حملوں کیخلاف پاکستان سعودیہ مشترکہ کوششوں کے عزم کا اعادہ

پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کے مطابق مکہ مکرمہ نیز سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ پیغام کے مطابق ملاقات میں پاک سعودی باہمی دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے اور دوطرفہ عسکری تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران مکہ معاہدے کے تحت دفاعی کوششیں بھرپور طریقے سے جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا گیا، جبکہ مکہ معاہدے کے رکن ممالک کے عسکری سربراہان کے حالیہ اجلاس کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ ملاقات میں مکہ مکرمہ اور سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے بھی خصوصی بات چیت کی گئی اور مکہ معاہدے کے تحت ایسے کسی بھی خطرے یا حملے کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں اور اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ اس تناظر میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک ایرانی حملوں کا نشانہ بنے ہیں، جبکہ اہم آبی گزرگاہوں کو دباؤ اور بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا قابلِ قبول نہیں۔پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے ساتھ اخوت و محبت اور مشترکہ دفاعی معاہدوں کے بندھن میں بندھے ہیں۔ سعودی عرب میں مقدس مقامات کی حفاظت ہمارے لیے محض دفاعی معاملہ نہیں بلکہ عقیدت کا حصہ بھی ہے۔ موجودہ علاقائی کشیدگی میں ایران خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کا جواز پیش کرتا رہا ہے، لیکن اس نوعیت کے حملوں اور جوابی کارروائیوں سے پوری مسلم دنیا میں اضطراب پیدا ہو رہا ہے۔ دوسری جانب حوثیوں کو طویل عرصے سے ایران کی حمایت حاصل ہونے کے شواہد اور الزامات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ایران حالیہ حوثی کارروائیوں سے خود کو الگ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر تہران واقعی ان حملوں اور حوثیوں کی موجودہ پالیسی سے متفق نہیں تو کیا وہ حوثیوں سے عملی لاتعلقی اختیار کرے گا؟مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بارے میں سعودی عرب نے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے، تاہم حوثی اس الزام کی تردید کر تے ہیں۔ اس اختلاف سے قطع نظر، مقدس مقامات کو کسی بھی جنگ یا علاقائی تنازعے کا ہدف بنانے کی سوچ پوری مسلم دنیا کے لیے ناقابلِ قبول ہونی چاہیے۔ اگر کوئی گروہ مقدس مقامات کو نشانہ بناتا ہے تو مسلم ممالک کو اس کے خلاف واضح اور مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم قیادتیں او آئی سی کے پلیٹ فارم پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایک ایسا مؤثر لائحہ عمل طے کریں جس کے تحت مسلم ممالک اور خطے کے فریق ایک دوسرے کے خلاف حملے بند کریں اور اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ موجودہ حالات میں مسلم دنیا کے اندر مزید محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں۔ بیرونی طاقتوں کے اپنے مفادات اور ترجیحات ہیں، اس لیے مسلم ممالک کو باہمی اختلافات کم کرکے اپنے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ سیاسی اور سفارتی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ خطے میں امن، مقدس مقامات کا تحفظ اور مسلم ممالک کی خودمختاری اسی صورت یقینی بن سکتی ہے جب تصادم کے بجائے مکالمے اور باہمی تعاون کو ترجیح دی جائے۔
واپس کریں