محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان میں سیاست کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ ہم اقتدار کے حصول کی جنگ کو عوامی خدمت کا متبادل سمجھ بیٹھے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، الزام تراشی، سیاسی بیان بازی اور محاذ آرائی میں ہماری توانائیاں صرف ہوتی رہتی ہیں، جبکہ اصل مقابلہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ کون ساحکمران اپنے شہریوں کو بہتر صحت، معیاری تعلیم، صاف پانی، اچھی سڑکیں اور باعزت زندگی کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ راقم ہمیشہ سے اٹھارویں آئینی ترمیم کا حامی رہا ہے۔ میری رائے میں صوبائی خودمختاری پاکستان کے وفاقی نظام کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر 1971ء سے قبل صوبوں کو اپنے معاملات میں زیادہ اختیار، وسائل اور فیصلہ سازی کی گنجائش حاصل ہوتی تو شاید ہماری تاریخ مختلف ہوتی اور مغربی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہ بنتا۔ اٹھارویں ترمیم نے صحت، تعلیم، ترقیاتی منصوبہ بندی اور دیگر کئی شعبوں میں صوبوں کو فیصلہ سازی کا اختیار دیا۔ اب یہ صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اختیار کو محض سیاسی طاقت کے طور پر نہیں بلکہ عوامی خدمت کے وسیلے کے طور پر استعمال کریں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہر صوبے نے اٹھارویں ترمیم سے یکساں فائدہ نہیں اٹھایا۔ کہیں اچھی مثالیں موجود ہیں تو کہیں گورننس کے مسائل بدستور عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ لیکن اگر صوبائی خودمختاری کا حقیقی مقصد سامنے رکھا جائے تو چاروں صوبوں کے درمیان ایک مثبت مقابلہ پیدا ہونا چاہیے: کون سی جماعت کون سا حکمران عوام کو بہتر سہولت دیتا ہے؟ کون کم وسائل میں زیادہ کام کرتا ہے؟ اور کون اپنے منصوبوں کو وقت پر مکمل کرتا ہے؟
پنجاب میں صحت کے شعبے میں بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن، جدید تشخیصی سہولیات، ٹیلی میڈیسن، ٹرانسپلانٹ پروگرام، پاکستان کا سب سے بڑا کینسر ہسپتال، بچوں کے دل کے آپریشن، ڈائلیسز اور ایئر ایمبولینس جیسے اقدامات نمایاں ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں متعدد نئے پروگرام، دانش اسکول، لیپ ٹاپ پروگرام، آئی ٹی لیبارٹریوں اور اسکول انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری جاری ہے۔میٹرو ٹرین، میٹرو بس، الیکٹرک بس، سڑکوں کی تعمیر و بحالی، رنگ روڈز اور مختلف دو رویہ شاہراہیں بھی ترقیاتی ترجیحات میں شامل ہیں۔
سندھ بھی صحت، پانی، سیوریج اور شہری انفراسٹرکچر کے میدان میں بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ، گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم، شاہراہِ بھٹو اور مختلف شہری و دیہی روڈ منصوبے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے کے سامنے بنیادی شہری سہولیات کا چیلنج کتنا بڑا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ منصوبہ کتنا بڑا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ عام شہری کو اس کا فائدہ کب اور کس معیار کے ساتھ ملتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ پلس، بنیادی مراکز صحت اور ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی سرگرمیاں، سوات ایکسپریس وے فیز ٹو اور مختلف پانی و سڑکوں کے منصوبے اہم ہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ریاستی سہولیات تاریخی طور پر کم رہی ہیں، وہاں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور معیار کو قومی ترجیح سمجھا جانا چاہیے۔
بلوچستان کا معاملہ سب سے زیادہ توجہ کا متقاضی ہے۔ وسیع رقبے، کم آبادی اور دشوار جغرافیہ کے باعث یہاں ایک اسکول، ہسپتال، سڑک یا پانی کی اسکیم پہنچانا دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے۔ اس کے باوجود سولر واٹر سپلائی اسکیمیں، ضلعی ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، نرسنگ کالجز، تعلیمی اداروں، کوئٹہ کراچی شاہراہ کی بہتری اور گوادر میں صفائی و سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبے اہم پیش رفت ہیں۔ بلوچستان میں ترقی صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا مسئلہ بھی ہے۔
صاف پانی اور صفائی کے شعبے میں بھی چاروں صوبوں کے درمیان صحت مند مقابلے کی بے پناہ گنجائش ہے۔ پنجاب میں دیہی و شہری علاقوں کے لئے ستھرا پنجاب پروگرام، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبے زیر عمل ہیں۔ سندھ میں کراچی کے پانی اور سیوریج کے نظام کی بہتری پر توجہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں دور دراز علاقوں کی پانی کی اسکیموں کی بحالی اور سولرائزیشن ہو رہی ہے، جبکہ بلوچستان میں سولر واٹر سپلائی اسکیمیں اہم ضرورت پوری کر رہی ہیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بھی ہے: کیا صرف منصوبے شروع کرنا ہی کامیابی ہے؟ یقیناً نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب دیہات میں نلکے سے واقعی صاف پانی آئے، سرکاری اسکول میں استاد باقاعدگی سے موجود ہو، بنیادی مرکز صحت میں ڈاکٹر اور ضروری ادویات دستیاب ہوں، مریض کو علاج کے لیے بڑے شہر کا رخ نہ کرنا پڑے، سڑک تعمیر ہونے کے بعد چند ماہ میں ٹوٹ نہ جائے اور شہری کا کچرا باقاعدگی سے اٹھایا جائے۔
آج پاکستان کے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزراء اور سیاسی قیادت کے سامنے ایک خوبصورت چیلنج رکھا جا سکتا ہے: آئیے ایک دوسرے سے سیاسی جنگ نہیں، عوامی خدمت میں مقابلہ کریں۔ پنجاب کہے کہ ہم تعلیم میں آگے نکلیں گے، سندھ جواب دے کہ ہم پانی اور شہری سہولیات میں مثال قائم کریں گے۔ خیبر پختونخوا کہے کہ ہم دور افتادہ علاقوں تک صحت اور تعلیم پہنچائیں گے، بلوچستان اعلان کرے کہ ہم مشکل جغرافیے کے باوجود بنیادی سہولیات کی فراہمی میں سب کو حیران کر دیں گے۔ یہ مقابلہ پاکستان کو تقسیم نہیں کرے گا، بلکہ مضبوط کرے گا۔
بحث و مباحثہ بہت ہوچکا۔ الزام تراشی بھی بہت ہوگئی۔ سیاسی لڑائیاں بھی بہت دیکھ لیں۔ اب وقت ہے کہ سیاست کا رخ بدلیں۔ آئیے اسپتال، سکول، صاف پانی، سڑکیں بنانے، روزگار پیدا کرنے اور عوام کی زندگی آسان بنانے میں مقابلہ کریں۔
واپس کریں