دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سیاسی قیادت کا منفی کردار اور بھیانک انجام
خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کا 5 سالہ دور، سیاسی قیادت کا سیاسی و ذاتی مفادات پر مبنی منفی کردار، اور اس کا بھیانک انجام:
مورخہ 25 جولائی 2021 کو آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 11ویں عام انتخابات ہوئے جس میں حسبِ روایت پاکستان کی وفاقی حکومت کی فرنچائز پی ٹی آئی نے انتخابات میں برتری حاصل کی۔
مورخہ 04` اگست 2021 کو وزیراعظم کا انتخاب ہوا جس میں تحریک انصاف کے امیدوار عبدالقیوم نیازی نے 33 ووٹ حاصل کیے جبکہ متحدہ اپوزیشن (پی پی، ن لیگ) کے امیدوار لطیف اکبر نے 15 ووٹ حاصل کیے، اس طرح نیازی وزیراعظم منتخب ہو گئے۔
ٹھیک 8 ماہ گزرنے کے بعد پیسے اور دولت نے منہ نکالا جس کے باعث وزیراعظم نیازی کے خلاف ان کی اپنی ہی جماعت نے عدمِ اعتماد کی تحریک لائی جس کے بعد عبدالقیوم نیازی نے استعفیٰ پیش کر دیا۔ وزیراعظم کے انتخابات ہوئے لیکن تنویر الیاس کی دولت نے وہ رنگ دکھایا کہ بڑے بڑے اصولی سیاستدان اس میں بہہ گئے اور تنویر الیاس کے مقابلے میں پی پی اور ن لیگ نے کوئی امیدوار پیش کرنے کی بھی جسارت نہیں کی اور یوں تنویر الیاس اپنی واحد اہلیت دولت کے زور پہ 18` اپریل 2022 کو بلامقابلہ وزیراعظم منتخب ہو گئے۔
ایک سال مکمل ہونے سے قبل ہی 11` اپریل 2023 آزاد جموں کشمیر ہائیکورٹ نے تنویر الیاس کو 2 سال کیلئے نااہل قرار دیا جس کے بعد 19 اور 20 اپریل 2023 کی درمیانی رات یعنی 29 رمضان کی رات 01 بجے اسمبلی کا اجلاس طلب ہوا اور 53 کے ایوان میں سے 48 ارکان نے چوہدری انوارالحق کو بلامقابلہ اور مشترکہ وزیراعظم منتخب کر لیا۔ یہ واقع دراصل مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے جمہوری واویلے اور اصولی سیاست کی زندہ مثال ہے اور اصولوں کا ڈھنڈورا پیپٹے والا کا اصل چہرہ ہے۔
پھر آخری معرکہ یوں ہوا کہ انوارالحق کے خلاف عدم اعتماد پیش ہوئی جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے فیصل ممتاز راٹھور 36 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ انوار الحق کے حصے میں 2 ووٹ آئے۔ اس عدم اعتماد میں ن لیگ کے ارکان نے فیصل ممتاز راٹھور کو وزارت عظمیٰ کا ووٹ دیا اور کمال چالاکی سے اپوزیشن میں جا بیٹھے۔
یہ داستان پچھلے 5 سالوں کی ہے۔ اس دوران ان جماعتوں اور بالخصوص فاروق حیدر، شاہ غلام قادر، سردار عتیق احمد خان کے کردار نے قانون ساز اسمبلی کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا ظہور ہوا جس کو سنجیدہ نہ لیا گیا اور اسمبلی و حکومت کو دانستہ طور پر الگ رکھ کر غیر مؤثر کر دیا۔ اس عوام کو دہشتگرد قرار دینے، غیرملکی فنڈنگ کے الزام اور چوکوں میں پھانسی دینے تک کے مطالبات کیے گئے۔
اب ایسے کردار جو اپنی ریاست، اپنی قوم اور اپنے اداروں کی ساکھ کا لحاظ نہ کرنے والے ہوں تو ایسوں کو ان کی فرنچائز کے مالکوں نے خاک عزت دینی ہے۔ یہ سب کچھ اپنے ہاتھوں کا بویا اور اپنے کردار کا کمایا بھگت رہے ہیں۔
اب پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں۔
یاد رہے کہ آج وزارتِ عظمیٰ کے انتخابات میں بھی انہوں نے نامزد امیدوار کو ہی ووٹ دینا ہے اور پھر باہر نکل کر دوبارہ اصولی بننے کے نعرے لگانے ہیں۔
واپس کریں