دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وہ سانپ جو ہم نے پالا تھا
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ایک دشت تھا، جہاں کبھی قافلے گذرتے تھے۔ اس دشت کے کنارے ایک قبیلہ آباد تھا، جس نے ایک بار یہ سوچا کہ اگر وہ ایک عجیب سانپ کو پال لے تو اس کا زہر دشمنوں کو راکھ کر دے گا۔ چنانچہ انہوں نے اس سانپ کو اپنے گھر میں جگہ دی، اسے دودھ پلایا، اور اسے سکھایا کہ کس طرح حملہ کرنا ہے۔ یہ سانپ ان کا "جنگجو" تھا ایک ہتھیار، ایک ڈھال، ایک تلوار۔ مگر جب دشمن بھاگ گیا، تو سانپ بے کار ہو گیا۔ اس نے اپنا منہ گھر کی طرف موڑ لیا، اور وہی زہر جو کبھی دوسروں کے لیے تھا، اب اپنے پالنے والوں کے لیے زہر قاتل بن گیا۔

یہ داستان محض تمثیل نہیں، یہ پاکستان کی وہ حقیقت ہے جسے ہم نے دہائیوں تک نظر انداز کیا۔ 1980 کی دہائی میں ہم نے امریکہ کی راہ نمائی میں سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کی آگ سُلگائی۔ اس آگ نے ایک جنم لیا، جس کا نام تھا "عسکریت پسندی"۔ یہ کوئی نئی مخلوق نہیں تھی، بلکہ وہی پرانی نفسیات تھی جو ہتھیاروں اور نظریات کے سانچے میں ڈھلی تھی۔ کلاشنکوف اور اوزی یہ وہ ہتھیار تھے جو کبھی دور دراز کی جنگوں کی علامت تھے اب ہمارے گلی کوچوں میں رینگنے لگے۔ جب سوویت یونین شکست کھا کر پیچھے ہٹا، تو امریکہ نے اپنا سامان باندھا اور چلا گیا، مگر سانپ کو چھوڑ گیا۔ یہ وہی لمحہ تھا جب ہمیں اس کا زہر خود پینا پڑا۔ تربیت یافتہ جنگجو، جو کبھی "مجاہد" کہلاتے تھے، بے روزگار ہو گئے اور انہوں نے اپنی توانائی کشمیر، چیچنیا اور فلسطین کی طرف موڑ لی۔ اس خطرناک خلا میں القاعدہ جیسے عفریت نے جنم لیا، اور پاکستان کے اندر موجود فرقہ وارانہ گروہوں کو نظریاتی اور مالی معاونت فراہم کر کے انہیں فعال کر دیا۔

لیکن اس کہانی کا دوسرا باب 9/11 کے بعد لکھا گیا۔ امریکہ نے پاکستان سے کہا: "اب تم فیصلہ کرو، ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف؟" ہم نے ہاں کہی، اور یوں ہم اس سانپ کو بھی پالنے لگے اور اسے مارنے کی کوشش بھی کرنے لگے۔ یہ دوہری پالیسی تھی، دوہرا کردار، دوہرا رویہ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ایک نسل کو جہاد کا درس دیا اور اسی نسل کے ہاتھوں خودکش حملوں کا نشانہ بنے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد یہ وہ شہر تھے جہاں سانپ نے اپنے پالنے والوں کو اپنا شکار بنایا۔ وزیرستان اور سوات تو کسی اور ہی جہان میں بدل گئے، جہاں سانپ خود سلطان بن گیا۔ فوجی کارروائیوں کے باوجود، یہ علاقے عملاً عسکریت پسندوں کے قبضے میں چلے گئے، اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہزاروں فوجی اور پولیس اہلکار اس جنگ میں جان بحق ہوئے۔

اس تمثیل کا سب سے المناک باب 2014 میں لکھا گیا، جب ایک اسکول میں سانپ نے بچوں کو نشانہ بنایا۔ آرمی پبلک اسکول کا سانحہ وہ مقام تھا جہاں ہم سب نے چیخ ماری، مگر وہ چیخ بھی تھوڑی دیر کی مہمان تھی۔ قومی ایکشن پلان بنا، مگر وہ بھی دھیرے دھیرے خاکستر ہو گیا۔ یہی وہ المیہ ہے جو ہمیں ایک تمثیل میں یاد رکھنا چاہیے: سانپ کا زہر ختم نہیں ہوتا، صرف اس کا روپ بدلتا ہے۔ آج وہ زہر سوشل میڈیا کی شکل میں ہے، جہاں جھوٹے بیانیے نوجوانوں کے دماغوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ یہ نیا سانپ ہے، جو پہلے سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اسے دیکھا نہیں جا سکتا۔ وہی پرانی انتہا پسندی اب واٹس ایپ، یوٹیوب اور ٹک ٹاک کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے، اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے پاس نہ تو کوئی مؤثر حکمت عملی ہے اور نہ ہی کوئی مربوط بیانیہ۔ یہ ایک "ہائبرڈ" جنگ ہے، جہاں حملہ آور نظر نہیں آتا، مگر اس کے اثرات ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔

بلوچستان میں سانپ کا ایک اور روپ ہے علیحدگی پسندی کا روپ۔ یہاں تاریخی مظالم، معاشی تفاوت، اور سیاسی بے چارگی نے ایک ایسی نفسیات کو جنم دیا جو خود کو ریاست کا حریف سمجھتی ہے۔ 2026 میں 540 مسلح جھڑپیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ آگ ابھی بھی بجھی نہیں، بلکہ نئے رخ اختیار کر رہی ہے۔ سی پیک جیسے منصوبے، جو اس خطے کی ترقی کی علامت تھے، اب اس تنازع کی زد میں ہیں۔ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں، یہ اس داستان کا ایک اہم باب ہے جہاں سانپ نے علاقائی معیشت کو یرغمال بنا لیا ہے۔ بلوچستان میں جہاں ایک طرف علیحدگی پسند گروہ سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف وہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس کی بین الاقوامی ساکھ بھی مجروح ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی ابھی تک 2014 کے اسی پرانے ڈھانچے میں جکڑی ہوئی ہے اور بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکام رہی ہے۔ صرف فوجی کارروائیاں اس مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اس کے ساتھ معاشی اصلاحات، سماجی شمولیت اور ایک موثر سفارتی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں ناکامی، انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات کی طویل التوا، اور بعض سیاسی و مجرمانہ عناصر کی رکاوٹوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دہشت گردی کا میدان اب صرف پہاڑوں اور شہروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور یوٹیوب تک پھیل چکا ہے جہاں پروپیگنڈا، جعلی خبریں اور نظریاتی انتہا پسندی ایک نئے "ہائبرڈ" خطرے کی شکل میں ابھر رہی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ایک ایسا جامع اور مقامی فریم ورک ترتیب دیا جائے جو فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی، سماجی انصاف، اور انتہا پسندانہ بیانیے کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اب سوال یہ ہے: کیا ہم اس تمثیل سے سبق سیکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم سانپ کو مارنے کے بجائے اس کی کہانی سمجھ سکتے ہیں؟ ہمیں ایک نیا افسانہ لکھنا ہوگا، جہاں قومی قیادت چاہے وہ وزیر اعظم ہو، آرمی چیف ہو، یا سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھیں اور اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں۔ یہ صرف فوجی کارروائیوں کا مسئلہ نہیں، یہ تعلیم، معاشی انصاف، اور نظریاتی تربیت کا مسئلہ ہے۔ ہمیں ایک نیا نیشنل ایکشن پلان چاہیے جو اس سانپ کے تمام روپوں کا مقابلہ کر سکے فوجی، نظریاتی، اور معاشی۔ بلوچستان کے مسئلے کے لیے ایک علیحدہ قومی کانفرنس کی اشد ضرورت ہے، جس میں سیاسی قیادت کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شریک ہوں تاکہ اس مسئلے کی تمام جہتوں کا احاطہ کیا جا سکے۔

کہانی کا اختتام ابھی تک نہیں لکھا گیا۔ ہم ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں ہم یا تو اس سانپ کو قابو کر سکتے ہیں، یا اس کا زہر ہمیں نگل سکتا ہے۔ انتخاب ہمارا ہے، اور یہ انتخاب ایک تمثیل سے زیادہ ایک حقیقت ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے لکھی جا رہی ہے۔ وقت بہت کم ہے، اور داؤ بہت اونچا ہے۔ اگر ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اس لیے آج کے اس فیصلہ کن لمحے میں، ہمیں اپنے ماضی کا احتساب کرنا ہوگا، اپنے حال کا جائزہ لینا ہوگا، اور اپنے مستقبل کو ایک روشن راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔

"اور اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے" (الرعد: ۱۱)۔ شاید اس تمثیل کا سبق یہی ہے کہ ہمیں خود بدلنا ہوگا، ورنہ یہ سانپ ہمیں وہی سزا دے گا جو ہم نے خود اپنے لیے لکھی تھی۔ مگر بدلنا آسان نہیں، کیونکہ بدلنے کے لیے ہمیں اپنی تمام تر کمزوریوں، خامیوں اور غلط فہمیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر بھی، تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور ان سے سبق سیکھنے کی جرات رکھتی ہیں۔ پاکستان کے پاس اب بھی وہ صلاحیت موجود ہے، وہ وسائل موجود ہیں، اور وہ عزم موجود ہے بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر ایک نیا بیانیہ ترتیب دیں، ایک نیا عہد کریں، اور اس سانپ کو ہمیشہ کے لیے اس دشت سے بے دخل کر دیں جہاں کبھی قافلے گذرتے تھے۔
واپس کریں