دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
انسانیت کا اجتماعی جنازہ: امپورٹیڈ غذا کھانے والے کتوں بلیوں کے شہر میں پانچ انسانوں کی بھوک کے ہاتھوں موت
No image رپورٹ خالد خان ۔ کراچی کے احسن آباد میں ایک گھر سے ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین کمسن بیٹیوں کی لاشیں برآمد ہونے کی خبر نے چند لمحوں کے لیے ہمیں چونکا دیا، پھر ہمیشہ کی طرح ہم کسی نئی خبر، کسی نئے سیاسی جھگڑے، کسی نئے سکینڈل اور کسی نئی تفریح کی طرف بڑھ گئے۔ مگر اس گھر کی ایک تفصیل ایسی ہے جسے شاید ہمیں اتنی آسانی سے بھولنے کا حق نہیں۔ گھر میں خوراک نہیں تھی اور فریج میں صرف ایک انڈا رکھا تھا۔ پانچ انسانوں کے گھر میں صرف ایک انڈا۔ یہ تفصیل محض اس خاندان کی غربت کا بیان نہیں، ہمارے پورے معاشرتی نظام کی ایسی تصویر ہے جس میں ایک طرف انسان بنیادی خوراک سے محروم ہے اور دوسری طرف اسی شہر میں انسانوں سے زیادہ آسائش کے ساتھ جانور پالے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عمر بیمار تھے، کینسر سے لڑ رہے تھے، روزگار ختم ہو چکا تھا اور گھر کے معاشی حالات اس حد تک خراب ہو گئے تھے کہ بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گئی تھیں۔ ایک اطلاع کے مطابق گھر کی اشیا بھی فروخت کرنے کی کوشش کی گئی۔ پھر وہ وقت آیا جب اس گھر میں پانچ زندگیاں باقی رہ گئیں اور خوراک کے نام پر ایک انڈا۔ اس کے بعد کیا ہوا، اس کی پوری حقیقت تفتیش اور طبی شواہد طے کریں گے، لیکن غربت، بیماری، بے روزگاری اور بے بسی کی وہ کیفیت جس نے اس خاندان کو گھیر رکھا تھا، اس پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔
مجھے اس واقعے میں سب سے زیادہ خوفناک چیز پانچ لاشیں نہیں لگتیں، بلکہ وہ ایک انڈا لگتا ہے۔ لاشیں تو ایک گھر کے اندر ملیں، لیکن وہ انڈا ہمارے پورے معاشرے کے سامنے پڑا ہے۔ وہ پوچھ رہا ہے کہ جس شہر میں ایک طبقے کے کتوں اور بلیوں کے لیے امپورٹیڈ غذا دستیاب ہے، جہاں پالتو جانوروں کی خوراک پر اتنی رقم خرچ ہوتی ہے جس سے کسی غریب خاندان کا کئی دن کا چولہا جل سکتا ہے، اسی شہر میں ایک ڈاکٹر کے گھر کے پانچ انسان کھانے کے لیے ایک انڈے کے محتاج کیوں ہو گئے؟ یہ سوال کسی غریب کی قسمت کا نہیں، اس معاشرے کی ترجیحات کا ہے۔
ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے بہت دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے گھروں کے باہر ہی ایک پورا مذہبی، سماجی اور خیراتی ڈھانچہ موجود ہے۔ ہم پڑوسی کے حقوق پر خطبے سنتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، صدقات کرتے ہیں، لنگر چلاتے ہیں، مساجد تعمیر کرتے ہیں، مدارس بناتے ہیں، حج اور عمرے پر جاتے ہیں، خیراتی اداروں کو چندہ دیتے ہیں اور بیت المال کا نام لیتے ہیں۔ پھر ایک بیمار ڈاکٹر، اس کی بیوی اور تین بچیاں ہمارے درمیان رہتے ہوئے اس مقام تک کیسے پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کے گھر میں خوراک ختم ہو جاتی ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے پڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید فرمائی کہ حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق جبرائیلؑ مسلسل پڑوسی کے حق کی وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ نبی ﷺ کو گمان ہوا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں بھی شریک کر دیا جائے گا۔ ہمارے مذہبی معاشرے میں پڑوسی کے حقوق کو چالیس گھروں تک پھیلانے کی روایت بھی بیان کی جاتی ہے۔ اس روایت کی سند اور تاریخی نسبت اپنی جگہ تحقیق کا موضوع ہے، لیکن اگر ہم صرف رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ تعلیم کو سامنے رکھیں تو بھی پڑوسی کی ذمہ داری کسی معمولی سماجی آداب کا نام نہیں۔ پھر احسن آباد کے اس گھر کے پانچ انسان کس کے پڑوسی تھے؟ ان کی بیماری، بے روزگاری اور بھوک ہمارے مذہبی اور معاشرتی شعور تک کیوں نہ پہنچ سکی؟
ہمیں حضرت عمرؓ سے منسوب وہ مشہور واقعہ بھی یاد آتا ہے جس میں دریائے فرات کے کنارے ایک جانور کے بھوکا رہ جانے تک کی جواب دہی کا تصور بیان کیا جاتا ہے۔ میں اس روایت کی تاریخی صحت کو قطعی واقعے کے طور پر پیش نہیں کر رہا، لیکن اسلامی حکمرانی کے تصور میں موجود یہ احساس اپنی جگہ ناقابل تردید ہے کہ حاکم اپنے زیرِ انتظام انسانوں اور مخلوق کی حالت سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ آج کراچی میں سمندر کے کنارے پانچ انسان بھوک، بیماری اور بے بسی کی انتہا تک پہنچ کر مر گئے۔ اگر ایک حکمران اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہے تو اس سے یہ سوال پوچھنا غیر مناسب نہیں کہ اس کے شہر میں ایک بیمار ڈاکٹر کا خاندان اس مقام تک کیوں پہنچا جہاں پانچ انسانوں کے لیے خوراک بھی باقی نہ رہی۔
مگر اس سوال کو صرف حکمران تک محدود کرنا بھی آسان فرار ہے۔ ریاست ایک ادارہ ہے، معاشرہ ہم ہیں۔ ریاست سے پہلے بھی پڑوسی موجود ہے، مسجد موجود ہے، خاندان موجود ہے، محلہ موجود ہے، صاحبِ ثروت مسلمان موجود ہے، خیراتی ادارہ موجود ہے۔ اگر ان سب کے درمیان ایک گھر بھوک کی آخری حد تک پہنچ جائے تو ہمیں اپنی اجتماعی زندگی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ پانچ جنازوں کے بعد ریاست کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینا اتنا ہی آسان ہے جتنا مذہب کو مورد الزام ٹھہرا کر معاشرے کی ذمہ داری سے فرار حاصل کرنا۔
مجھے تو اس واقعے میں اسلام کا مسئلہ نظر نہیں آتا، اسلام کے دعوے داروں کا مسئلہ نظر آتا ہے۔ مذہب نے مسکین کو کھانا کھلانے، یتیم کی نگہداشت اور پڑوسی کے حق کو بار بار سامنے رکھا ہے۔ قرآن نے تو ایسی دینداری کو بھی سوال کے کٹہرے میں کھڑا کیا جو یتیم کو دھکے دے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دے۔ پھر اگر ہم ایک طرف عبادت کے بڑے بڑے مظاہر قائم کرتے رہیں اور دوسری طرف ہمارے درمیان ایک بیمار انسان اپنے بچوں کے لیے خوراک کا انتظام نہ کر سکے تو ہمیں مذہب سے شکایت کرنے کے بجائے اپنے مذہبی عمل سے سوال کرنا چاہیے۔
دس گھروں کے درمیان آٹھ مسجدیں بنانا بذات خود کوئی برائی نہیں، مسجد تو عبادت اور اجتماع کی جگہ ہے، لیکن اگر ہم اتنی مساجد کے درمیان ایک ایسا نظام بھی نہ بنا سکیں جو اسی محلے کے کسی بیمار یا بے روزگار گھر کی ضرورت کا بروقت پتہ لگا لے تو پھر سوال مسجد کی عمارت کا نہیں، ہماری ترجیحات کا ہے۔ ہم نے دین کو عبادتوں کی تعداد سے ناپنے کی عادت ڈال لی ہے، حالانکہ دین انسان کے ساتھ ہمارے برتاؤ میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔ جس معاشرے میں پڑوسی کو اس وقت یاد کیا جائے جب اس کا جنازہ نکل رہا ہو، وہاں پڑوسی کے حقوق پر ہماری ساری گفتگو محض معلومات رہ جاتی ہے، اخلاق نہیں بنتی۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں گوتم بدھ کی انسانی تکلیف کے بارے میں فکر اور محمد ﷺ کی حقوق العباد پر تاکید ایک ہی انسانی سوال پر آ کر ملتی محسوس ہوتی ہے۔ مختلف مذاہب اور فلسفوں کی اپنی اپنی بنیادیں اور اختلافات ہیں، لیکن انسانی دکھ کو نظرانداز نہ کرنا ان کے درمیان ایک مشترک اخلاقی قدر کے طور پر سامنے آتا ہے۔ بدھ نے دکھ کو دیکھا اور اس کی جڑ تلاش کی؛ محمد ﷺ نے انسانی معاشرے میں کمزور کے حق کو محض خیرات نہیں بلکہ ذمہ داری کے طور پر سامنے رکھا۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم دکھ کو دیکھتے ہیں مگر اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ غریب ہمارے سامنے ہوتا ہے مگر ہم اسے اس کی غربت کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔
کارل مارکس نے انسانی معاشرے کو طبقاتی تعلقات اور وسائل کی تقسیم کے زاویے سے دیکھتے ہوئے جو بنیادی سوال اٹھایا تھا، وہ بھی یہاں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مارکس کی ہر تعبیر کو درست ماننا ضروری نہیں، مگر یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ وسائل کس کے پاس ہیں، دولت کس طرح پیدا اور تقسیم ہوتی ہے اور ایک معاشرے میں کچھ لوگ ضرورت سے کہیں زیادہ رکھتے ہوئے بھی آسائش بڑھاتے رہیں جبکہ دوسرے لوگ بنیادی ضرورت سے محروم کیوں ہو جائیں۔ اگر اسی شہر میں ایک طبقے کے جانوروں کے لیے امپورٹیڈ خوراک باقاعدگی سے پہنچتی ہے اور دوسرے طبقے کے بچوں کے لیے سوکھی روٹی بھی میسر نہیں تو یہ صرف قسمت کا فرق نہیں، معاشی طاقت اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کا بھی سوال ہے۔
یہاں ایک بات صاف سمجھنے کی ضرورت ہے۔ رزق کا مسئلہ خدا کے ساتھ نہیں ہے۔ اللہ نے زمین میں وسائل پیدا کیے، انسان کو عقل، محنت اور اختیار دیا اور معاشرے کو باہمی ذمہ داری کا تصور دیا۔ ان وسائل کو کس طرح تقسیم کیا جائے، دولت کس کے پاس مرتکز ہو، مزدور کو کیا ملے، بیمار کے علاج کا بندوبست کیسے ہو، بے روزگار کیسے بچے، غریب کی عزت کیسے محفوظ رہے، یہ سب انسانی اداروں اور انسانی فیصلوں سے متعلق معاملات ہیں۔ اگر ان فیصلوں سے ایک طبقہ وسائل پر قابض ہو جائے اور دوسرا اپنی بنیادی ضرورت کے لیے بھی محتاج ہو جائے تو اس کا الزام رزاق پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
مسئلہ رزق کے وجود کا نہیں، رزق تک رسائی کا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فلاحی ریاست کا تصور اہم ہے۔ دنیا کے بعض معاشروں نے یہ سمجھ لیا کہ انسان کو بیماری، بے روزگاری، بڑھاپے یا کسی بڑے معاشی حادثے کے بعد صرف خیرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے سماجی تحفظ کے ایسے نظام قائم کیے جن میں ریاست شہری کو اس کی بنیادی ضرورتوں کے لیے ایک حفاظتی سہارا فراہم کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں غربت ختم ہو گئی یا ہر مسئلہ حل ہو گیا، لیکن کم از کم یہ تصور موجود ہے کہ کسی شہری کی اچانک معاشی تباہی اس کے پورے خاندان کو لازماً بھوک کی آخری حد تک نہ پہنچا دے۔
ہمارے ہاں فلاح کا بڑا حصہ اب بھی خیرات کی صورت میں ہے۔ غریب کے پاس حق کم اور احسان زیادہ ہے۔ وہ ریاست سے سماجی تحفظ کا مستحق شہری ہونے کے بجائے کسی مخیر شخص کے صدقے کا امیدوار بن جاتا ہے۔ یہ صورت حال صرف غریب کی جیب خالی نہیں کرتی، اس کی عزت نفس بھی مجروح کرتی ہے۔ ایک معاشرہ اس وقت زیادہ انسانی ہوتا ہے جب اس کا کمزور فرد مدد مانگنے سے پہلے اپنے حق کے بارے میں جانتا ہو اور اس حق تک پہنچنے کے لیے کسی بااثر شخص کی سفارش کا محتاج نہ ہو۔
اور پھر ہماری قومی زندگی میں ایک اور المیہ ہے۔ جو شخص اس نظام پر سوال اٹھاتا ہے، ہم اس سے اصل سوال کا جواب دینے کے بجائے اس کی نیت پوچھنے لگتے ہیں۔ کوئی طبقاتی استحصال کی بات کرے تو اسے نظریاتی خانے میں ڈال دیا جاتا ہے، کوئی ریاستی ناکامی کی بات کرے تو اسے ملک دشمن کہا جا سکتا ہے، کوئی مذہبی طبقے کے تضادات پر بات کرے تو مذہب کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ یوں سوال ہمیشہ شخصیت، نیت، جماعت اور نظریے کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ حالانکہ یہاں سوال نہ مارکس کا ہے، نہ بدھ کا، نہ کسی سیاسی جماعت کا اور نہ کسی مذہبی فرقے کا۔ سوال پانچ انسانوں کا ہے جو ہمارے درمیان رہتے ہوئے اس مقام تک پہنچے جہاں ان کے گھر میں کھانے کو صرف ایک انڈا رہ گیا۔
ہم نے غربت کو بھی عجیب طرح سے سمجھا ہے۔ جب کوئی غریب مر جاتا ہے تو ہم کہتے ہیں اس کی قسمت خراب تھی، وہ بیمار تھا، اس کی آمدنی کم تھی، اس نے بہتر منصوبہ بندی نہیں کی، اس کے رشتہ داروں نے ساتھ نہیں دیا۔ ہم اس پورے ماحول کو دیکھنے سے گریز کرتے ہیں جس میں ایک بیماری چند ماہ میں ایک خاندان کی معاشی بنیاد ختم کر سکتی ہے۔ ہم یہ سوال نہیں کرتے کہ اگر ڈاکٹر کے پاس علاج کے باوجود اپنے خاندان کو بچانے کا ذریعہ نہیں تھا تو عام مزدور، دکاندار، کسان یا دیہاڑی دار کس حفاظتی حصار میں زندہ ہے؟
اس لیے احسن آباد کا یہ گھر صرف ایک گھر نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے اس خوف کی تصویر بھی ہے جس میں ایک بیماری، ایک حادثہ، ایک نوکری کا خاتمہ یا چند ماہ کی آمدنی بند ہونے سے پوری زندگی کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ خاندان قرض لے لیتے ہیں، کچھ رشتہ داروں سے مدد لے لیتے ہیں، کچھ اپنا سامان بیچ دیتے ہیں اور کچھ کسی طرح بچ جاتے ہیں۔ اور کچھ شاید اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کے لیے واپسی کا راستہ باقی نہیں رہتا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بھوک ہمیشہ شور نہیں کرتی۔ بھوکا انسان ہر دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا۔ بیماری میں مبتلا شخص ہر پڑوسی کو اپنی حالت نہیں بتاتا۔ عزت نفس رکھنے والا باپ اپنے بچوں کے سامنے اپنی بے بسی چھپاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ پڑوسی نے مدد کیوں نہیں کی۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں کسی خاندان کو اپنی آخری حالت تک پہنچنے سے پہلے اس کا ہاتھ پکڑ لیا جائے۔
یہ کام صرف حکومت نہیں کر سکتی، مگر حکومت کے بغیر بھی نہیں ہو سکتا۔ محلہ اپنا کردار ادا کر سکتا ہے، مسجد اپنا، خیراتی ادارے اپنا، صاحبِ ثروت اپنا، اور ریاست اپنا۔ زکوٰۃ اور صدقات اپنی جگہ، مگر انفرادی خیرات کسی منظم سماجی تحفظ کا متبادل نہیں۔ اسی طرح ریاستی فلاح بھی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک معاشرہ خود اپنے کمزور لوگوں کے بارے میں بے حس رہے۔
اس پورے سانحے میں مجھے سب سے زیادہ تکلیف شاید اس بات سے ہوتی ہے کہ ہم پانچ انسانوں کی موت کو بھی ایک خبر بنا کر ختم کر دیں گے۔ چند دن بعد کسی کو یاد نہیں رہے گا کہ ڈاکٹر عمر کون تھا، اس کی بچیوں کے نام کیا تھے، وہ کس بیماری میں مبتلا تھا، اس کی بیوی نے کس خوف کے ساتھ گھر چلایا ہوگا، اور اس فریج میں وہ ایک انڈا کب سے رکھا تھا۔ ہم آگے بڑھ جائیں گے کیونکہ ہماری قومی یادداشت پہلے ہی اتنی بوجھل ہے کہ ایک اور سانحہ اس میں زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکتا۔
لیکن اس بار ہمیں رکنا چاہیے، کم از کم اس ایک انڈے کے سامنے۔
اس لیے نہیں کہ ایک انڈا پانچ انسانوں کا پیٹ بھر سکتا تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ ہمیں بتا رہا ہے کہ ہمارے درمیان ایک گھر میں زندگی کی بنیادی ضرورتیں ختم ہو چکی تھیں اور ہمیں خبر تک نہ ہوئی۔ یہ ایک گھر کی غربت سے زیادہ خطرناک بات ہے۔ یہ ہمارے اجتماعی رابطے کے ٹوٹنے کی علامت ہے۔
ریاست کو اس واقعے سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ شدید بیماری، بے روزگاری اور معاشی بحران میں گھرے شہریوں کی شناخت اور مدد کا اس کے پاس کیا نظام ہے۔ خیراتی اداروں کو سوچنا چاہیے کہ ان کے وسائل ان لوگوں تک کس طرح پہنچتے ہیں جو عزت کے ساتھ مدد کے محتاج ہیں۔ مذہبی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ حقوق العباد کی تعلیم معاشرتی اداروں میں کیسے تبدیل ہوگی۔ صاحبِ ثروت لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی حالت سے بے خبر رہ کر انفرادی نیکی کی تسکین کافی ہے یا نہیں۔ اور ہم عام لوگوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے اپنے محلے میں کوئی ایسا گھر تو نہیں جہاں آج بھی کسی فرج میں پانچ انسانوں کے لیے صرف ایک انڈا پڑا ہو۔
ہم اگر اس سوال سے بچ گئے تو اگلی بار بھی یہی ہوگا۔ کوئی اور گھر ہوگا، کوئی اور بیماری ہوگی، کوئی اور بے روزگاری ہوگی، کوئی اور خاندان ہوگا اور شاید کسی دوسرے فریج میں پھر ایک ہی انڈا ہوگا۔
اس واقعے کا سب سے بڑا المیہ پانچ انسانوں کی موت نہیں، بلکہ یہ امکان ہے کہ ان کی موت بھی ہمیں کچھ سکھائے بغیر گزر جائے۔
کیونکہ جس معاشرے میں انسان بھوک سے مرنے کے مقام تک پہنچ جائے اور اس کے پڑوسی، ریاست، مذہبی ادارے، خیراتی نظام اور صاحبِ ثروت طبقہ اس سے پہلے اسے دیکھ نہ سکے، وہاں صرف ایک خاندان نہیں مرتا؛ انسانیت کا اجتماعی جنازہ اٹھتا ہے۔
واپس کریں