
اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے جاری تنازعۂ کشمیر کے بارے میں اپنے موقف پر قائم و دائم ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفین دوجارک نے نیویارک میں ادارے کے ہیڈکوارٹرز میں معمول کی بریفنگ کے دوران بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کی جانب سے جموں و کشمیر کی حیثیت کے بارے میں حالیہ بیان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں سفیر کے بیان پر تبصرہ نہیں کر رہا، ہمارا موقف وہی ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ کشمیر کے تنازعہ پر اقوام متحدہ کا موقف یہ رہا ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کو تقریباً آٹھ دہائیوں کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے مگر یہ تنازعہ آج بھی جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ نے کئی دہائیاں قبل کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دینے کے لیے قراردادیں منظور کی تھیں جن میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اس متنازعہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ خود کشمیری عوام آزادانہ رائے شماری کے ذریعے کریں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت نے ان قراردادوں کو کبھی سنجیدگی سے قبول نہیں کیا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان سے مسلسل انحراف کرتا رہا۔ 5 اگست 2019ء کو آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-اے کے یکطرفہ خاتمے نے اس رویے کو مزید واضح کر دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ برسوں کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل سوالیہ نشان بنی رہی ہے۔ عالمی سطح پر مختلف اداروں اور اقوام متحدہ سے وابستہ ماہرین کی رپورٹیں اس امر کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ مقبوضہ وادی میں صحافیوں، طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریاں، عوامی سطح پر جبر، مواصلاتی بندشیں اور میڈیا پر پابندیاں معمول بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں اب تک ناکام کیوں رہا ہے؟ بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں، ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیاں اور مقامی زمینوں کی ملکیت کے قوانین میں نرمی جیسے اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے تحت متنازعہ علاقوں میں غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ کا کردار محض بیانات جاری کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے سفارتی، سیاسی اور اگر ضرورت پڑے تو دیگر ذرائع بھی بروئے کار لائے تاکہ کشمیری عوام کو حق خود ارادیت حاصل ہو سکے۔
واپس کریں