دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
معلومات بہت، دانائی کتنی؟
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
انسانی تہذیب کی داستان کو اگر صرف ایجادات، جنگوں، سلطنتوں، سائنسی دریافتوں اور معاشی ترقی کے واقعات سمجھا جائے تو اس کے ایک اہم پہلو سے محرومی رہ جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک خاموش مگر مسلسل سفر بھی جاری ہے: معلومات سے فہم، فہم سے بصیرت، بصیرت سے حکمت اور حکمت سے دانائی تک۔ انسان نے آگ دریافت کی تو اسے ایک تجربہ حاصل ہوا؛ اسے خوراک، دھات اور روشنی کے لیے منظم کیا تو علم پیدا ہوا؛ لیکن جب اس نے یہ سوچنا شروع کیا کہ ہر طاقت کا استعمال کب، کیوں اور کس حد تک ہونا چاہیے تو علم نے حکمت کی طرف قدم بڑھایا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ذہانت محض حساب کرنے والی قوت نہیں رہتی بلکہ انتخاب کرنے والی بصیرت بن جاتی ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: "يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا"، یعنی اللہ جسے حکمت عطا کرتا ہے اسے بہت بڑی خیر عطا ہوتی ہے۔ گویا حکمت محض معلومات نہیں بلکہ علم کو خیر، عمل اور ذمہ داری سے جوڑنے کی صلاحیت ہے۔

آج انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمارے پاس ایسی مشینی قوتیں موجود ہیں جو چند لمحوں میں وہ معلومات تلاش، ترتیب اور تجزیہ کرسکتی ہیں جنہیں ایک فرد اپنی پوری زندگی میں بھی جمع نہ کرسکے۔ مگر معلومات کی کثرت نے انسان کو لازماً دانا نہیں بنایا۔ اطلاعات کے سیلاب، فوری ابلاغ، مصنوعی ذہانت اور الگورتھمی فیصلوں کے عہد نے یہ سوال مزید اہم کردیا ہے کہ جاننے اور سمجھنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے، اور فیصلہ کرنے اور درست فیصلہ کرنے میں کتنا فاصلہ ہے؟ ایک شخص ہزاروں صفحات پڑھ سکتا ہے مگر اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکے؛ پیچیدہ معاشی نمونے بنا سکتا ہے مگر کسی کمزور انسان کے دکھ کو نہ سمجھ سکے۔ وہ عالم اور ماہر ہوسکتا ہے، مگر لازماً دانا نہیں۔ دانائی وہاں جنم لیتی ہے جہاں علم کے ساتھ خود شناسی، تجربے کے ساتھ توازن، طاقت کے ساتھ ذمہ داری اور فیصلے کے ساتھ اخلاق شامل ہوجائیں۔

سائنس نے بھی انسان کو اپنی پیچیدگی کا شعور دیا ہے۔ طبیعیات نے مادے کی گہرائیوں کو آشکار کیا، حیاتیات نے جینیات، اعصابی نظام اور ماحول کے باہمی تعلقات کو سمجھنے میں مدد دی، جبکہ دماغی علوم نے واضح کیا کہ فیصلہ سازی کسی ایک عقلی مرکز کا عمل نہیں بلکہ متعدد عصبی نظاموں کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہے۔ حکمت سے متعلق عصبی تحقیق جذباتی نظم، فیصلہ سازی، سماجی خیرخواہی اور خود احتسابی جیسے عناصر پر توجہ دیتی ہے، اگرچہ اس میدان کے ماڈل ابھی حتمی نہیں۔ یہی علمی احتیاط خود حکمت کی ایک مثال ہے: جہاں ثبوت ہو وہاں دعویٰ، اور جہاں ثبوت نامکمل ہو وہاں احتمال کو احتمال ہی رہنے دینا۔ اسی طرح عمر اور حکمت کے تعلق کو بھی سادہ مساوات نہیں سمجھا جاسکتا۔ وقت خود دانائی نہیں دیتا؛ انسان اگر اپنے تجربات سے سبق لے تو وقت دانائی کا وسیلہ بنتا ہے۔ ایک ہی حادثہ کسی کو زیادہ متوازن اور رحم دل بنا سکتا ہے اور کسی دوسرے کو تلخ اور بدگمان۔ فرق واقعے میں نہیں، اس کی تعبیر میں ہوتا ہے۔

مصنوعی ذہانت نے اس سوال کو مزید گہرا کردیا ہے۔ آج مشینی نظام زبان پیدا کرسکتے، تصاویر کا تجزیہ کرسکتے، نمونے شناخت کرسکتے اور پیچیدہ مسائل میں انسانی معاون بن سکتے ہیں؛ مگر ذہین عمل اور دانائی ایک چیز نہیں۔ ایک نظام بہترین شماریاتی جواب دے سکتا ہے، مگر یہ خود طے نہیں کرسکتا کہ مطلوبہ مقصد اخلاقاً درست بھی ہے یا نہیں۔ وہ کسی فیصلے کے ممکنہ نتائج بتا سکتا ہے، مگر یہ فیصلہ انسان ہی کو کرنا ہوگا کہ کس نتیجے کو ترجیح دینی چاہیے۔ ملازمت، طب، مالیات یا جنگ جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ سوال صرف درستگی کا نہیں بلکہ انصاف، رازداری، شفافیت، انسانی نگرانی اور جواب دہی کا بھی ہے۔ اس لیے مستقبل کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ مشین کتنی ذہین ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ انسان اس ذہانت کو کس اخلاقی نظم کے تابع رکھے گا۔ طاقت بڑھانا آسان ہے؛ طاقت کو ذمہ داری کے تابع رکھنا حکمت ہے۔

قرآن مجید نے دعوت کے اسلوب میں بھی فرمایا: "ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ"۔ اس میں حکمت صرف درست بات کہنے کا نام نہیں بلکہ مخاطب کی حالت، گفتگو کے اسلوب اور اختلاف کے اخلاق کو بھی شامل ہے۔ آج کے ڈیجیٹل عہد میں یہ تعلیم پہلے سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ ایک غیر ذمہ دارانہ جملہ چند لمحوں میں لاکھوں ذہنوں تک پہنچ سکتا ہے۔ دانائی کا تقاضا صرف درست معلومات پھیلانا نہیں بلکہ خبر کی صحت جانچنا، سیاق سمجھنا، اختلاف کرنے والے انسان کا احترام کرنا اور اپنے الفاظ کے اجتماعی اثر پر غور کرنا بھی ہے۔

حکمت کا آخری مرحلہ معلومات جمع کرنا نہیں بلکہ ترجیحات متعین کرنا ہے۔ دانا انسان وہ نہیں جو ہر سوال کا فوری جواب دے، بلکہ وہ بھی ہوسکتا ہے جو جان لے کہ ابھی جواب دینا قبل از وقت ہے۔ وہ اپنی رائے تبدیل کرنے کو شکست نہیں بلکہ حقیقت سے وفاداری سمجھتا ہے، اپنی غلطی تسلیم کرنے کو کمزوری نہیں بلکہ کردار کی قوت جانتا ہے اور اپنی طاقت کو دوسروں کی خیر کے تابع رکھتا ہے۔ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ کیا ممکن ہے؛ دانائی پوچھتی ہے کہ کیا مناسب ہے۔ حکمت راستہ دکھاتی ہے؛ دانائی منزل پر غور کرتی ہے۔ حکمت طاقت کو استعمال کرنا سکھاتی ہے؛ دانائی طاقت کو محدود کرنا بھی سکھاتی ہے۔

انسان غار سے شہر، قلم سے کمپیوٹر اور کتاب سے عالمی معلوماتی جال تک پہنچ چکا ہے؛ اب وہ مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہوچکا ہے۔ مگر اصل سفر ابھی باقی ہے۔ مستقبل کا سب سے بڑا انقلاب شاید کسی نئی مشین کی ایجاد نہیں بلکہ انسانی فیصلے کے معیار کی بلندی ہوگا۔ جب انسان یہ سیکھ لے گا کہ ہر قابلِ حصول چیز قابلِ ترجیح نہیں، ہر تیز فیصلہ درست نہیں، ہر کامیابی خیر نہیں اور ہر طاقت استعمال کرنے کے لیے نہیں ہوتی، تب علم اپنے اعلیٰ ترین مقصد سے قریب ہوگا۔ یہی حکمت سے دانائی کا سفر ہے: جاننے سے سمجھنے تک، سمجھنے سے سنبھلنے تک، سنبھلنے سے سنوارنے تک، اور آخرکار اپنی حاصل کردہ طاقت کو خیر کے تابع کرنے تک۔

واپس کریں