
مقتدرہ کے ترجمانِ خاص صحافی محترم کامران خان نے اطلاع دے دی ہے کہ ”بلاخر فیصلہ ہوگیا ہے خیبر پختون خواہ میں آئین کی آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج لگایا جائے گا۔ صوبے میں PTI حکومت کا تسلسل جاری رہ سکتا ہے کہ اگر سہیل آفریدی اور PTI قیادت غیر مشروط طور پر لانگ مارچ کی کال واپس لے لیں اور صوبے میں پولیس کے نظام میں تبدیلی کے مجوزہ قانون سے دستبردار ہو“
خاکسار نے سوچا تھا کہ سائنس دانوں شاید اپنی سیاسی لیبارٹری کو بند کر کے تالا لگانے کا کوئی تہیہ یا ارادہ کر لیا ہے کیوں کہ ملک عزیز جو اب مذید تجربوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، لیکن نہیں،سوچ غلط نکلی۔ جہد مسلسل جاری ہے، لیبارٹری کے تجربے ماشا اللہ سے رواں دواں ہیں شائد لہو کو بھی گرم رکھنے کا بہانہ چاہیئے۔
اب آپ کے دماغ میں یہ چل رہا ہو کہ ناچیز کا اشارہ صرف خیبر پختون خواہ میں حکومت کی کسی انتظامی سیٹ اپ یا گورنر راج وغیرہ کی جانب ہے تو نہیں،پنجاب اور سندھ میں بھی کسی نئے لیبارٹری ٹیسٹ کرنے کی پلانگ اور تیاری کی جا رہی ہے اور وجہ یہ نہیں ہے کہ حکومتی اتحادیوں نے مذید نئے صوبوں سے متعلق تعاون نہیں دکھایا،بلکہ وجہ سابقین کے مافق خود کو مذید سے مذید طاقت ور بنانا اور مذید سے مذید اختیارات حاصل کرنا ہے۔
صحافتی ترجمانوں کے زریعے قومی نیشنل ایمرجنسی وغیرہ کی اذانیں بھی سنائی دینا شروع ہو گئیں ہیں،ہو سکتا ہے کہ کچھ ایسا نہ ہو لیکن جہاں دھواں اٹھتا ہے وہاں کچھ نہ کچھ تو جل رہا ہوتا ہے۔
واپس کریں