دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
طالبان سے طالبان تک۔ خالد خان
No image پاکستان کی تاریخ کو اگر محض سیاسی حکومتوں، مارشل لاؤں، انتخابات اور آئینی ترامیم کی تاریخ سمجھا جائے تو اس ملک کے موجودہ بحران کی بہت سی کڑیاں ہماری نظروں سے اوجھل رہ جائیں گی۔ پاکستان کی ایک دوسری تاریخ بھی ہے؛ یہ پراکسی جنگوں، غیر ریاستی مسلح گروہوں، مذہبی بیانیوں، جہاد، جنگی معیشت اور ان سب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی تبدیلیوں کی تاریخ ہے۔ میرے نزدیک آج پاکستان جس بڑے داخلی تصادم کے امکان کی طرف بڑھ رہا ہے، اسے سمجھنے کے لیے اس تاریخ کو دوبارہ پڑھنا ضروری ہے۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد کشمیر کا محاذ کھلا اور قبائلی لشکروں کے ذریعے جنگ لڑی گئی۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں البدر اور الشمس جیسے گروہوں کو بنگالی قوم پرست تحریک کے مقابل کھڑا کیا گیا۔ افغانستان میں سوویت مداخلت کے بعد جہاد ایک عالمی سیاسی و عسکری منصوبے کی شکل اختیار کر گیا۔ بعد کے برسوں میں افغانستان اور کشمیر سمیت مختلف محاذوں پر مذہبی جذبے، جہاد اور غیر ریاستی جنگجوؤں کا استعمال پاکستان کی تزویراتی سوچ کا حصہ بنتا گیا۔ ریاست ہر دور میں اپنے اقدامات کے لیے اپنے دلائل رکھتی رہی؛ کہیں قومی سلامتی، کہیں نظریاتی سرحدوں کا دفاع، کہیں اسلام، کہیں جہاد اور کہیں قومی مفاد کو جواز بنایا گیا۔
لیکن ہر جنگ کا ایک جغرافیہ بھی ہوتا ہے، اور پاکستان کی طویل جنگی تاریخ کا سب سے بڑا بوجھ پشتون خطے نے اٹھایا۔
افغان جنگ کے دوران سرحدی اور قبائلی علاقوں میں جہادی ڈھانچے پروان چڑھے۔ مدارس کی تعداد اور اثر میں اضافہ ہوا، مذہبی قوتوں کو سیاسی و سماجی اہمیت ملی، اسلحہ اور منشیات کی معیشت نے جگہ بنائی اور جنگ سے وابستہ ایک نیا طبقہ ابھرا۔ جنگی معیشت نے ایسے جنگ سالار اور مسلح طاقت کے حامل افراد پیدا کیے جو روایتی معاشرتی قیادت سے مختلف تھے۔ بہت سے مقامی مشران، دانشور، فنکار اور ترقی پسند آوازیں جنگ اور تشدد کی نذر ہوئیں۔
یہ صرف سیاسی تبدیلی نہیں تھی؛ یہ معاشرتی انجینئرنگ تھی۔
ایک معاشرہ جو کبھی جرگے، موسیقی، شاعری، ادبی نشستوں، رقص، روایتی دانش اور مقامی سماجی قیادت کے ذریعے اپنی شناخت بناتا تھا، وہاں مسلسل جنگ نے خوف، بندوق اور مذہبی انتہا پسندی کو طاقت کے نئے پیمانے بنا دیا۔ روشن فکر اور ترقی پسند آوازوں کے لیے جگہ سکڑتی گئی۔ فنون لطیفہ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ موسیقی کو گناہ، اختلاف کو بغاوت اور سوال کو گستاخی سمجھنے والا ذہن مضبوط ہوتا گیا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ریاست نے جس ماحول کو بیرونی جنگوں کے لیے مفید سمجھ کر پروان چڑھایا، وہ بالآخر پاکستان کے اندر واپس نہیں آیا؟
ٹی ٹی پی اسی سوال کا ایک خوفناک جواب ہے۔
جو لوگ کبھی "اچھے" اور "برے" جنگجوؤں کی بحث میں فرق کرتے رہے، تاریخ نے بالآخر انہیں دکھایا کہ بندوق کے ہاتھ میں آنے کے بعد ریاست کے مقرر کردہ مقاصد ہمیشہ بندوق کی وفاداری کی ضمانت نہیں ہوتے۔ ایک نظریہ جب مسلح ہو جائے تو وہ اپنے خالق یا سابق سرپرست کی مرضی کا پابند نہیں رہتا۔ وہ اپنے مقاصد، اپنی تعبیر اور اپنی جنگ خود متعین کرنے لگتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی موجودہ مشکل شروع ہوتی ہے۔
آج ریاست کو صرف پہاڑوں میں موجود مسلح گروہوں سے خطرہ نہیں۔ اصل خطرہ اس وسیع تر ذہنی اور سماجی ماحول کا ہے جس میں تشدد کو کبھی مقدس، کبھی جائز اور کبھی قومی یا مذہبی فریضہ سمجھنے کی تربیت دی گئی۔ پہاڑوں میں بندوق اٹھانے والا دہشت گرد اور شہر میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی اقلیت کو نشانہ بنانے والا جنونی بظاہر مختلف دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن دونوں کے پیچھے اگر مخالف کو انسان اور شہری کے بجائے دشمن سمجھنے والی ذہنیت موجود ہے تو مسئلہ بنیادی طور پر ایک ہی فکری بحران کا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی احمدی یا مسیحی شہری کے خلاف مذہبی نفرت، کسی الزام پر ہجوم کے ہاتھوں قتل، کسی مخالف مسلک کے خلاف تشدد، یا روشن فکر اور اختلافی آوازوں کو طاقت کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کو محض الگ الگ واقعات سمجھنا خطرناک ہے۔ یہ سب معاشرے میں قانون کی جگہ مذہبی یا ہجومی طاقت کے بڑھتے ہوئے اثر کی علامتیں ہو سکتی ہیں۔
یہاں "جہادی" کی اصطلاح کو بھی صرف پہاڑوں میں موجود مسلح جنگجو تک محدود کرنا مسئلے کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ جہادی ذہن ایک ذہنی تسلسل بھی ہو سکتا ہے؛ ایک ایسا تصور جس میں دنیا کو حق اور باطل کے دو خانوں میں تقسیم کیا جائے، مخالف کو دشمن سمجھا جائے، اختلاف کو برداشت نہ کیا جائے اور مقصد کے حصول کے لیے جبر یا تشدد کو اخلاقی جواز فراہم کر دیا جائے۔ اس ذہن کا آخری سرا بندوق ہو سکتا ہے، لیکن اس کی ابتدا ہمیشہ بندوق سے نہیں ہوتی۔
اور اب پاکستان ایک عجیب تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔
ریاست اور مذہبی سیاسی قوتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو صرف آج کی سیاسی لڑائی سمجھنا شاید تاریخی غلطی ہوگی۔ مولانا فضل الرحمان اس بحث کا مرکز نہیں بلکہ اس بڑے تضاد کی ایک موجودہ سیاسی مثال ہیں۔ ان کے افغان طالبان سے رابطے، کابل کے ساتھ سیاسی تعلقات اور افغان امور پر ان کے مؤقف نے ریاستی حلقوں اور ان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو مزید نمایاں کیا ہے۔
حال ہی میں افغان طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ سے مولانا فضل الرحمان کے مبینہ ٹیلی فونک رابطے کے بارے میں صحافی اور افغان امور کے ماہر عقیل یوسفزئی نے ایک ویڈیو پروگرام میں انتہائی سنجیدہ دعویٰ کیا۔ چونکہ یہ دعویٰ ایک ایسے صحافی کی طرف سے سامنے آیا جو طویل عرصے سے افغانستان اور عسکریت پسندی کے موضوع پر کام کرتے رہے ہیں، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا؛ تاہم کسی مبینہ خفیہ فون کال کے مندرجات کو حتمی حقیقت قرار دینے کے لیے اصل ریکارڈ یا آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
لیکن اس بحث کا اصل سوال مولانا فضل الرحمان نہیں ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں ریاست اور مذہبی سیاسی و سماجی قوتوں کا ٹکراؤ مستقبل کا سب سے بڑا داخلی تنازع بن سکتا ہے؟
اگر ایسا ہوا تو ریاست کو ایک ایسے طبقے سے لڑنا پڑے گا جسے گزشتہ کئی دہائیوں میں خود ریاستی پالیسیوں نے مختلف ادوار میں سیاسی، سماجی یا تزویراتی طاقت فراہم کی۔ یہی اس بحران کی سب سے خطرناک ستم ظریفی ہے۔
ٹی ٹی پی کی صورت میں ریاست پہلے ہی اس تجربے کا ایک انتہائی پرتشدد نتیجہ دیکھ چکی ہے۔ لیکن اگر یہی تصادم مذہبی سیاسی اور سماجی سطح پر پھیل گیا تو اس کے نتائج صرف سیکیورٹی آپریشنز سے نہیں سنبھالے جا سکیں گے۔
میرا خدشہ یہ ہے کہ ریاست شاید اس مسئلے کو ابھی بھی بنیادی طور پر سیکیورٹی کا مسئلہ سمجھ رہی ہے، جبکہ یہ دراصل ریاست، معاشرے، تعلیم، مذہب، سیاست اور قومی شناخت کا بحران بن چکا ہے۔
اگر ریاست مذہبی انتہا پسندی کو صرف بندوق سے شکست دینے کی کوشش کرے گی تو وہ ہر مارے جانے والے جنگجو کے ساتھ ایک نیا جنگجو پیدا ہونے کا امکان ختم نہیں کر سکے گی۔ دہشت گردی کے خلاف فوجی کارروائی ضروری ہو سکتی ہے، لیکن کافی نہیں۔
جس مقدار میں معاشرے میں جہادی اور انتہا پسندانہ ذہن سازی کی گئی، اس سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ روشن فکری کا تریاق دینا ہوگا۔
اور روشن فکری سے مراد مذہب دشمنی نہیں ہے۔
روشن فکری کا مطلب سوال کرنے کی آزادی ہے۔ سائنس سے محبت ہے۔ اختلاف برداشت کرنا ہے۔ موسیقی، ادب، شاعری اور فنون لطیفہ کو معاشرے کا جائز حصہ سمجھنا ہے۔ عورت، اقلیت، مخالف مسلک اور مخالف سیاسی جماعت کے انسان ہونے اور برابر شہری ہونے کو تسلیم کرنا ہے۔ تاریخ کو جنگی ہیروز کی داستان کے بجائے تنقیدی شعور کے ساتھ پڑھنا ہے۔ مدرسے کے طالب علم کو جدید دنیا سے جوڑنا ہے اور جدید تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان کو مذہبی تعصب سے محفوظ رکھنا ہے۔
سب سے بڑھ کر ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ شہری پیدا کرنا چاہتی ہے یا جنگجو؟
پاکستان کو اگر اس بحران سے نکلنا ہے تو اسے اپنے سماجی مزاج کو دوبارہ متوازن کرنا ہوگا۔ ہمیں اس پاکستان کی طرف واپس دیکھنا ہوگا جہاں مذہب موجود تھا مگر ہر سیاسی اختلاف مذہبی جنگ نہیں بنتا تھا؛ جہاں موسیقی، ادب، سینما اور شاعری معاشرتی زندگی کا حصہ تھے؛ جہاں ترقی پسند سوچ کو غداری نہیں سمجھا جاتا تھا؛ جہاں ریاست کا بنیادی کام شہری کو تحفظ دینا تھا، اس کے ذہن کی نگرانی کرنا نہیں۔
ستر کی دہائی کا پاکستان بھی کوئی مثالی پاکستان نہیں تھا۔ وہاں اپنی سیاسی اور سماجی خامیاں تھیں۔ مگر اس دور کے نسبتاً زیادہ متنوع ثقافتی، فکری اور سماجی ماحول سے ہم یہ سبق ضرور لے سکتے ہیں کہ ایک معاشرہ مذہبی شناخت رکھتے ہوئے بھی ثقافتی، علمی اور فکری طور پر کشادہ ہو سکتا ہے۔
آج پاکستان کو اسی کشادگی کی ضرورت ہے۔
ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مذہبی قوتوں کو ایک بار پھر کسی نئے تزویراتی مقصد کے لیے استعمال کرے گی یا مستقل طور پر اس سیاست سے دستبردار ہوگی جس میں مذہب کو ریاستی طاقت کے حصول کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔
کیونکہ تاریخ کا سبق بہت سادہ ہے:
جس آگ کو آپ دوسروں کے گھر جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس کے لیے کوئی ضمانت نہیں کہ وہ ایک دن آپ کے اپنے گھر تک نہیں پہنچے گی۔
پاکستان نے کئی دہائیوں تک جہاد کو خارجہ اور سلامتی کی پالیسی کا ایک آلہ سمجھا۔ اس تجربے کی قیمت پاکستان نے افغانستان، کشمیر، قبائلی علاقوں، شہروں، بازاروں، مساجد، مدارس، سکولوں، فوجی جوانوں اور عام شہریوں کی لاشوں کی صورت میں ادا کی ہے۔
اب وقت ہے کہ ریاست یہ تسلیم کرے کہ بندوق سے صرف دہشت گرد ختم ہوتا ہے، دہشت گردی کی ذہن سازی نہیں۔
اگر واقعی اس جنگ کا آخری باب لکھنا ہے تو ریاست کو صرف دہشت گردوں سے نہیں، اس پورے فکری ماحول سے لڑنا ہوگا جو دہشت گرد پیدا کرتا ہے۔
اور اس جنگ کا ہتھیار بندوق نہیں ہوگا۔
اس کا ہتھیار تعلیم، سائنس، ادب، موسیقی، فنون لطیفہ، تنقیدی فکر، شہری آزادی اور قانون کی بالادستی ہوگا۔
پاکستان کو جہادی ذہن سازی کے مقابلے میں اتنی ہی شدت سے روشن فکری کی قومی تحریک شروع کرنا ہوگی جتنی شدت سے کبھی جہادی بیانیہ تشکیل دیا گیا تھا۔
ورنہ خطرہ یہ نہیں کہ پاکستان ایک جنگ ہار جائے گا۔
خطرہ یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسی نسل پیدا کرتا رہے گا جو ہر اختلاف کو جنگ سمجھتی ہے۔
اور جس معاشرے میں ہر اختلاف جنگ بن جائے، وہاں آخرکار ریاست اور معاشرہ دونوں ہار جاتے ہیں۔
واپس کریں