا نشانہ بنایا گیا وہ گولیوں کا نشانہ بنانے والے بھارتی سورما تھے ان سے دھرتی کے یہ عظیم بیٹے آزادی مانگ رہے تھے اور اسامہ جمیل کو گولیوں کا نشانہ بنانے والے کلمہ گو اسامہ جمیل بیالیس سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے کشمیر کے لیے پیداواری لاگت پر صرف چھ سو میگاواٹ بجلی اور کشمیر کا قومی گرڈ اسٹیشن مانگ رہا تھا وہ آٹے پر انیس ارب روپیہ مافیا کو حکومتی خزانے سے دینے کے بجائے منقسم دھرتی ماں جموں کشمیر کے دوسرے بڑے حصہ گلگت بلتستان کی طرزِ پر آزاد کہلانے والے کشمیر کو گندم کی فراہمی کا مطالبہ کر رہا تھا وہ کشمیر کے ستر فیصد غیر ترقیاتی بجٹ کو ترقیاتی بجٹ میں بدلنے اور غریبوں کے ٹیکسوں سے سیاسی اور بیورو کریٹ اشرافیہ کو حاصل مراعات واپس لینے کا خواہاں تھا اس کے ہاتھ میں سفید پرچم تھا وہ جب سفید پرچم اٹھا کر نعرے لگاتا تو بچے اس کو حصار میں لے لیتے میں نے ایک محنت کش کے قہوہ فروش بچے کو دیکھا جو سیاست سے نابلد تھا اور غیر ریاستی بھی مگر اس کی خواہش ہوتی سردار اسامہ جمیل اس سے قہوہ ضرور پیے وہ قہوہ فروش بچہ کھبی اسامہ جمیل سے قہوے کے پیسے نہ لیتا اور اسامہ مجبور ہو کر قہوے کے چند گھونٹ مانگتا کہ غریب کے پیسے ضائع نہ ہوں اسامہ جمیل کے نعروں کی الگ داستان تھی وہ اپنے نعروں میں زکر کرتا روکھی سوکھی کھائیں گے گھر نہ واپس جائیں گے میں سوچتا،لینڈ لارڈ گھرانے کا چشم و چراغ کیا کہہ رہا ہے پھر اس کی شہادت کے اگلے روز وہ وقت بھی دیکھا جب وہ روکھی روٹی کھا رہا تھا پھر ہزاروں کے جم غفیر میں وہ واحد قوم پرست تھا جو اپنا قول "گھر نہ واپس جائیں گے سینے پر گولیاں کھائیں گے"" سچ ثابت کر گیا جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا مرکزی ڈپٹی چیف آرگنائزر ڈاکٹر اسامہ جمیل پوری دنیا کے طلبہ کا ہیرو بن چلا اسامہ جمیل کے گھر معصوم ہنستا مسکراتا لاشہ جب واپس پہنچا تو منگ کی سرزمین سری نگر کامنظر پیش کر رہی تھی اشفاق مجید وانی کے جسد خاکی کو ہاتھ لگانے کی سعادت حاصل کرنے کی طرح ہر پیر و جواں آج اسامہ جمیل کے تابوت تک رسائی حاصل کرنے کا خواہاں تھا ماؤں بہنوں کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے عمارتوں سے اسامہ جمیل کے تابوت پر پھولوں کی بارش ہو رہی تھی اگلے روز اسامہ جمیل منگ کی سرزمین پر جو شیر کی دھاڑ گونجوا،گیا تھا کہ فتح یاب ہو کر لوٹوں گا یا جنازہ آئے گا آج وہ سب سچ ثابت ہو چلا تھا 1832میں اسی سرزمین منگ کے سرفروشوں سردار سبز علی خان اور سردار ملی خان نے استحصالی نظام کے خلاف بغاوت کرتے ز ندہ کھالیں کھنچوا کر جو تاریخ رقم کی تھی آج 194سال بعد سردار اسامہ جمیل نے اس کو نئی طرح دی سفید پرچم اٹھا کر یہ لیلی میری آزادی میں مجنوں اس کا کے فلک شگاف نعروں کا سرخیل ڈاکٹر اسامہ جمیل تاریخ میں امر ہوگیا پیغمبر آخر نے کہا تھا تم میں ہر ایک نگہبان ہے اس سے اس کی رعایا کی پوچھ ہوگی کل روز قیامت جب میں اس مدعے کے ساتھ خدا،کی عدالت میں انصاف مانگوں گا اور کھل کر کہوں گا دنیا میں طاقت اور اختیارات کے سامنے میں بے بس تھا مگر آج روز قیامت سب برابر ہیں میرے مالک ڈاکٹر اسامہ جمیل کا جرم کیا تھا کہ وہ اپنی ریاست سے اپنے جائز حقوق مانگ رہا تھا وہ جناح والے کرنسی نوٹ پر مقبول بٹ شہید کی تصاویر کی مانگ نہیں کر رہا تھا وہ ان معاہدوں پر عملدرآمد کی مانگ کر رہا تھا جن پر بڑے بڑوں کے دستخط تھے وہ جینے کا حق مانگ رہا تھا وہ کھنڈرات سڑکوں کو شاہراہوں میں بدلنے کا مدعا،لیکر آگے بڑھ رہا تھا وہ علاج کی خاطر کشمیر کے ہسپتالوں میں مشینری مانگ رہا تھا وہ زلزلہ زدگان کی بحالی کے لیے عالمی دنیا کی بھجی پچپن ارب کی امداد جو ڈالر ریٹ میں سات سو ارب بنتی ہے جس کو تب کے وزیراعظم عتیق خان نے اپنا اقتدار بچانے آصف زرداری کی خواہش پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ٹرانسفر کیا واپس کشمیر لاکر خرچ کرنے کا متمنی تھا وہ سری نگر کی طرح میرپور میں انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قیام چاہتا تھا وہ نوے کی دہائی میں مظفرآباد آکر قیام پذیر وادی پونچھ راجوری جموں کے ہم وطن بھائیوں کے لیے قانون ساز اسمبلی میں نشستوں کا خواہاں تھا مگر اس کی آواز کو دبا دیا گیا شگاگو کے امن پسندوں کی طرح اس کے سفید پرچم کو بھی سرخ کر دیا گیا اس کی ماں سے اس کے خواب چھین لیے گئے مگر وہ تاریخ بن گیا وہ تحریک بن گیا وہ سوچ بن گیا وہ اواز،بن گیا مقبول بٹ کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ ہوا،مگر ہر گیارہ فروری کو مقبول بٹ سامنے آ جاتا ہے دنیا کا کوئی محلہ گاؤں نہیں جہاں محض چند بھی کشمیری رہتے ہوں اور مقبول بٹ شہید کا یوم شہادت نہ بنے 28 جولائی آنے دیں 2027کو اس روز کشمیر یونیورسٹی سری نگر جموں یونیورسٹی ڈوڈہ میڈیکل کالج قراقرم یونیورسٹی گلگت سے کشمیر کے ہر مکتب مدرسے اور یونیورسٹی تک اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے لاہور کراچی کوہٹہ تک یورپ سے مصر تک جب ہر طالبِ علم " میں ڈاکٹر اسامہ جمیل ہوں" کا سلوگن لیے سڑکوں پر نکلے گا تب اسامہ جمیل کی ماں کو رشک آئے گا تب اسامہ جمیل کے ہر خونی رشتے سے نظریاتی رشتہ پر ہر آنکھ رشک کرے گی آج برسوں بعد میں میں نے گناہ کر ڈالا میں جو امام حریت مقبول بٹ شہید کو دل و دماغ پر نقش کر چکا میں جو کہیں پیاروں کو ان کی موت کے بعد آنکھوں میں بسا کر رہ گیا آج میں گناہ کبیرہ کا مرتکب ٹھر گیا میرے گھر میں اسامہ جمیل کی تصویر آویزاں ہو گئی میں صبع شام اسامہ جمیل کے معصوم نورانی چہرے کی زیارت کرتا ہوں تو قدم قدم پر معصوم بچوں کے اسامہ کی یاد میں توتلے نعروں پر سکون میسر آ جاتا ہے برسوں پہلے جب اسامہ جمیل کا آئیڈیل گل نواز بٹ شہید دارالحکومت کے گلیوں بازاروں میں جلوس لیکر نکلتا کارکن پوچھتے بٹ صاحب مین سڑک کے بجائے گلیوں محلوں میں جلوس کیوں لیکر نکلتے ہیں گل نواز بٹ کہتے گھروں میں موجود نئی نسل کو شعور دے رہا ہوں گل نواز بٹ بھی چل بسا مگر آج نیلم سے بھمبر صبع شام سہولت کار وں کے گھروں سے مزاحمت کار وں کے مسکن تک معصوم بچوں نے ایک آواز پیدا کر دی اسامہ جمیل ان نعروں کا عنوان بن گیا اسامہ جمیل گیت بن گیا کل یہی بچے ہر گھر ہر محلہ جب اسامہ کے نعروں سے سامنے آئیں گے تو وہ انقلاب برپا ہوگا جو اسامہ جمیل کا خواب تھا جس انقلاب کو برپا کرنے اسامہ جمیل نے کئیر یر قربان کر دیا میں تصورات کی دنیا میں وہ منظر دیکھ رہا ہوں جب بابائے قوم مقبول بٹ شہید کے ساتھ چاہنے والوں کا ہجوم ہوگا وہاں منفرد اور نمایاں ممتاز اور معتبر وکھرے انداز میں جنت الفردوس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے والوں میں ڈاکٹر اسامہ جمیل بھی ہوگا ہاں اس وقت شکوہ کروں گا اسامہ جمیل رات کے اندھیرے میں مجھے گھر روانہ کر کے تم کس سفر پر چل نکلے تھے وہ روکھی سوکھی روٹی تمیں دنیا کی لذتوں سے کتنی دور کر چلی تھی اسامہ جمیل تم کتنے خوش بخت ٹھرے 1832کے بعد 194سال کوئی تاریخ نہ بنا سکا تم نے حق چار یار کی سنت ز ندہ کر ڈالی نوے سالہ بزرگ کمانڈر فاروق کے ساتھ سبز علی خان ملی خان کے ساتھ اب ڈاکٹر اسامہ جمیل اور کمانڈر فاروق تاریخ کا حصہ بن گئے اسامہ جمیل تو سرخرو ہے تو تیری یاد کھبی نہ بھولے گی نہ جانے کیوں تیری جدائی کا زخم ہر اگلے وقت کرب میں غم میں دکھ میں شدت ہی پیدا،کر رہا ہے ۔۔۔بار یابی جو ہو کھبی حضور مالک تو کہنا ۔۔۔ایسے سوختہ جاں وہاں اور بھی ہیں ۔۔۔اپنے رستے ہوئے زخموں کے نشان دیکھلا کر کہنا ۔۔ایسے تمغوں کے طلب گار وہاں اور بھی ہیں۔
واپس کریں