
آزاد کشمیر میں مرحلہ وار ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ واضح فرق کے ساتھ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔ پورے ایوان میں ایک نشست آزاد جموں و کشمیر دست و بازو پارٹی کی ہے۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد گزشتہ روز وزیراعظم کا انتخاب بھی مکمل کر لیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا۔ آزاد کشمیر کا محلِ وقوع اور اس کی حیثیت وہاں ایک مضبوط حکومت اور سیاسی استحکام کی متقاضی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین بلیم گیم جاری رہی، جبکہ انتخابی عمل کے دوران بھی کشیدگی نظر آئی۔ دونوں پارٹیاں پاکستان میں وفاق کی سطح پر اتحادی ہیں، اس لیے آزاد کشمیر میں بھی دونوں سے جمہوری رویوں کی امید کی جا رہی تھی۔مسلم لیگ (ن) کو وہاں اکثریت حاصل ہوئی، تاہم وزیراعظم کی نامزدگی کے دوران مسلم لیگ (ن) متحد نظر نہیں آئی۔ بیرسٹر افتخار گیلانی اپنی نشست ہار گئے تھے، تاہم مخصوص نشست پر کامیاب ہونے کے بعد پارٹی قیادت نے انہیں وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر دیا۔ کچھ مقامی لیگی رہنماؤں کی جانب سے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جس کا اظہار میڈیا میں بھی ہوتا رہا۔ اندرونی معاملات کا اس طرح میڈیا میں اچھلنا قیادت کی پارٹی پر کمزور گرفت کا عکاس ہے جس سے نئے وزیراعظم کے لیے معاملات کو سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے۔کابینہ کی تشکیل سے قبل پارٹی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ ناراض رہنماؤں کے تحفظات دور کرکے پارٹی کو مضبوط بنائے جو سیاسی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔نئی حکومت کو فہم و ادراک کے ساتھ کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بٹھا کر ان سے بات چیت کی جائے تاکہ باہمی اختلافات کم ہوں اور بھارت کو کشمیر میں کسی نئی شرارت کا موقع نہ ملے۔
واپس کریں