
یہ سوال صرف جذباتی نہیں، بلکہ ان معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہے۔
۱۔ کنٹرول اور طاقت
عوام کو قابو میں رکھنے کاخوف سب سے مؤثر آلہ یا ٹول ہے ۔ جب لوگ خوفزدہ ہوں تو وہ زیادہ سوال نہیں کرتے، زیادہ اطاعت کرتے ہیں اور اپنی آزادی کو “تحفظ” کے نام پر قربان کر دیتے ہیں۔ حکمران، ادارے یا گروہ حقیقی یا فرضی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ اپنی طاقت مضبوط رکھ سکیں۔
۲۔میڈیا اور منافع
میڈیا کا کاروبار توجہ پر چلتا ہے۔ خوف، غصہ اور سنسنی سب سے زیادہ کلکس، ویوز اور ریٹنگز دیتے ہیں۔ خوف کو پیکیج بنا کر بیچا جاتا ہے۔ حقیقت سے زیادہ ڈراما زیادہ منافع دیتا ہے۔
۳۔ اقتصادی مفادات
خوف سے بہت سی صنعتیں چلتی ہیں:سیکیورٹی سسٹمز، گارڈز، سی سی ٹی وی،انشورنس، ادویات اور صحت
یہاں تک کہ سیاسی مہم جوئی بھی۔جب لوگ محفوظ محسوس نہ کریں تو وہ پیسہ خرچ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔۴ ۴۔گروہی شناخت اور اتحاد
خوف "ہمیں" اور "انھیں "میں تقسیم پیدا کرتا ہے۔ مشترکہ دشمن یا خطرہ لوگوں کو ایک گروہ میں باندھ دیتا ہے۔ سیاسی جماعتیں، مذہبی گروہ یا نظریاتی تحریکیں اکثر اس کا استعمال کرتی ہیں تاکہ اپنے حامیوں کو متحرک رکھیں۔
۵۔ انسانی نفسیات
انسان فطری طور پر نقصان سے بچنے کے لیے خطرے کے اشاروں پر زیادہ ردعمل دیتا ہے۔ دماغ مثبت خبر سے زیادہ منفی خبر کو یاد رکھتا ہے ۔ اس لیے خوف کو بیچنا آسان اور مؤثر ہے۔ہر خوف برا نہیں لیکن حقیقی خطرات مثلاً جرائم، بیماریاں اور قدرتی آفات سے آگاہی ضروری ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب خوف کو حقیقت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر، مسلسل اور جان بوجھ کر فروخت کیا جائے۔ خوف تب تک فروخت ہوتا رہے گا جب تک لوگ اسے خریدتے رہیں۔ سوال کرنا، حقائق کی جانچ کرنا، اور خوف کے پیچھے مفادات کو سمجھنا اس “تجارت” کو کمزور کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
واپس کریں