
خیبر پختونخوا اس وقت ایک بار پھر ملکی سیاست اور قومی سلامتی کے مباحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وفاقی وزراء، گورنر خیبر پختونخوا اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و امورِ خیبر پختونخوا کی جانب سے جو بیانات سامنے آئے ہیں ان میں صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے معاملے پر کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے اور گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت واضح کرے کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے تحت دہشت گردی کے خلاف مختص فنڈز اور وسائل کہاں خرچ کیے؟ ساڑھے 12 سال سے زائد عرصہ حکومت کے باوجود صوبے میں سیف سٹی نظام، فرانزک لیب، گاڑیوں کی رجسٹریشن کا مؤثر نظام اور پنجاب کی طرز پر محکمہ انسدادِ دہشت گردی قائم کیوں نہیں کیے گئے؟ پولیس کو مطلوبہ بلٹ پروف جیکٹس، جدید اسلحہ و دیگر سازوسامان کیوں فراہم نہیں کیا گیا، صوبے میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے باوجود صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر بھی مؤثر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا افغانستان کے ساتھ۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے برعکس بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران سرفراز بگٹی نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت متعدد اجلاس کیے، پولیس کو جدید آلات فراہم کیے اور وفاق سے افسران بھی طلب کیے۔ یہی دونوں صوبائی حکومتوں کے طرزِ عمل میں بڑا فرق ہے۔
ادھر، وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، گورنر راج آئینی و قانونی راستہ ہے جس پر مشاورت جاری ہے۔ پشاور پریس کلب میں صوبائی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (نواز) خیبر پختونخوا کے صدر امیر مقام نے مزید کہا کہ صوبے کے حالات سب کے سامنے ہیں، صوبے کے عوام ایک عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کی ترجیحات عوامی مسائل کی بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہیں۔ اسی طرح، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ جو آئین میں درج ضروریات ہیں وہ پوری ہوں تو بالکل یہ سب ہوگا۔
دوسری جانب، سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہماری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں خیبر پختونخوا میں امن لا سکتے ہیں،کچھ لوگ عقل کل بنے ہوئے ہیں اور بات سننے کو تیار نہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں، ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے نظریے اور صوبے کے حقوق کی خاطر اقتدار کی قربانی دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وفاق میں بیٹھے حکمران اپنی غلط پالیسیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹے بیانیے تراش رہے ہیں۔ ریاست کی موجودہ سکیورٹی پالیسی بالکل غلط ہے، خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا گیا مگر خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشت گردی کی ہولناک آگ میں جھونکنے کی یہ پالیسی اب کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ خیبر پختونخوا گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اولین محاذ رہا ہے۔ اس صوبے کے عوام، پولیس، سکیورٹی فورسز اور قبائلی اضلاع کے باشندوں نے ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے۔ مساجد، بازار، تعلیمی ادارے اور تھانے نشانہ بنے اور لاکھوں افراد نے نقل مکانی کا دکھ سہا۔ آج بھی افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد عناصر کی سرحد پار کارروائیاں ایک کھلا خطرہ ہیں۔ اس پس منظر میں صوبے کے عوام کو مجموعی طور پر مشکوک ٹھہرانا انصاف نہیں ہوگا۔ تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات سے نہیں جیتی جاتی۔ اس کے لیے وفاق، صوبے اور سکیورٹی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی، انٹیلی جنس کے تبادلے، پولیس کی استعداد میں اضافے اور یکساں قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ اگر صوبائی حکومت آپریشنز، طالبان سے متعلق پالیسی یا سرحد پار عناصر کے بارے میں اپنا الگ موقف رکھتی ہے تو وہ موقف قومی سلامتی کی مجموعی حکمت عملی سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کی رٹ ایک ہی ہوتی ہے اور اس کے سامنے کسی جماعت یا صوبے کی سیاسی مصلحت ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔
آئین پاکستان نے وفاق کو غیر معمولی حالات کے لیے بعض اختیارات دیے ہیں۔ آرٹیکل 232 کے تحت جنگ یا اندرونی خلفشار کی صورت میں ہنگامی حالت نافذ کی جا سکتی ہے جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں گورنر کی رپورٹ پر صدر کو مداخلت کا اختیار دیتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 17 کے تحت کسی ایسی سیاسی جماعت پر پابندی کی گنجائش موجود ہے جو پاکستان کی خودمختاری یا سالمیت کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہو۔ اس صورت میں بھی وفاقی حکومت کو معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھنا ہوتا ہے۔ اب ایسا کوئی معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے آئے گا۔ یہ سب دفعات آئین میں اس لیے رکھی گئی ہیں کہ ریاست کو کسی سنگین بحران میں بے بس نہ چھوڑا جائے۔ لیکن ان اختیارات کا استعمال ہمیشہ آخری چارہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔ گورنر راج اور ہنگامی حالت اپنی نوعیت کے اعتبار سے منتخب جمہوری عمل کو معطل کرنے کے مترادف ہیں۔
ماضی میں جب بھی صوبوں میں گورنر راج نافذ کیا گیا اس سے بحران حل ہونے کی بجائے گہرے ہوئے، وفاق اور صوبے کے درمیان بداعتمادی بڑھی اور سیاسی کشیدگی نے نئی شکلیں اختیار کیں۔ اٹھارھویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کا جو تصور مضبوط ہوا ہے اس کے تناظر میں ایسا کوئی قدم اور بھی حساس ہو جاتا ہے۔ کسی سیاسی جماعت پر پابندی بھی، جس کی حمایت لاکھوں ووٹرز کرتے ہوں، محض قانونی سوال نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی و سیاسی سوال ہے۔ اس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سیاسی سرگرمیاں زیرزمین چلی جائیں اور انتہا پسندی کو مزید تقویت ملے۔
پاکستان اس وقت معاشی دباؤ، سرحدی کشیدگی اور اندرونی سلامتی کے چیلنجوں کا بیک وقت سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں سب سے بڑی ضرورت سیاسی استحکام کی ہے۔ سیاسی استحکام ہی سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ سرمایہ کار اسی وقت اعتماد کرتا ہے جب ملک میں آئینی تسلسل اور سیاسی ہم آہنگی دکھائی دے۔ اگر ایک صوبے میں گورنر راج لگتا ہے، سڑکوں پر احتجاج ہوتا ہے اور اسمبلیوں میں تصادم بڑھتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ ان عناصر کو پہنچے گا جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔ دشمن کو وہ موقع نہیں ملنا چاہیے کہ وہ ہماری داخلی تقسیم سے فائدہ اٹھائے، لہٰذا طاقت کے استعمال کی بجائے مکالمے کا راستہ اپنایا جائے۔ صوبائی حکومت کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ وفاق کو للکارنے کی بجائے قومی سلامتی کے معاملات پر لچک اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ صوبائی حکومت پر عائد الزامات کی غیر جانبدارانہ چھان بین ہونی چاہیے اور پی ٹی آئی کو دوٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے مفادات اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے کے ساتھ کھڑی ہے۔ وفاق کو گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے انتہائی اقدامات سے پہلے پوری سنجیدگی سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مذاکرات کی دعوت دینی چاہیے۔ سیاسی قیادت کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ ملک مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
واپس کریں