دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسبابِ زوال مقامی یا عالمی؟ محمود شام
مہمان کالم
مہمان کالم
کنٹینرز، ٹینکروں، بحری جہازوں، بندرگاہوں کے بجائے راجدھانی میں کھڑے ہیں۔ پولیس سارے صوبوں سے بلائی جا رہی ہے بیانات دھمکیاں ریاستی اداروں اور عوام میں دوریاں بلکہ نفرتیں بڑھا رہی ہیں۔ مسائل اور معاملات تو حکومت میں ایک ایک شخص کو معلوم ہیں انہیں طے کرنے کے بجائے نہ طے کرنے کے لئے کروڑوں خرچ کئے جا رہے ہیں۔ پولیس اسکولوں میں قیام پذیر ہے طلبہ و طالبات گھروں میں۔ تعلیم معطل ہے۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں مصنوعی رعونت اختیار کی جا رہی ہے۔ آزادی کے 80ویں سال میں کیا ہمیں یہی منظر نامہ دیکھنا چاہئے تھا۔

تاریخ کا تصور تو یہ تھا ہجرت کرکے اپنے گھر بار چھوڑ کر آنے والے ان کیلئے اپنے گھر کے دل اور دروازے کھولنے والے دونوں کی توقع تھی کہ پارلیمنٹ سپریم ہوگی۔ اپنے مسائل حل کر رہی ہوگی۔ انتخابات منصفانہ ہو رہے ہوں گے۔ زندگی آسان ہو چکی ہوگی۔ محلے ہم آہنگی سے سرشار ہوں گے۔ ضروریات زندگی کی سستے داموں فراہمی کا نظام مستحکم ہوگا۔ قیمتیں مناسب اور آمدنی کے مطابق ہو نگی۔ ٹرانسپورٹ عام اور آرام دہ، علاج معالجے کی سہولتیں بہتر اور مفت ہوں گی۔ سب بڑے شہروں میں زیر زمین مقامی ٹرینیں میسر ہوں گی۔ صوبے آپس میں شیر و شکر ہوں گے۔ ریاست ماں جیسی ہوگی۔ عدالتیں ذیلی، عالیہ، عظمی سب انصاف دے رہی ہوں گی۔

آج اتوار ہے اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ بیٹھ کر تبادلہ خیال اور انہی منظر ناموں پر بات کرنے کا دن اور نماز عصر کے بعد محلے داری کا اشتیاق۔ پڑوسیوں سے سوال جواب۔ ایک دوسرے کے مسائل کا حل۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا ہمیں تحقیق نہیں کرنی چاہیے کہ ہم شاہراہ پاکستان سے آف روڈ کیوں اور کب ہوئے۔ میرے پاس تو اب عمر کے حوالے سے اتنا وقت نہیں ہے اور نہ ہی تحقیق کی مہارت ۔میں تو نکات بیان کر سکتا ہوں۔ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اسباب واضح ہوں گے تو قافلہ پھر جادہ پیما ہو سکتا ہے۔ بے بسی اور بے کسی کے رحجانات ختم ہو سکتے ہیں۔ ایک دوسرے سے غم بانٹ سکتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر عمر اس کی محترم رفیقہ حیات پیاری بیٹیاں زندگی سے مایوس نہیں ہوں گی۔

پاکستان ایک عظیم چیلنج تھا جو ہندوستان کے مسلمانوں نے قبول کیا تھا مشرقی اور مغربی پاکستان نے ایک مضبوط فلاحی مملکت بنانے کا عہد کیا تھا۔ مشرقی پاکستان میں بڑے سردار تھے نہ جاگیردار جو جمہوریت اور قانون کے یکساں نفاذکی ضد ہوتے ہیں۔ اس لئے وہاں سیاسی شعور بھی تھا اور جمہوری نظام بھی چل رہا تھا۔ مغربی پاکستان میں جدی پشتی سردار تھے میلوں میل جاگیریں رکھنے والے انگریز کی خوشنودی سے مربعے حاصل کرنے والے رئیس، نواب۔

ایک طرف بھارت نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ بہت سے مغربی ممالک نے بھی پاکستان کے وجود کو اپنے لئے خطرہ خیال کیا۔ باہر والوں نے ایک نئی اسلامی مملکت کو قبول نہیں کیا تو مغربی پاکستان کے تمن داروں نے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو نہ مانا۔ اس کشمکش میں ٹوٹ گیا رشتہ چاہ کا۔

یہ بھی سامنے رکھیں کہ برطانیہ نے بھی بہت نیم دلی سے تقسیم ہند کی اور مسئلہ کشمیر کو ایک مستقل ناسور کے طور پر چھوڑ دیا۔ پھر اقوام متحدہ کا کردار دیکھ لیں کہ اپنی ہی قراردادوں پر عمل نہیں کروایا ۔یہ صرف اتفاق نہیں بلکہ سوچی سمجھی اسکیم تھی۔ اقوام متحدہ میں اس وقت کون تھے بڑے بڑے امریکہ۔ سوویت یونین۔ برطانیہ۔ فرانس۔ مسئلہ کشمیر کیوں حل نہیں کروایا گیا کیونکہ اس خطے میں بدامنی اور عداوت برقرار رکھنا تھی۔ جنوبی ایشیا میں ہنر مند تھے زرخیز زمینیں تھیں معدنیات اناج تھا اگر یہاں استحکام ہو جاتا تو یورپ خطرے میں پڑ جاتا۔ تازہ تازہ دریافت کی گئی نئی دنیا امریکہ آگے نہ بڑھنے پاتی۔ پاکستان کو بھارت کی دھمکیوں کا سامنا تھا۔ کشمیر، حیدرآباد دکن، جونا گڑھ پر قبضہ ہو رہا تھا۔ سوویت یونین بھارت سے دفاعی معاہدے کر رہا تھا چین ابھی طاقتور نہیں تھا اسلئے پاکستان میں سیکورٹی خدشات غالب آتے رہے اور معاشی ترجیحات پیچھے دھکیلی جاتی رہیں۔ 1954ء میں ہی سیاست دانوں نے کمانڈر ان چیف کو کابینہ میں شامل کر لیا۔یہ فیصلہ از خود تھا یا اس میں غیر ملکی طاقتوں کا مشورہ شامل تھا۔

ہم 1950ء کی دہائی سے ہی امریکی بلاک سے وابستہ ہو گئے تھے۔اصولاً امریکہ اور یورپ کو اس نئے ملک کی صنعتی بنیاد مضبوط کرنی چاہئے تھی۔ اب 2026 ء میں تحقیق ہونی چاہئے کہ امریکہ یورپ سے بڑے بڑے معاہدوں کے باوجود پاکستان میں صنعتی شعبہ مستحکم کیوں نہیں ہوا۔ پاکستان کو اسٹیل مل روس سے کیوں لینا پڑی۔ بھاری صنعتوں کی مشینری چین سے کیوں لی گئی۔ پاکستان میں معدنی وسائل بے حساب تھے انکو بروقت دریافت کیوں نہیں کیا گیا۔ ان سے سونا تانبا دوسری دھاتیں تیل گیس قیمتی پتھر کیوں برآمد نہیں کیے گئے۔ جن علاقوں میں سونے کی کانیں تھیں۔ تیل گیس تھا وہاں مکینوں کو انسانی حقوق سے محروم کیوں رکھتے رہے۔ انتخابات میں مسلسل دھاندلیاں کیوں ہوتی رہیں۔

اپنے قدرتی معدنی افرادی وسائل پر انحصار کے بجائے قرضوں کی حکمت عملی کیوں اختیار کی گئی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے جو معاشی اقتصادی سماجی علمی اور جمہوری سبق حاصل کرنے چاہئے تھے۔ ان کے بجائے سقوط ڈھاکہ کو صرف سیاستدانوں اور فوج کی ناکامی تک کیوں محدود کر دیا گیا۔ یہ احساس ہمارے ہاں کیوں نہیں ہوا کہ دنیا کے طاقتور چند ممالک پاکستان کو متحد اور کامیاب دیکھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ امریکہ کی سینٹ کمیٹیوں کی رپورٹیں پڑھ لیں یہی کہا گیا کہ پاکستان نہ تو ناکام ہے اور نہ کامیاب۔ یہ ان کی تحقیق تھی یا خواہش۔ پاکستان کی مخالف طاقتوں کو پاکستان کو کامیابی اور ناکامی کے درمیان رکھنے والے مقامی حکمران بھی ملتے رہے۔ وزرائے اعظم امریکہ سے نامزد آتے رہے۔ ہر وزیراعظم امریکہ کے دورے کو سبقت دیتا رہا ۔وزرائے خزانہ عالمی بینک سے آئے۔ جبکہ ہمارے اپنے ماہرین امریکہ اور یورپ کو اقتصادی بلندیوں پر لے جاتے رہے۔

اور اب 21ویں صدی کی تیسری دہائی میں جب سوشل میڈیا زوروں پر ہے تحقیق کے دریچے بے شمار کھل گئے ہیں۔ اس وقت ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہم کامیابی اور ناکامی کے درمیان معلق کیوں ہیں ۔ ہم ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہیں۔ ایک ریاست کی ناکامی کو جمہوریت اور آمریت کے درمیان کشمکش تک محدود کر دیا جاتا ہے ۔ پاکستان جو ہر شعبے میں پستی میں جا رہا ہے۔ اس کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟

پاک سرزمین اب بھی بے کراں معدنی قدرتی انسانی وسائل رکھتی ہے۔ ہمارے نوجوان پر عزم، نئی ایجادات ،نئے علوم میں مہارت بھی رکھتے ہیں۔ ہم ایٹمی طاقت بھی ہیں لیکن ملک آگے نہیں بڑھ۔ زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے اور ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ تحقیق اور تحقیق ہی راہ دکھا سکتی ہے ۔ انتہائی اہم محل وقوع پر ہمیں کامیاب ہونا ہے۔ ترقی خوشحالی چند خاندانوں کا نہیں ہر پاکستانی کا مقدر ہے۔ ہمیں سامراجیوں کے پھیلائے ہوئے جال سے باہر نکلنا ہے۔
بشکریہ جنگ
واپس کریں