دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عالمی بحری تجارت اور سپلائی چین کا خطرہ
No image یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہاز پر حملوں کے واقعات نے بین الاقوامی امن اور عالمی بحری تجارت کیلئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔اس قسم کے ایک تازہ حملے میں تین پاکستانیوں کے جاں بحق اور ایک کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔یمن کے قریبی سمندر میں یہ افسوسناک صورتحال عالمی بحری قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان سمندری تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر یقین رکھتا ہے اور واقعے کی تفصیلات کیلئے سعودی حکام اور یمنی حکومت سے رابطے میں ہے۔ قبل ازیں 22 جولائی کو بھی دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کارروائی کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان کے سمندری مفادات کیخلاف کوئی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس بحران کے پائیدار حل کیلئے پاکستان نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونیوالے بحری اتحاد کے معاہدے کو فوری طور پر آپریشنل کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔
30 جولائی کو سعودی دارالحکومت ریاض میں 14ممالک پر مشتمل ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا جس کا مقصد آبنائے باب المندب‘ بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے ذریعے جہاز رانی کے عالمی راستوں کی حفاظت کرنا ہے۔ خلیج فارس میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی رسد کا انحصار آبنائے باب المندب پر بڑھ گیا ہے۔ پاکستان بھی اب بحیرۂ احمر کے کنارے واقع سعودی بندرگاہ ینبع سے باب المندب کے راستے تیل درآمد کر رہا ہے تاہم تجارتی جہازوں پر حملوں اور تزویراتی آبی گزرگاہوں میں خلل سے عالمی بحری تجارت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر خلیج فارس کے بعد بحیرۂ احمر جیسی اہم بحری گزرگاہ تجارتی جہاز رانی کیلئے غیر محفوظ ہوگئی تو یہ عالمی بحری تجارت اور دنیا بھر کی سپلائی چین کیلئے تباہ کن ہو گا۔ بحیرۂ احمر کے اس حصے میں عدم تحفظ شدت اختیار کر گیا تو بحری جہازوں کو براعظم افریقہ کا طویل چکر کاٹ کر جانا پڑے گا جس سے مال برداری کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا اور عالمی منڈیوں میں مہنگائی کا خوفناک طوفان جنم لے گا۔
پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کیلئے‘ جو پہلے ہی مالیاتی بحران کا شکار ہیں‘ اس بحری گزرگاہ کا تحفظ معاشی بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر اس گمبھیر مسئلے کا فوری طور پر کوئی سیاسی اور سفارتی حل نہ نکالا گیا تو خلیج کی جنگ بحیرۂ احمر اور بحیرہ عرب تک وسیع ہو جانے کے اندیشہ ہے‘ اور یہ کشیدگی علاقائی تصادم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ علاقائی طاقتوں کی ممکنہ شمولیت کے باعث وسیع تر علاقائی کشیدگی میں تبدیل ہو سکتی ہے جسکے اثرات مشرقِ وسطیٰ‘ افریقہ اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر کیلئے ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نہ صرف آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی رکاوٹیں دور کی جائیں‘ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو ہر قسم کی کشیدگی سے محفوظ رکھنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر سفارتی کوششوں کا آغاز بھی کیا جائے۔ آبنائے ہرمز کا تنازع تو ایران امریکہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوا مگر باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کیلئے رکاوٹیں اور بڑھتے ہوئے خطرات کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔
یہ مسئلہ اگر جلد حل نہ ہوا تو بعید نہیں کہ علاقائی ممالک کو اپنے بحری آمدورفت کے حقوق کو یقینی بنانے کیلئے طاقت کا استعمال کرنا پڑے۔ بہتر ہے کہ نوبت یہاں تک نہ آئے اور سفارتی کوششوں سے صورتحال معمول کے مطابق آجائے۔ فریقین کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ اس بحران کا پُرامن سفارتی حل ہی دنیا کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ پاکستان نے اپنامؤقف واضح کر دیا‘ اب علاقائی ممالک کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا‘ اس سے پہلے کہ بحیرۂ احمر کے پانیوں کی یہ چنگاری پوری دنیا کی معیشت اور امن کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔
واپس کریں