دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نئے صوبے بہانہ ہے، نیا نظام لے کر آنا ہے۔ سعود بن نعمان
No image پاکستان میں عموماً کچھ مطالبات محض اس لئے جنم پاتے ہیں کہ ان کے ذریعے سیاسی حرارت بھانپی جا سکے۔ صدارتی نظام کا نفاذ، کالاباغ ڈیم کی تعمیر، و دیگر ایسی کچھ مثالیں ہیں۔ ان مطالبات میں سب سے توانا اور تقویت پانے والا مطالبہ نئے صوبوں کا قیام ہے، جو ہر چند سال بعد دم پکڑتا ہے اور کچھ ہی عرصے میں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ پیچھے رہ جاتی ہیں مراعات جو اس مطالبے کے علمبرداروں کے حصے میں آتی ہیں۔
اسی مطالبے کی تازہ لہر گذشتہ ہفتے اٹھی، جب تاجروں کے اجتماع سے خطاب میں محسن نقوی صاحب نے فرمایا کہ جس نظام میں ہم سانس لے رہے ہیں وہ ناکام ہو چکا ہے، اور اسی روانی میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی بحث کو پھر سے ہوا دے دی۔ بعد ازاں یہی صدا فواد چودھری، محمد علی درانی اور رضا حیات ہراج و دیگر کی جانب سے دہرائی گئی۔ یہ محض اتفاق ہے یا وقت کی ستم ظریفی کہ ان میں سے کئی کی سیاسی پرورش مشرف کے غاصبانہ دور میں ہوئی۔
بنیادی نکتہ یہ نہیں کہ کہا کیا گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کہنے والا کون؟ اہل حکمت نے یہ گتھی یوں سلجھائی کہ قول کے وزن اور افادیت کو پرکھنے کے لئے قائل کا تقابلی جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ سو جب نظام کے اندر بیٹھے لوگ نظام کے ناکام ہونے کا اعلان کریں، تو یہ محض شکایت نہیں ہوتی، مقصد کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔
مگر مقصد جو بھی ہو، آئینی حقیقت یہ ہے کہ نیا صوبہ نہ تقریروں سے بنتا ہے نہ نعروں سے؛ اگر بننا ہے تو صرف آئینی ترمیم سے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کی رو کے مطابق نئے صوبے کا قیام صرف آئینی ترمیم سے ہی ممکن ہے، نہ کہ کسی قرارداد سے۔ آئینی ترمیم کے لئے جس صوبے کی حدیں بدلنی ہوں اس کی صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت، اور بعد ازاں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ گویا ایک نہیں، تین تالے؛ اور تینوں کی چابیاں تین مختلف، اکثر باہم حریف، ہاتھوں میں۔ سو معاملہ نیت کا نہیں، گنتی کا ہے۔
گنتی کا جائزہ لیا جائے تو پہلا ہی تالا نہیں کھلتا۔ سینیٹ میں حکومتی اتحاد کے پاس دو تہائی اکثریت سرے سے موجود ہی نہیں؛ یعنی بحث کے آغاز ہی پر اسے روڑوں نہیں، بلکہ چٹان کا سامنا ہے۔ اور جب پہلا تالا ہی بند ہو، تو باقی دو چابیوں کا امتحان بہت دور کی بات ہے۔
ماضی پر نظر ڈالیں تو 2012 میں پیپلز پارٹی نے فرحت اللہ بابر کی سربراہی میں پارلیمانی کمیشن ترتیب دیا جس نے جنوبی پنجاب صوبے کی سفارش کی۔ بظاہر تو یہ نئے صوبے کا مطالبہ تھا لیکن درحقیقت مقصد پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے قلعے میں نقب لگانا تھا۔ جواباً مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی میں پوٹھوہار صوبے کی قرارداد جمع کرا دی، راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال پر مشتمل ایک نیا صوبہ، جو محض پیپلز پارٹی کے وار کا جواب تھا۔ نتیجہ؟ نہ جنوبی پنجاب بنا، نہ پوٹھوہار؛ بس دونوں نے اپنی اپنی بساط پر ایک ایک مہرہ آگے سرکا لیا۔
یہی مہرہ سندھ اور بالخصوص کراچی کی سیاست کا خاصہ رہا ہے۔ یہاں صوبے کا پتّا درحقیقت صوبے کی تشکیل کے لئے نہیں، سودے بازی کے لئے کھیلا گیا۔ 2008 سے 2013 تک متحدہ قومی موومنٹ اقتدار میں شریک ہوتے ہوئے بھی ہر چند ماہ بعد بدکتی، اور مہاجر یا کراچی صوبے کا مطالبہ کرتی اور ساتھ بلدیاتی نظام کی چھری بھی میز پر رکھ دیتی۔ جب بھی متحدہ روٹھتی تو رحمٰن ملک نائن زیرو کا رخ کرتے اور اسے منا لاتے۔
2011 میں گورنر عشرت العباد نے کراچی اور حیدرآباد میں ایک نظام اور باقی سندھ میں کمشنری نظام بحال کیا تو اندرون سندھ طوفان اٹھا کہ سندھ بانٹا جا رہا ہے؛ چند ہی روز میں وہ حکم واپس لے لیا۔ پھر 2012 میں متحدہ نے قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبوں کا آئینی بل پیش کر دیا، سرائیکی یا ہزارے والوں کی محبت میں نہیں، بلکہ کراچی اور حیدرآباد کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبے کو تقویت دینے کے لئے۔ اور جب گرد بیٹھی تو تصویر صاف تھی کہ کوئی نیا صوبہ نہ بنا، البتہ متحدہ کے حصے میں عشرت العباد کی شکل میں 2002 سے لے کر 2016 تک بے لگام گورنری، وزارتیں اور اس کا مطلوبہ بلدیاتی نظام آیا؛ اور پیپلز پارٹی کے حصے میں سندھ حکومت اور اس کے منہ کھولتے خزانے آئے۔
اگر صوبہ محض طاقت اور ارادے سے بنتا تو ضیا الحق بنا چکے ہوتے، وہ آمر جنہوں نے پورے آئین کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالا، جنہیں کسی قسم کی اکثریت درکار نہ تھی، وہ خود اکثریت تھے۔ 1983 میں قائم ہونے والے انصاری کمیشن نے، جسے ضیا نے نظام حکومت کو بہتر بنانے کے لئے مولانا ظفر احمد انصاری کی سربراہی میں بٹھایا تھا، دیگر سفارشات کے ساتھ چاروں صوبوں کو درجن بھر سے زائد انتظامی اکائیوں میں بانٹنے کی تجویز بھی دی؛ اور یہی وہ کمیشن تھا جس نے صدارتی، غیر جماعتی نظام کی سفارش کی۔ مگر ضیا غیر جماعتی انتخابات تو کرا گئے، نیا صوبہ بنانے کا حوصلہ نہ ہوا۔
پھر مشرف آئے، ہاتھ میں جرنیلی ڈنڈا اور جیب میں تابع اسمبلی۔ انہوں نے 2001 کے بلدیاتی نظام کے تحت ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک اختیارات تو سونپے، مگر یہ صوبوں کی تشکیل نو نہ تھی؛ بلکہ منتخب ناظمین کے ذریعے صوبائی نمائندگان کو بائی پاس کرنے کا بندوبست تھا۔ جب ایسے طاقتور آمر، جو کسی پارلیمان کو جواب دہ نہ تھے، کوئی صوبہ نہ بنا سکے، تو آج کا نظام، جو اختیار کے لحاظ سے ان سے کہیں کمزور ہے، اس کام کا بوجھ کیسے اٹھا سکتا ہے
تاریخی ستم یہ بھی ہے کہ اس ملک میں صوبوں کا نقشہ اسی وقت بدلا جب آئین ایک جنبش قلم سے تبدیل کیا جاتا تھا۔ گورنر جنرل اسکندر مرزا نے 1955 میں چاروں صوبوں کو سی کر ون یونٹ بنایا؛ بعد ازاں 1970 میں جنرل یحییٰ خان نے لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) کے ذریعے اسی ون یونٹ کو چیر کر پھر چار صوبوں میں تبدیل کر دیا۔ اسی فرمان کے نتیجے میں بلوچستان کو پہلی مرتبہ مکمل صوبے کی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ سب دو تہائی ووٹ کے نتیجے میں نہیں بلکہ وقت کے آمر کے حکم صادر کرنے پر ہوا۔ پس منظر وجہ واضح ہے کہ پارلیمانی نظام اختیار کی تقسیم پر قائم ہے، جب کہ صدارتی طرز حکومت اختیار کی مرکزیت کو سہولت فراہم کرتا ہے۔ گویا صوبے کا مطالبہ تو بس ایک استعارہ ہوتا ہے؛ درکار نظام کی تبدیلی ٹھہرتی ہے۔
درحقیقت ان مطالبات کی راہ خود حکمرانوں نے اپنی عدم کارکردگی کی بدولت ہموار کی ہے۔ معیشت کی تباہی، سیاسی بیانیے اور حکمرانوں کا عوامی رابطہ نہ ہونا، اور بین الاقوامی سطح پر کامیابیوں اور ثالثی کے طور پر خود کو منوانے کے باوجود ان کے ثمر کا عوام تک نہ پہنچنا؛ ان سب وجوہات کی بنا پر حکومت اپنی جگہ کھو رہی ہے؛ اور نتیجتاً مانگ صوبوں کی ہے، مگر مطلوب نظام ہے۔
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
واپس کریں