
یکم اکتوبر سے شروع ہونیوالے ربیع سیزن کے دوران گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 25فیصد آبی قلت کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ ملک کے دو بڑے ڈیموں میں پانی کی کمی ہے۔ گزشتہ برس ربیع سیزن کے آغاز پر تربیلا اور منگلا ڈیم میں تقریباً 13ملین ایکڑ فٹ پانی موجود تھا جبکہ اس سال یہ ذخیرہ ساڑھے نو ملین ایکڑ فٹ سے بھی نیچے آ چکا ہے۔ آبی ذخائر میں کمی کی بڑی وجوہ میں دریائی بہاؤ میں کمی‘ خصوصاً دریائے جہلم میں کم پانی‘ اور خریف سیزن کے دوران ان ڈیموں سے نسبتاً زیادہ اخراج شامل ہے۔ ربیع کی سب سے اہم فصل گندم ہے۔ 25فیصد آبی قلت کے باعث گندم کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ ربیع سیزن میں پانی کی قلت نہیں تھی اس کے باوجود ملک میں مقررہ ہدف کے مقابلے میں گندم کی پیداوار میں دو ملین ٹن سے زائد کی کمی دیکھی گئی تھی جس کی وجہ سے حکومت کو اب گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔
لیکن اس بار آبی قلت اس بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ اسلئے حکومت کو کسی نئے بحران کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی سے گندم کیلئے ہنگامی آبپاشی منصوبہ بنانا چاہیے۔ ارسا اور صوبائی محکمہ آبپاشی کو مشترکہ طور پر ضلع وار پانی کی دستیابی اور گندم کے زیر کاشت رقبے کا تخمینہ تیار کرنا چاہیے تاکہ محدود پانی کو زیادہ اہم اور زیادہ پیداواری علاقوں تک منصفانہ انداز میں پہنچایا جا سکے۔ اسی طرح حکومت کو کاشتکاروں کو کم پانی میں بہتر پیداوار دینے والی گندم کی منظور شدہ اقسام‘ لیزر لینڈ لیولنگ اور جدید آبپاشی کیلئے فوری معاونت بھی کرنی چاہیے۔
واپس کریں