ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
تاریخ کے ایوانوں میں کتنے ہی تخت آئے، کتنے ہی تاج چمکے اور کتنی ہی سلطنتیں اپنی قوت و شوکت کے نشے میں زمانے پر سایہ فگن ہوئیں؛ مگر وقت کی گرد نے سب کے نقوش مٹا دیے۔ اس کے برخلاف ایک ایسی ریاست بھی گزری جس کا اقتدار تلوار کی دھار سے زیادہ کردار کی قوت پر قائم تھا، جس کی سیاست مصلحت سے خالی نہ تھی مگر اصول سے بے وفا بھی نہ تھی، اور جس کی حکومت میں حاکم کو اقتدار کا مالک نہیں بلکہ امانت کا حامل سمجھا گیا۔ یہی وہ مدنی سیاست تھی جس نے انسانی تاریخ کو یہ سبق دیا کہ ریاست کا اصل جوہر عمارتیں، لشکر اور خزانے نہیں، بلکہ عدل، امانت، شوریٰ، عہد اور انسان کی حرمت ہے۔
سیاستِ نبوی ﷺ کا پہلا پیغام یہ ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، ذریعۂ خدمت اور امانتِ الٰہی ہے۔ قرآن کہتا ہے: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا۔ حکمرانی اسی وقت عبادت بنتی ہے جب منصب نفس کی تسکین نہیں، خلقِ خدا کی خدمت بن جائے۔ آج کا سیاست دان اگر کرسی کو منزل سمجھتا ہے تو نبوی سیاست اسے یاد دلاتی ہے کہ کرسی عارضی ہے، جواب دہی دائمی۔
دوسرا سبق شوریٰ ہے۔ قرآن نے اہلِ ایمان کی صفت ہی یہ بیان کی: وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ۔ نبوی طرزِ حکمرانی میں مشورہ محض نمائشی رسم نہ تھا؛ جنگ و امن جیسے حساس معاملات میں بھی اصحابِ رائے کو شریک کیا گیا۔ آج کے حکمرانوں کے لیے اس میں یہ واضح پیغام ہے کہ اختلافِ رائے ریاست کی کمزوری نہیں، اجتماعی عقل کی قوت ہے۔ جو حاکم صرف ہاں میں ہاں ملانے والوں کو پسند کرے، وہ دراصل اپنی حکومت کے گرد خاموشی کی ایسی دیوار تعمیر کرتا ہے جس کے باہر حقیقت دم توڑ رہی ہوتی ہے۔
تیسرا اور سب سے بڑا اصول عدل ہے۔ نبوی سیاست میں دوست اور مخالف، قوی اور ضعیف، حاکم اور محکوم قانون کے سامنے یکساں تھے۔ اقتدار کا حسن یہ نہیں کہ اس کے مخالف خاموش ہوں؛ اصل حسن یہ ہے کہ کمزور بھی اس کے سامنے اپنے حق کے لیے کھڑا ہوسکے۔ سیرتِ نبوی ﷺ میں قضاء، انتظام اور اجتماعی نظم سب عدل کے اسی تصور سے وابستہ دکھائی دیتے ہیں۔
چوتھا سبق عہد کی پاسداری اور سیاسی بصیرت ہے۔ صلحِ حدیبیہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ عظیم سیاست ہمیشہ فوری کامیابی کا نام نہیں؛ کبھی بظاہر پسپائی میں مستقبل کی فتح پوشیدہ ہوتی ہے۔ قرآن نے اسی معاہدے کو فتحاً مبیناً قرار دیا۔ نبوی سیاست ہمیں سکھاتی ہے کہ جذباتی نعرے ریاستیں نہیں بناتے؛ دوراندیشی، صبر اور اصولی مصلحت تاریخ کا رخ بدلتے ہیں۔
اور پھر فتحِ مکہ آتی ہے، جہاں اقتدار انتقام کا سب سے بڑا موقع بن سکتا تھا، مگر رحمت نے انتقام کو مغلوب کردیا۔ یہ منظر ہر فاتح حکمران سے پوچھتا ہے: جب تمہارے ہاتھ میں طاقت آجائے تو تمہارا کردار کیا ہوگا؟ کیا تم مخالف کو کچلو گے یا اسے اپنے اخلاق سے فتح کرو گے؟ نبوی سیاست کا جواب واضح ہے: طاقت کا کمال انتقام لینے میں نہیں، انتقام کی قدرت رکھتے ہوئے عفو اختیار کرنے میں ہے۔
آج سیاست شخصیات کے گرد گھوم رہی ہے، ادارے کمزور اور جماعتیں مفادات کی اسیر ہیں، انتخابی وعدے اکثر اقتدار تک پہنچنے کی سیڑھی بن جاتے ہیں، اور حکمرانی کبھی خدمت کے بجائے غلبے کا وسیلہ دکھائی دیتی ہے۔ ایسے عہد میں سیاستِ نبوی ﷺ کسی ماضی پرستی کا عنوان نہیں بلکہ مستقبل کی اخلاقی ضرورت ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنا اقتدار ہے؛ سوال یہ ہے کہ اقتدار ہمارے اندر کتنا عدل پیدا کرتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنے مخالفین کو شکست دی؛ سوال یہ ہے کہ ہماری حکمرانی نے کتنے دل جیتے۔ اور اصل کامیابی یہ نہیں کہ تاریخ ہمیں فاتح لکھے؛ کامیابی یہ ہے کہ جب تاریخ ہمارا احتساب کرے تو وہ ہمیں امین، عادل، صاحبِ بصیرت اور خادمِ خلق پائے۔
یہی سیاستِ نبوی ﷺ کا وہ ابدی پیغام ہے جس کے سامنے ہر عہد کا تاج، ہر ایوانِ اقتدار اور ہر صاحبِ منصب ایک دن خاموش کھڑا ہوگا۔
واپس کریں