دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جب سیلاب کو خدا کا فیصلہ اور سائنس کو نظرانداز کیا جائے
No image رپورٹ خالد خان ۔ نیپال میں آنے والی حالیہ تباہ کن سیلابی صورتِ حال کے پس منظر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں دو افراد مبینہ طور پر بدھ مت کو اس قدرتی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے اور اسلام قبول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو درست ہے یا جعلی، پرانی ہے یا نئی، اس کی الگ تحقیق ضروری ہے، مگر اس سے زیادہ اہم وہ ذہنی رویہ ہے جو ایسی ویڈیوز کو جنم دیتا اور پھر انہیں مذہبی فتح کے طور پر پھیلاتا ہے۔
یہ رویہ صرف کسی ایک مذہب تک محدود نہیں۔ تقریباً ہر مذہبی معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو زلزلے کو گناہوں کی سزا، سیلاب کو خدا کا غضب، وبا کو کسی مخصوص گروہ کے اعمال کا نتیجہ اور خشک سالی کو مذہبی انحراف کی علامت سمجھنے لگتے ہیں۔ مسئلہ خدا پر ایمان نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم قدرت کے واقعات کو سمجھنے کے لیے سائنس کی جگہ اپنے وہم کو بٹھا دیتے ہیں۔
کائنات کسی انسانی عقیدے کے مطابق نہیں چلتی۔ زمین اپنے محور کے گرد گردش کرتی ہے، سورج کے گرد چکر لگاتی ہے، سمندروں میں مدوجزر پیدا ہوتا ہے، بادل بنتے ہیں، بارش ہوتی ہے، برف پگھلتی ہے، دریاؤں میں پانی بڑھتا ہے، زمین کی پرتیں حرکت کرتی ہیں اور پہاڑوں سے برفانی تودے گرتے ہیں۔ ان تمام مظاہر کے پیچھے طبیعی قوانین کام کر رہے ہیں۔
اگر نیپال میں سیلاب آیا ہے تو پہلا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "کون سا مذہب غلط تھا؟" پہلا سوال یہ ہونا چاہیے کہ "پانی کہاں سے آیا، اتنی تیزی سے کیوں آیا، کس جغرافیائی عمل نے اسے متحرک کیا اور اس تباہی کی شدت کن عوامل نے بڑھائی؟"
یہی سائنس کا طریقہ ہے۔
قدرتی آفت کے سامنے کھڑا سائنس دان آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کسی مذہب کو مجرم قرار نہیں دیتا۔ وہ درجۂ حرارت ناپتا ہے، بارش کا ریکارڈ دیکھتا ہے، گلیشیئرز کی کیفیت کا جائزہ لیتا ہے، دریا کے بہاؤ کا مطالعہ کرتا ہے، زمین کی ساخت کا تجزیہ کرتا ہے اور پھر ایک قابلِ آزمائش توضیح پیش کرتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے: قدرت کے قوانین مذہب، نسل، قوم اور سرحد سے بے نیاز ہیں۔
اگر ایک ہندو پہاڑ سے گرتا ہے تو کششِ ثقل اسے نیچے کھینچتی ہے۔ اگر ایک مسلمان گرتا ہے تو کششِ ثقل اس کے لیے بھی وہی ہے۔ اگر زلزلہ آتا ہے تو زمین کی ٹیکٹونک پلیٹیں کسی شخص کے عقیدے کا شناختی کارڈ نہیں دیکھتیں۔ اگر سیلاب آتا ہے تو پانی یہ نہیں پوچھتا کہ گھر میں قرآن ہے، گیتا ہے، بائبل ہے یا تری پٹک۔
یہی قدرت کا غیر جانب دار نظام ہے۔
پھر ہم کیوں ہر قدرتی حادثے کو اپنے مذہب کی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں؟
اس کی ایک وجہ انسانی ذہن ہے۔ انسان اتفاقی واقعات میں بھی معنی اور تعلق تلاش کرتا ہے۔ اگر کسی مذہبی شخص نے دعا کی اور اس کے بعد بارش ہوگئی تو وہ دونوں واقعات کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں مذہبی تنازع کے بعد زلزلہ آجائے تو کوئی شخص اسے آسمانی سزا قرار دے سکتا ہے۔ لیکن دو واقعات کا ایک کے بعد دوسرا واقع ہونا، ان کے درمیان علت و معلول کا ثبوت نہیں ہوتا۔
یہی سائنسی سوچ اور توہم کے درمیان بنیادی فرق ہے۔
سائنس پوچھتی ہے: ثبوت کہاں ہے؟
توہم کہتا ہے: مجھے تعلق محسوس ہوتا ہے، لہٰذا یہی حقیقت ہے۔
مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہوجاتا ہے جب مذہبی یقین کو سائنسی دعوے کے طور پر پیش کیا جانے لگے۔ خدا پر ایمان ایک مابعد الطبیعیاتی سوال ہے؛ لیکن سیلاب کیوں آیا، زلزلہ کیوں آیا، بیماری کیسے پھیلی، گلیشیئر کیوں پگھلا اور طوفان کیوں پیدا ہوا—یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب طبیعی دنیا کے مشاہدے اور تجربے سے تلاش کیے جاتے ہیں۔
یہاں مذہبی انسان کے لیے ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر خدا نے ایک ایسی کائنات پیدا کی ہے جس میں باقاعدہ قوانین موجود ہیں تو پھر ان قوانین کا مطالعہ کرنا خدا سے دوری کیسے ہوسکتا ہے؟
جب ایک مسلمان سائنس دان کششِ ثقل، خلیے، جینیات، موسمیات یا کائناتی ارتقا کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ دراصل کائنات کے اندر موجود نظم و ضبط کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ اسے ہر مرتبہ کسی قدرتی واقعے کے پیچھے براہِ راست مافوق الفطرت سبب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔
اور اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ خدا نے کسی خاص موقع پر طبیعی قوانین سے ماورا مداخلت کی تو یہ ایک اضافی دعویٰ ہے۔ اسے بھی دلیل چاہیے۔ صرف اس لیے کہ کسی واقعے کی مکمل وضاحت ابھی ہمارے پاس نہیں، یہ ثابت نہیں ہوجاتا کہ اس کا سبب لازماً کوئی مافوق الفطرت قوت ہے۔
جہالت، خدا کا ثبوت نہیں۔
ہماری تاریخ میں جب بجلی کو نہیں سمجھا جاتا تھا تو آسمانی بجلی کو دیوتاؤں کے غصے سے جوڑا جاتا تھا۔ جب بیماریوں کے جراثیمی اسباب معلوم نہیں تھے تو وباؤں کو جادو، بدروحوں یا آسمانی عذاب سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ جب سورج گرہن کی حقیقت معلوم نہیں تھی تو اسے بدشگونی سمجھا جاتا تھا۔ سائنس نے ان مظاہر کے اسباب سمجھائے تو دنیا ختم نہیں ہوئی؛ بلکہ انسان کی لاعلمی کم ہوئی۔
آج بھی ہمارے سامنے یہی امتحان ہے۔
ایک طرف سیٹلائٹ موجود ہیں، موسمیاتی ماڈل موجود ہیں، گلیشیئرز کی نگرانی ہورہی ہے، زلزلوں کے اعداد و شمار جمع کیے جارہے ہیں، مصنوعی ذہانت قدرتی خطرات کی پیش گوئی میں استعمال ہورہی ہے؛ دوسری طرف ہم ایک موبائل ویڈیو دیکھ کر اعلان کردیتے ہیں کہ "فلاں مذہب کی وجہ سے سیلاب آیا"۔
یہ سائنسی دور میں رہتے ہوئے ذہنی طور پر قدیم دنیا میں واپس چلے جانے کے مترادف ہے۔
اور اس سوچ کا نقصان صرف علمی نہیں، عملی بھی ہے۔
اگر ہم سیلاب کو خدا کا غضب کہہ کر مطمئن ہوجائیں تو ہم دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات روکنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ اگر ہم زلزلے کو صرف سزا سمجھیں گے تو ناقص عمارتوں کے خلاف قانون نافذ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔ اگر ہم وبا کو صرف گناہوں کا نتیجہ سمجھیں گے تو صحت کے نظام، ویکسین، صفائی اور وبائی تحقیق کی اہمیت کم ہوجائے گی۔
یعنی توہم انسان کو ذمہ داری سے آزاد کردیتا ہے، جبکہ سائنس اسے ذمہ دار بناتی ہے۔
قدرتی آفت میں سب سے پہلے انسان کو انسان بننے کی ضرورت ہوتی ہے، مناظرہ باز بننے کی نہیں۔
سیلاب میں ڈوبتے ہوئے انسان کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس کا مذہب غلط ہے۔ اسے کشتی چاہیے۔ اسے خوراک چاہیے۔ اسے محفوظ مقام چاہیے۔ اسے طبی امداد چاہیے۔ اور آئندہ سیلاب سے بچنے کے لیے اسے بہتر منصوبہ بندی، مضبوط انفراسٹرکچر، درست موسمیاتی پیش گوئی اور ماحولیاتی تحفظ چاہیے۔
اگر کسی شخص نے کسی آفت کے بعد مذہب تبدیل کیا ہے تو یہ اس کا ذاتی حق اور ذاتی تجربہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اس ذاتی تجربے کو سائنسی ثبوت بنا دینا ایک منطقی غلطی ہے۔
کسی شخص کا مذہب تبدیل کرنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ سیلاب اس کے سابق مذہب کی وجہ سے آیا تھا۔
جس طرح کسی شخص کا مذہب تبدیل نہ کرنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کا مذہب درست ہے۔
مذہبی عقیدہ اپنی جگہ، سائنسی حقیقت اپنی جگہ۔
ہمیں دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کی بجائے ان کے دائرے سمجھنے ہوں گے۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر ہم واقعی خدا کو کائنات کا خالق سمجھتے ہیں تو ہمیں اس کائنات کے قوانین کا احترام بھی کرنا چاہیے۔ پھر دریا کو دریا سمجھنا ہوگا، گلیشیئر کو گلیشیئر، زلزلے کو ٹیکٹونک عمل، وبا کو حیاتیاتی مسئلہ اور موسمیاتی تبدیلی کو سائنسی حقیقت۔
ہر چیز کو غیبی سزا قرار دینا نہ ایمان کی طاقت ہے نہ عقل کی۔
یہ ہمارا وہم ہے جس نے صدیوں سے انسان کو حقیقت کے بجائے اپنی تعبیرات کا اسیر بنا رکھا ہے۔
آنکھیں کھولنے کا مطلب خدا کو چھوڑنا نہیں۔
آنکھیں کھولنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے نام پر اپنے وہم کو خدا کا قانون کہنا چھوڑ دیا جائے۔
اور شاید آج مذہبی انسان کے لیے سب سے بڑی دعوت یہی ہے:
قدرت کو پڑھو۔
اس کے قوانین سمجھو۔
ثبوت تلاش کرو۔
اور جہاں تم نہیں جانتے، وہاں یہ کہنے کی دیانت پیدا کرو کہ "میں نہیں جانتا۔"
کیونکہ "میں نہیں جانتا" علم کی شکست نہیں؛ علم کی پہلی سیڑھی ہے۔
واپس کریں