
14 اگست 2026ء کو بری امام سرکارؒ کے عرس کی تقریب میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کو معاشی قوت بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ یقیناً ایک اچھی خواہش ہے کہ پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہو، لیکن اسی مزار پر یہی موقع تھا جب دو سال پہلے، یعنی 2024ء میں، ان سے منسوب ایک ایسا بیان بھی یاد آتا ہے جس نے معاشیات کے طالب علموں کے لیے شاید ایک نیا باب کھول دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بری امام سرکارؒ کے عرس کی برکت سے پاکستان معاشی قوت بنے گا اور جلد دنیا کی چوبیسویں بڑی معیشت بن جائے گا۔
اب سوال عرس کا نہیں، اسحاق ڈار صاحب کے معاشی استدلال کا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے میں شاید بہت دیر ہوگئی کہ ملکوں کی معیشتیں صنعت، تجارت، برآمدات، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، انسانی وسائل، سستی توانائی، سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی سے نہیں بلکہ برکت کے ایک نئے معاشی فارمولے سے بھی ترقی کرسکتی ہیں۔ اگر واقعی یہ نسخہ دریافت ہوچکا ہے تو پھر وزارتِ خزانہ کے افسران کو بجٹ کے اعدادوشمار پر سر کھپانے کی کیا ضرورت ہے؟ اقتصادی ماہرین کو دنیا بھر کے معاشی ماڈل پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ سرمایہ کاروں کو سہولت دینے، صنعتوں کو بجلی فراہم کرنے، برآمدات بڑھانے اور ٹیکس نظام بہتر بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ بس عرس کی تاریخیں دیکھ لیجیے، انتظامات کیجیے اور ملکی معیشت کے اگلے درجے کا انتظار کیجیے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کسی مزار، عرس یا مذہبی اجتماع سے مقامی معاشی سرگرمی ضرور پیدا ہوسکتی ہے۔ ہزاروں یا لاکھوں زائرین آتے ہیں، ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں، کھانا خریدتے ہیں، رہائش اختیار کرتے ہیں، دکانوں سے خریداری کرتے ہیں۔ اس طرح مقامی سطح پر کاروبار، روزگار اور آمدنی پیدا ہوتی ہے۔ یہ معاشیات ہے اور اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
لیکن مقامی کاروباری سرگرمی کو اٹھا کر اسے پاکستان کی مجموعی قومی معیشت کی ترقی کا بنیادی سبب قرار دینا ایک بالکل مختلف دعویٰ ہے۔
پاکستان میں بڑے بڑے مزارات ہیں۔ ان سے وابستہ اوقاف کی املاک ہیں، دکانیں ہیں، کرائے ہیں، نذرانے ہیں، عطیات ہیں، چندے ہیں اور لاکھوں زائرین سے وابستہ ایک وسیع غیر رسمی معیشت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ سب ہونا چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس معاشی سرگرمی کا اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟ زائرین کو؟ مقامی کاروباری طبقے کو؟ اوقاف کو؟ حکومت کو؟ یا گدی نشینوں کی معیشت کو؟
اگر حکومت ان سرگرمیوں سے وصولیاں کرتی ہے تو ایک دوسرا سوال بھی بنتا ہے: کیا یہ آمدنی پاکستان کی پیداواری معیشت میں سرمایہ کاری بنتی ہے یا سرکاری پروٹوکول، انتظامی اخراجات اور نمائشی سرگرمیوں میں خرچ ہوجاتی ہے؟
اور اگر عرس کی برکت سے قومی معیشت مضبوط ہونی ہے تو پھر یہ بھی بتا دیا جائے کہ برکت کا حصہ مجموعی قومی پیداوار میں کس کھاتے میں درج کیا جائے گا؟ صنعت میں؟ خدمات میں؟ زراعت میں؟ برآمدات میں؟ یا وزارتِ خزانہ کے کسی ایسے خفیہ خانے میں جس کا علم ابھی تک معاشیات کی کتابوں کو نہیں ہوسکا؟
جناب اسحاق ڈار صاحب خود وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ اس لیے قوم ان سے کسی عام سیاسی مقرر سے زیادہ سنجیدہ معاشی گفتگو کی توقع کرتی ہے۔ وزیر خزانہ جب معیشت کی بات کرتا ہے تو قوم یہ سننا چاہتی ہے کہ بجلی سستی کیسے ہوگی، گیس کی قیمت کیسے کم ہوگی، صنعت کا پہیہ تیزی سے کیسے چلے گا، برآمدات کیسے بڑھیں گی، روپے پر دباؤ کیسے کم ہوگا، سرمایہ کاری کیسے آئے گی، ٹیکس چوری کیسے ختم ہوگی اور ریاست اپنے اخراجات کو کیسے قابو کرے گی۔
قوم یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ کاروباری آدمی ہر روز نئے ضابطوں، اجازت ناموں، محکموں اور اہلکاروں کے چکر سے کب آزاد ہوگا۔ سرمایہ کار کو کب یقین ہوگا کہ اس کا سرمایہ محفوظ ہے؟ صنعت کار کو کب معلوم ہوگا کہ اگلے بجٹ میں اس پر کون سا نیا بوجھ ڈال دیا جائے گا؟ نوجوان کو کب یقین ہوگا کہ ڈگری کے بعد اسے سفارش نہیں بلکہ میرٹ پر روزگار ملے گا؟
اور سب سے اہم بات: ریاست اپنے ٹیکس دہندہ شہری کو عزت کب دے گی؟
جو شخص اپنی آمدنی میں سے ریاست کو ٹیکس دیتا ہے، اسے ریاست کا دشمن نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ وہ ریاست کا شریکِ کار ہے۔ اس کے پیسے سے سڑک بنتی ہے، سکول چلتا ہے، ہسپتال بنتا ہے، پولیس کی تنخواہ ملتی ہے، سرکاری مشینری چلتی ہے اور ریاست اپنے اخراجات پورے کرتی ہے۔ اگر حکومت ٹیکس دینے والے کو عزت دے، اس کے لیے نظام آسان کرے اور اس کے پیسے کو شفاف انداز میں استعمال کرے تو ٹیکس کا دائرہ خود وسیع ہوسکتا ہے۔
معیشت پروٹوکول سے نہیں، پیداوار سے مضبوط ہوتی ہے۔ معیشت تقریروں سے نہیں، پالیسی کے تسلسل سے مضبوط ہوتی ہے۔ معیشت دعاؤں کے خلاف نہیں، مگر دعاؤں کے ساتھ عملی تدبیر کی محتاج ہوتی ہے۔
ہمیں سستا اور قابلِ اعتماد توانائی کا نظام چاہیے۔ ہمیں کاروبار دوست قوانین چاہییں۔ ہمیں امن چاہیے۔ ہمیں قانون کی حکمرانی چاہیے۔ ہمیں ایسی عدالتیں چاہییں جہاں سرمایہ کار کو معلوم ہو کہ اس کا حق برسوں فائلوں میں دفن نہیں ہوگا۔ ہمیں ایسی بیوروکریسی چاہیے جو کاروبار کو سہولت دے، کاروبار کو اپنا شکار نہ سمجھے۔ ہمیں ایسی ٹیکس مشینری چاہیے جو ٹیکس دہندہ کو عزت دے اور ٹیکس چور کو پکڑے۔ ہمیں تعلیم، ہنر، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری چاہیے۔ ہمیں برآمدی صنعت چاہیے۔ ہمیں دنیا کے ساتھ مسابقت کرنے والی معیشت چاہیے۔
اور اگر یہ سب کرنے کے بعد بری امام سرکارؒ کے عرس کی برکت بھی شاملِ حال ہوجائے تو بھلا اس سے بہتر بات کیا ہوگی۔
مگر عرس کو معاشی پالیسی کا متبادل بنانا اور معاشی ترقی کے پیچیدہ سوال کا جواب ایک روحانی برکت میں تلاش کرنا ایک سابق وزیر خزانہ کی طرف سے کم از کم اتنا سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ آخر وہ قوم کو معاشیات پڑھا رہے تھے یا امید کا کوئی نیا نصاب؟
دو سال پہلے کہا گیا تھا کہ عرس کی برکت سے پاکستان دنیا کی چوبیسویں بڑی معیشت بنے گا۔ دو سال گزر گئے، 2026ء میں بھی پاکستان کو معاشی قوت بنانے کی بات ہورہی ہے۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ برکت کے ساتھ ساتھ حساب کتاب بھی کرلیا جائے۔
آخر میں ایک عاجزانہ تجویز ہے: اگلی بار بجٹ پیش کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ بجٹ دستاویز میں ایک نیا باب بھی شامل کرے: ’’قومی معیشت پر عرسوں کے متوقع اثرات‘‘۔ اس میں ہر مزار کے لیے معاشی اہداف مقرر کیے جائیں، ہر عرس کے لیے ترقی کا ہدف رکھا جائے اور سال کے اختتام پر دیکھا جائے کہ پاکستان چوبیسویں معیشت کے کتنے قریب پہنچا۔
اور اگر یہ بھی کامیاب نہ ہو تو پھر شاید مسئلہ عرس کی برکت میں نہیں، ہماری معاشی پالیسی میں ہے۔
اس موقع پر مجھے لاہور کے ایک نوسرباز کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ واقعہ اتنا دلچسپ ہے کہ کبھی کبھی گمان ہوتا ہے کہ شاید اسحاق ڈار صاحب نے بھی اسی صاحب سے مزاراتی معیشت کا کوئی مختصر کورس کیا ہو۔
اس شخص نے اخبار میں اشتہار دیا کہ اسے تین وقت کے کھانے پر ایک ملازم کی ضرورت ہے۔ کوئی تنخواہ نہیں، کوئی نقد اجرت نہیں؛ بس تین وقت کا مرغن کھانا دیا جائے گا۔ پاکستان کے طبقاتی نظام کے ستائے ہوئے ایک بے روزگار گریجویٹ نے اشتہار پڑھا، ٹھنڈی سانس لی اور دل ہی دل میں کہا: چلو، یہ بھی غنیمت ہے، ویسے بھی ملازمت تو پیٹ پوجا ہی کے لیے کی جاتی ہے۔
نوجوان دیے گئے پتے پر پہنچا۔ مختصر انٹرویو ہوا اور اسے ملازمت کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ اس نے مالک سے پوچھا: ’’میری ڈیوٹی کیا ہوگی؟‘‘
مالک نے سامنے پڑے بڑے بڑے برتنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’یہ اٹھاؤ، تین وقت داتا دربار جاؤ، وہاں سے کھانا لاؤ، مجھے بھی کھلاؤ اور خود بھی رج کر کھاؤ۔‘‘
بس، یہی وہ مقام ہے جہاں اسحاق ڈار صاحب کی مزاراتی معیشت کا فلسفہ شاید مزید آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لاہور کے اس نوسرباز نے ایک بے روزگار نوجوان کو ملازمت کے نام پر داتا دربار کا چکر لگانے پر لگا دیا تھا، جبکہ ہمارے معاشی دانشور اگر واقعی عرس کی برکت کو قومی معاشی قوت کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو شاید پوری قوم کو یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ برتن اٹھاؤ، مزار پر جاؤ، کھانا لاؤ، برکت حاصل کرو اور اسے قومی پیداوار سمجھ لو۔
بے شک، کوئی برا خیال نہیں؛ کم از کم اس میں بجلی، گیس، صنعت، برآمدات، سرمایہ کاری، ٹیکس اصلاحات اور روزگار جیسے مشکل سوالات کا سامنا کرنے کی ضرورت تو نہیں پڑتی۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قومیں برکت سے حوصلہ ضرور حاصل کرسکتی ہیں، معیشت مگر برتن اٹھا کر نہیں، پیداوار بڑھا کر بنتی ہے۔
واپس کریں