
آزاد کشمیر کے لیے ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والے شخص کو وزیراعظم بنانا ایک تباہ کن فیصلہ ہوگا۔ یہ آزاد کشمیر کے عوام کے ووٹوں کی توہین ہوگی۔
حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے 25 ممبران اسمبلی نے نشستیں جیت لی ہے ان 25 الیکشن جیتنے والوں میں سے کسی ایک شخص کو وزیر اعظم کے لیے نامزد کیا جائے۔
اگر ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والے شخص کو وزیراعظم بنایا گیا تو کل یہی مثال دیتے ہوئے اوورسیز نشست پر منتخب ہونے والے شخص کو بھی وزیراعظم بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔ اس کے بعد پاکستان میں بھی اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے ارکان کو وزیراعظم یا وزیراعلیٰ بنانے کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔
یہ ایک انتہائی غلط Precedent قائم ہوگا، جس کے دور رس سیاسی اور جمہوری اثرات مرتب ہوں گے۔
میاں نواز شریف صاحب کو اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے ان 25 ارکان میں سے کسی ایک کو وزیراعظم نامزد کرنا چاہیے جنہوں نے براہِ راست عوام کا ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس سے عوام کے ووٹ کی عزت بھی برقرار رہے گی اور جمہوری روایت بھی مضبوط ہوگی۔
ایسے تباہ کن اور جمہوریت دشمن مشورے کون دے رہا ہے نواز شریف صاحب کو ایسے مشورہ دینے والوں سے خود کو اور پارٹی کو دور رکھنا ہوگا۔
واپس کریں