دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سی ڈی ڈراموں کے ولن حسین سواتی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بنانے کا امکان
No image (پشاور) خالد خان ۔ خیبرپختونخوا میں وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے اب شاید سیاسی تجربہ، انتظامی صلاحیت، عوامی خدمت، آئینی امور اور صوبائی مسائل کا ادراک بھی پرانی چیزیں ہو گئی ہیں۔ نئے دور میں وزیراعلیٰ کے لیے ایک نئی شرط سامنے آ گئی ہے کہ امیدوار احتجاجی سیاست کا ماہر ہو، کیمرے کے سامنے بھرپور اداکاری کر سکتا ہو، پولیس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہو، ضرورت پڑنے پر گاڑی میں زبردستی بٹھائے جانے کا سین بھی کامیابی سے فلم بند کروا سکتا ہو اور وفاق کو للکارنے کے لیے سلطان راہی کے لہجے میں دو چار مکالمے بھی یاد ہوں۔
اسی لیے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے حلقوں میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے ایک نئی اور انتہائی غیر روایتی شخصیت کے نام پر سنجیدگی سے غور شروع ہو گیا ہے اور وہ نام ہے حسین سواتی۔
جی ہاں، وہی حسین سواتی جنہیں پشتو فلموں اور سی ڈی ڈراموں کے شائقین نے برسوں تک خطرناک ولن، بدمعاش، منفی اداکاری اور ایکشن فلموں کے سخت جان کرداروں میں دیکھا ہے۔ اب اگر سیاست میں بھی فلمی مناظر کی اہمیت بڑھ گئی ہے تو پھر حسین سواتی کو وزارتِ اعلیٰ کے لیے امیدوار بنانے میں آخر حرج ہی کیا ہے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں صوبے سے باہر رہ کر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں اور بالخصوص پولیس کی گاڑی میں زبردستی بیٹھنے والے منظر نے پی ٹی آئی کارکنوں کے دل جیت لیے ہیں۔ بعض انتہائی باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ منظر سابق وفاقی وزیر مراد سعید کو بھی اتنا پسند آیا کہ انہوں نے بانی تحریک انصاف سے خصوصی مراسم اور خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کر لیا کہ اب خیبرپختونخوا کو ایک نہیں بلکہ دو وزرائے اعلیٰ کی ضرورت ہے۔
ایک وزیراعلیٰ پشاور میں بیٹھ کر سرکاری ملازمین، افسروں اور عوام کو حکومت چلانے کا احساس دلاتا رہے اور دوسرا وزیراعلیٰ صوبے سے باہر جا کر وفاق، پنجاب حکومت اور پولیس کو احتجاجی سیاست کا عملی مظاہرہ دکھاتا رہے۔
ان ذرائع کے مطابق مراد سعید نے یہ بھی سوچا کہ اگر دو وزیراعلیٰ رکھنے ہی ہیں تو نیا وزیراعلیٰ ان کے ہی علاقے سے کیوں نہ ہو؟ چنانچہ سوات کی طرف نظر گئی۔ وہاں سے ایک وقت میں محمود خان بھی وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ مگر اس مرتبہ شرط یہ رکھی گئی کہ وزیراعلیٰ صرف ’’فارمی مرغا‘‘ نہ ہو، بلکہ ایسا دیسی مرغا ہو جو ضرورت کے وقت بانگ بھی دے اور سیاسی موسم خراب ہو تو انڈہ بھی دے۔
البتہ بطخوں کے نر کی طرح نہ ہو جو نہ بانگ دے، نہ انڈہ۔
مراد سعید نے مبینہ طور پر کہا کہ ہمیں ایسا وزیراعلیٰ چاہیے کہ سہیل آفریدی کی عدم دستیابی کی صورت میں بوقتِ ضرورت وفاق کو دھمکا سکے، جلسے میں مجمع گرم کر سکے، پولیس کے سامنے کیمرے کی طرف دیکھ کر مکالمہ بول سکے اور سلطان راہی بن کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کو بھی خوفزدہ کر سکے۔
اس معیار پر حسین سواتی کا نام سامنے آیا۔
آخر حسین سواتی ہی کیوں؟
اس کے جواب کے لیے ذرا سیاست سے نکل کر پشتو فلمی دنیا میں داخل ہونا پڑے گا۔
محمد حسین، جو حسین سواتی کے نام سے معروف ہیں، پشتو فلموں، ٹیلی فلموں اور سی ڈی ڈراموں کے ایسے اداکار ہیں جن کی شناخت بالخصوص منفی اور خطرناک کرداروں سے بنی۔ دستیاب فلمی ریکارڈ کے مطابق ان کا نام کم از کم 2008 کی فلم ’’عشق‘‘ سے فلمی دنیا میں موجود دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد ’’جال‘‘، ’’ما له جواب راکړه‘‘، ’’د ښکلو بادشاهي ده‘‘،
’’سرې سترګې نه منم‘‘ سمیت متعدد پشتو فلموں میں ان کے نام فلمی کریڈٹس میں آتے ہیں اور حالیہ برسوں میں بھی وہ پشتو سینما سے وابستہ رہے ہیں۔
یعنی اگر کسی کو ایک ایسے وزیراعلیٰ کی تلاش ہو جو سیاسی مخالفین کو دیکھتے ہی عوام کو یہ محسوس کرا سکے کہ اب ہیرو اور ولن آمنے سامنے آنے والے ہیں تو حسین سواتی کا تجربہ یقیناً کسی انتظامی افسر سے کم نہیں ہوگا۔
سی ڈی ڈراموں کے عروج کے زمانے میں حسین سواتی نے ایسے کردار ادا کیے جن میں سخت لہجہ، دھمکی، غصہ، بدمعاشی اور ایکشن بنیادی اجزا تھے۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو شاید آج کی احتجاجی سیاست میں سیاسی تربیت کا متبادل بنتی جا رہی ہیں۔
ان کی ایک خوبی یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ انہوں نے صرف ولن ہی نہیں بلکہ ہیرو کے کردار بھی کیے۔ یہ خصوصیت وزیراعلیٰ کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ حکومت میں ہوتے ہوئے کبھی ہیرو بننا پڑتا ہے اور کبھی مخالفین کے نزدیک ولن۔
ایک دن وفاق کے سامنے ہیرو، دوسرے دن پولیس کے سامنے ولن، تیسرے دن کارکنوں کے سامنے سلطان راہی اور چوتھے دن صوبائی اسمبلی میں ایک عام سا وزیراعلیٰ۔
یہ ہمہ جہتی صلاحیت ہر سیاستدان کے پاس کہاں!
حسین سواتی کی فنی زندگی کا ایک اور دلچسپ پہلو بیرونِ ملک پشتونوں کے لیے سٹیج شوز میں شرکت بھی ہے۔ یعنی وہ کیمرے کے سامنے ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک پشتونوں کے مجمعے کے سامنے بھی پرفارم کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر کبھی خیبرپختونخوا حکومت کا اجلاس دبئی میں ہو جائے تو وزیراعلیٰ کے لیئے کسی نئے فنکار کی تلاش بھی نہیں کرنا پڑے گی۔
اب آتے ہیں اس اصل وجہ کی طرف جس نے مبینہ طور پر حسین سواتی کو وزارتِ اعلیٰ کے لیے مضبوط امیدوار بنایا ہے۔
لاہور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سرگرمیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صوبے کا وزیراعلیٰ اگر چاہے تو صوبے سے باہر رہ کر بھی صوبے کی سیاست میں پوری طرح موجود رہ سکتا ہے۔ چنانچہ ذرائع کے مطابق مراد سعید نے سہیل آفریدی کو ’’آفریدی ٹریولز‘‘ کا خطاب دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح گاڑی کے چار پہیے ہوتے ہیں، اسی طرح وزیراعلیٰ کو بھی ایک اضافی پہیے کی ضرورت ہے۔
اور حسین سواتی اس کام کے لیے بہترین پہیہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہاں سے معاملہ مزید دلچسپ ہو جاتا ہے۔
مینگورہ پولیس سٹیشن کے حوالدار تاجے نے جب حسین سواتی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ذرائع کے مطابق اسے معلوم ہوا کہ وہ منشیات کے علاج کے لیے ایک علاج گاہ میں صاحبِ بستر ہے۔
حوالدار تاجے نے یہ خبر مراد سعید تک پہنچائی تو، ہمارے مخبروں کے مطابق، مراد سعید نے بھنگڑا ڈالا اور فرمایا کہ:
’’جنس بہ جنس پرواز، کبوتر با کبوتر، باز با باز!‘‘ یہ انتخاب تو چیئرمین کو بہت پسند آئے گا۔
حسین سواتی کا ماضی اگر فلمی کرداروں کی طرح وزارتِ اعلیٰ کے لیے دیکھا جائے تو ان کی فائل میں ایک اور واقعہ بھی موجود ہے۔ 2023 میں انہیں سوات پولیس نے گرفتار کیا تھا اور پولیس نے ان پر منشیات اور اسلحے سے متعلق الزامات عائد کیے تھے۔ چونکہ موجودہ سیاسی ماحول میں سیاست کا معیار یہ ہے کہ جو جتنا بڑا ملزم اور مجرم ہو، وہ اتنا ہی بڑا سیاسی راہنما ہوتا ہے، تو پھر حسین سواتی واقعی مضبوط امیدوار ہیں۔
اگر وزیراعلیٰ کو ہسپتالوں کی حالت، سکولوں کی عمارتیں، پنشن کا بوجھ، بے روزگاری، دہشت گردی، امن و امان، ترقیاتی منصوبے اور سرکاری ادارے درست کرنے کے بجائے ہر روز احتجاج، دھرنا، مارچ، وفاق کو دھمکی اور کیمرے کے سامنے سیاسی مکالمہ بولنا ہو تو پھر حسین سواتی کے پاس باقی سیاستدانوں سے ایک واضح برتری موجود ہے۔
وہ کم از کم اداکاری باقاعدہ جانتے ہیں۔
مخبر نے یہ بھی بتایا ہے کہ اگر حسین سواتی وزیراعلیٰ بن گئے تو کابینہ بھی فلمی معیار پر بنائی جائے گی۔ وزیر داخلہ کے لیے ایسا شخص تلاش کیا جائے گا جو پولیس کو دیکھ کر خود نہ بھاگے، وزیر خزانہ ایسا ہوگا جو بجٹ دیکھ کر فلمی انداز میں کہے ’’پیسہ ہضم، کھیل ختم‘‘، وزیر اطلاعات روزانہ پریس کانفرنس میں مخالفین کے خلاف ڈائیلاگ بولے گا، جبکہ محکمہ اطلاعات کا کام صرف یہ ہوگا کہ ہر منظر کو تاریخی کامیابی قرار دے۔
اور وزیراعلیٰ کے پہلے خطاب کا عنوان ہوگا ’’پیسہ پھینک، تماشا دیکھ‘‘ اور عوامی گانا ہوگا ’’او بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی‘‘۔ اور مقبول ڈائیلاگ ہوگا؛ ’’پاکستان کی غیر سیاسی جنگ؛ آفریدی ٹریولز کے سنگ۔‘‘
سہیل آفریدی صوبے سے باہر احتجاجی سیاست سنبھالیں گے، حسین سواتی صوبے کے اندر حکومت سنبھالیں گے، اور عوام دونوں کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ یہ حکومت ہے، احتجاج ہے یا نئی پشتو ایکشن فلم کی شوٹنگ۔
بس ایک مسئلہ ہے۔
فلم میں ولن آخر ہار جاتا ہے۔
سیاست میں مسئلہ یہ ہے کہ کبھی کبھی ولن، ہیرو، ہدایت کار اور پروڈیوسر سب ایک ہی شخص بن جاتے ہیں، اور پھر عوام کو ٹکٹ خریدنے کے باوجود یہ سمجھ نہیں آتا کہ وہ فلم دیکھ رہے ہیں یا حکومت۔ بہرحال مراد سعید کے مطابق ایک سے بھلے دو۔ جب بھی نیا صوبہ بنا، ہمارے پاس سٹاک میں وزیراعلیٰ پڑا ہوگا۔ ویسے بھی صوبوں صوبوں کے کھیل کا زمانہ ہے۔
واپس کریں