محمد ریاض ایڈووکیٹ
تحریک انصاف کی سیاست نئے پاکستان، حقیقی آزادی اور نظام کی تبدیلی سے سمٹ کر عمران خان کی رہائی، رسائی اور ہسپتال سے دوائی تک محدود ہو چکی ہے۔عدم اعتماد کے ذریعے وفاقی حکومت خاتمہ کے بعد عمران خان نے اپنے سابقہ کرم فرماؤں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ جلسوں اور عوامی اجتماعات میں خوب تنقید کی، لیکن بعد ازاں یہ انکشاف بھی ہوا کہ عوام کے سامنے انقلابی بیانیہ پیش کرنے والے قائد نے ایوان صدر میں دندان ساز کے ذریعہ خاموشی سے ملاقاتیں بھی کیں اور پنجاب و خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل جیسے اہم فیصلے بھی انہی کرم فرماؤں کے مشورے پر کیے جنہیں بعد میں ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ ایسے موقع پر میر تقی میر کا شعر یاد آ جاتا ہے:
''میر کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اُسی عطّار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں ''
اقتدار سے رخصتی کے بعد اڈیالہ جیل تک کے سفر میں ایک چیز مسلسل قائم رہی، اور وہ تھی بڑھکوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ کبھی کہا گیا کہ چند دنوں میں رہائی ہونے والی ہے، کبھی بتایا گیا کہ بس فیصلہ کن مرحلہ آ چکا ہے اور کبھی کارکنوں کو یقین دلایا گیا کہ نظام ہلنے والا ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہر دعویٰ محض دعویٰ ہی ثابت ہوا۔کچھ عرصہ قبل تک عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جو زیادہ تر امریکہ میں مقیم افراد چلاتے ہیں؛ اسی قسم کی خوش فہمیاں پھیلاتے رہے۔ اسی طرح دوسری اور تیسری صف کی قیادت نے بھی اپنے قائد کی جیل یاترا کو مستقل بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ رہی سہی کسر عمران خان کے عزیز و اقارب نے پوری کر دی جنہوں نے ہر ہفتے میڈیا کے سامنے آ کر ایسے بیانات دیے جن سے معاملات سلجھنے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوتے گئے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی باگ ڈور علی امین گنڈاپور کے حوالے کی گئی۔ اس وقت بھی جماعتی قیادت، کارکنوں اور وی لاگرز نے زمین آسمان ایک کر دیاتھا۔ گنڈاپور کی بڑھکیں سن کر پیروکاروں کو یقین ہو گیا کہ اب اڈیالہ جیل کے دروازے کھلنے ہی والے ہیں۔موصوف کارکنان کو اسلام آباد میں پھینٹی لگوا کر کئی مرتبہ پتلی گلی سے رفوچکر ہوتے رہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس گنڈاپور کو کبھی عمران خان کا پسندیدہ انتخاب اور سب سے قابل اعتماد ساتھی قرار دیا جاتا تھا، آج اسی کے بارے میں جماعت کے اندر ڈبل ایجنٹ کے خطابات دیئے جارہے ہیں۔
اب باری ایک اور جوشیلے رہنما سہیل آفریدی کی آئی جن کے بیانات سن کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ چند دنوں میں پورا سیاسی نظام بدل دیں گے۔ ''میں یہ کر دوں گا، میں وہ کر دوں گا'' کے دعوے مسلسل سننے کو ملتے رہے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ کئی مرتبہ عمران خان سے ملاقات کے عزم کے ساتھ اڈیالہ جیل پہنچے مگر پنجاب پولیس کے ایس ایچ او کے ساتھ منہ ماری کرتے ہوئے راہِ فرار اختیار کرتے دیکھائی دیئے۔ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی خوب بڑھکیں ماری گئیں۔سو سو روپے چندہ بھی وصول کیا گیا۔ ''آزادی یا شہادت'' کے نعرے لگائے گئے، اسلام آباد کو سومنات بنانے کی باتیں کی گئیں اور کارکنوں کو یقین دلایا گیا کہ یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ لانگ مارچ کی گونج مدھم پڑ چکی ہے اور مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر آخرکار مذاکرات ہی کرنے تھے تو پہلے کیوں نہ کیے گئے؟
جماعت اسلامی نے جب پٹرولیم لیوی کے خلاف اپنا احتجاج مؤخر کیا تو تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں نے اس پر طنز کے خوب تیر برسائے۔ لیکن محض چند دن بعد خود تحریک انصاف بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کی راہ اختیار کرتی دکھائی دی۔ آج حالت یہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور حتیٰ کہ حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی سے بھی کسی نہ کسی قسم کی سیاسی مدد کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کوئی بھی تحریک یا انقلاب کرم فرماؤں کی مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہوپایا۔ تحریک انصاف شاید آج بھی اسی خوش فہمی کا شکار ہے کہ سال اکتوبر 2011 تا 2022کی طرح کوئی نہ کوئی کرم فرما ایک بار پھر سہولت کاری کرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لے گا اور اپنا فیضِ عام بانٹے ہوئے مشکلات کے بھنور میں گھری ہوئی بیری پاڑ لگا دے گا۔
صورتحال یہ ہے کہ جماعت کو محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس ایسے سیاستدانوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے۔ پارٹی کے ساتھ مخلص قائدین و کارکنان عمرانی دور حکومت ہی میں کھڈے لائن لگا دیئے گئے تھے اور انکی جگہ عثمان بزدار جیسوں کو آگے کیا گیا۔ آج عثمان بزدار ایسے فصلی بٹیرے اپنا دانہ چگ کر رفو چکر ہوچکے ہیں۔ باقی بچی گنڈاپور اور سہیل آفریدی ایسی قیادت، جنکا کام ہی صرف بس بڑھکیں، بڑھکیں اور بڑھکیں۔ اور جب سیاست حکمت عملی کی بجائے صرف تھو تھا چنا، باجے گھنا پر کھڑی ہو توپھر حالات ایسے ہی ہونگے۔ سیاسی معاملات میں پیش رفت کے لیے ماحول بنانا پڑتا ہے، لیکن یہاں ہر دوسرے دن ایسی بڑھکیں ماری جاتی ہیں جو ماحول بنانے کی بجائے مزید خراب کر دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ سیاسی مقاصد حاصل ہو رہے ہیں اور نہ ہی عمران خان کو جیل سے باہر نکالنے کے وہ دعوے پورے ہو رہے ہیں!
واپس کریں