
پاکستان میں صحافت اب ایک ایسا منافع بخش کاروبار بن چکی ہے جہاں اگر آپ کی رال ٹپکتی ہو اور زبان پر تہذیب کا کوئی ملمع نہ ہو، تو آپ کے وارے نیارے ہیں۔
آج کل ملک میں دو طرح کے صحافی پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ عظیم دانشور اور یوٹیوب کے مجاہدین ہیں جنہیں گالیاں دینے اور کھانے کے بدلے فیس بک اور یوٹیوب سے ڈالروں کے ہرے ہرے نوٹ ملتے ہیں۔ انہوں نے گالیوں کو کرنسی بنا لیا ہے جتنی غلیظ زبان، اتنے زیادہ ویوز، اور اتنا ہی تگڑا بینک بیلنس۔ وہ ڈالروں کی برسات میں نہاتے ہیں اور قوم انہیں انقلابی اور حق سچ کی آواز کا تمغہ دیتی ہے۔
اور دوسری طرف ہم دو بدقسمت ہیں یعنی میں شبیر درانی اور خالد خان جنہیں سچ بولنے کا خبط ہے اور جو اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ قلم کی کوئی حرمت ہوتی ہے۔ ہمارے حصے میں نہ تو امریکی ڈالر آتے ہیں اور نہ ہی کوئی لفافہ ہمارے اکاؤنٹ میں صرف اور صرف قارئین کی وہ غلیظ گالیاں آتی ہیں جنہیں سن کر شیطان بھی پناہ مانگے۔
ملک کی سیاسی اشرافیہ کا حال یہ ہے کہ اگر ہم پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاسی قلابازیوں، خاندانی بادشاہت اور اقتدار کے لیے نظریات کی قربانی پر قلم اٹھائیں، تو ان کے جیالے اور متوالے ہمیں فوراً تحریکِ انصاف کا لانچ کردہ ایجنٹ قرار دے دیتے ہیں۔ ہماری سات نسلوں کا شجرہ نسب نکال کر ہمیں زرد صحافی کہا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر ہماری وہ تواضع کی جاتی ہے کہ بندہ سوچے کہ شاید ان سے بڑا کوئی پارسا دنیا میں آیا ہی نہیں۔
چلو، دل کو تسلی دی کہ دوسری طرف تبدیلی کے دعویدار بیٹھے ہیں، شاید وہ کچھ حیا کریں۔ لیکن جیسے ہی ہم تحریکِ انصاف کے جوشیلے نوجوانوں کو یہ مخلصانہ نصیحت کرتے ہیں کہ حضور! ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانکیں، آپ کے پارلیمنٹیرینز اور مقتدر رہنما بھی اتنے ہی کمپرومائزڈ ہیں جتنا یہ پرانا نظام تو بس پھر کیا ہے! انقلاب کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے اور گالیوں کی وہ بوچھاڑ ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ یوں لگتا ہے جیسے تحریکِ انصاف کا منشور انصاف نہیں، بلکہ پہلے گالی، پھر بات ہے۔
ان حالات میں ہم دونوں کا دل خون کے آنسو روتا ہے اور ایک بڑا ہی معقول تجارتی سوال ذہن میں کلبلاتا ہے کہ آخر ہم یہ خسارے کا سودا کیوں کر رہے ہیں ؟
کیا ہم اس فکری طور پر مفلوج معاشرے میں سچائی کا پرچم اٹھائے بیوقوف بنے رہیں ؟
کیا ہم بھی صحافت کو خیرباد کہیں، قلم کو کسی کباڑیے کے ہاتھ بیچیں اور کسی چوک چوراہے پر جا کر سانڈ کا تیل بیچنا شروع کر دیں ؟
یقین جانیے، وہاں عزتِ نفس تو مجروح نہیں ہوگی۔ وہاں جھوٹ بیچنے پر کوئی ماں بہن کی گالی نہیں دے گا، بلکہ خریدار داد دیں گے، دیسی گھی کے فائدے سنیں گے اور شام کو دال روٹی کے لیے حلال کے چند پیسے عزت کے ساتھ جیب میں ہوں گے۔
سانڈ کا تیل بیچنا اس ڈالروں کی اندھی صحافت سے ہزار درجہ معتبر ہے جہاں ضمیر کا سودا روز کا معمول ہے۔
آج کا قاری سچ کا متلاشی نہیں ہے، وہ صرف اپنے سیاسی بتوں کی پوجا کا بیانیہ چاہتا ہے۔ اگر آپ اس کے پسندیدہ لیڈر کے گناہ بھی دھو کر اسے فرشتہ ثابت کریں تو آپ بقراطِ وقت ہیں، اور اگر آپ نے اس کے بت کے پیروں کے مٹی کے ہونے کی نشاندہی کر دی، تو آپ غدار، بکاؤ اور زرد صحافی ہیں۔
لیکن بحیثیت صحافی، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہماری اور ہمارے اس قلم کی اوقات واقعی سانڈ کا تیل بیچنے والے جتنی رہ گئی ہے؟ معاشرہ کتنا ہی بیمار کیوں نہ ہو جائے، سچ لکھنے والوں کو اپنا دامن جاہلوں کے خوف سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ڈالروں کی اس اندھی ریس اور گالیوں کے بازار میں، اگر میں اور خالد خان جیسے چند سرپھرے بھی مصلحت کا شکار ہو کر خاموش ہو گئے، تو پھر اس ملک میں صرف سیاسی مداریوں کا تماشہ ہی باقی رہ جائے گا، اور سچائی کا جنازہ اتنی دھوم دھام سے نکلے گا کہ کوئی کندھا دینے والا بھی نہیں ملے گا۔
واپس کریں