دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
شہباز شریف ’حق حکمرانی‘ کھو چکے ہیں! سید مجاہد علی
No image ایک وزیر کی طرف سے نظام ناکام ہو جانے کا دعویٰ کرنے اور انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز کے بعد ملک میں نئے صوبے قائم کرنے کے حوالے سے شدید بحث کا آغاز ہوا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ بحث نہ اصولوں کی بنیاد پر ہے اور نہ ہی اس سے ملک میں جمہوری روایت و انتظام مستحکم ہونے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس عوام میں یہ تاثر قوی ہوا ہے کہ سیاست دان اقتدار تو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
محسن نقوی کے بیان کے بارے میں عام طور سے یہی مانا جا رہا ہے کہ وہ فوج کی طرف سے سیاسی پارٹیوں کو پیغام ہے کہ وہ ملک میں نئے انتظامی یونٹ بنانے پر اتفاق رائے کر لیں ورنہ یہ نظام ناکام سمجھا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے بھی شاید اسی کو نظام کی ناکامی سے تعبیر کیا تھا۔ اس بیان کے بعد آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اگرچہ وزیر داخلہ کے خیالات کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ملک کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے انتظامی یونٹوں میں اضافہ بے حد ضروری ہے۔ ملک کے لیڈروں کو آئین کے مطابق اس بارے میں فیصلہ کر لینا چاہیے۔
گویا جو پیغام وزیر داخلہ نے پہنچایا تھا، آئی ایس پی آر کے سربراہ نے اس کی تصدیق کردی۔ اب اس معاملہ پر تو لے دے ہو رہی ہے کہ ایک ناکام وزارت داخلہ اور ناکام کرکٹ بورڈ کی سربراہی کرنے والا شخص کیسے نظام پر سوال اٹھا سکتا ہے۔ اور متعدد وفاقی وزرا نے اس بارے میں مختلف انداز میں محسن نقوی پر تنقید بھی کی ہے لیکن کسی ذمہ دار عہدیدار جو اس صورت میں صرف وزیر اعظم ہو سکتا ہے یا کسی سیاسی پارٹی کی طرف سے یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کہ ملک میں آئینی پارلیمنٹ موجود ہونے اور مناسب قانونی فورمز دستیاب ہونے کے باوجود وزیر داخلہ اور آئی ایس پی آر کے سربراہ نے نئے صوبوں کے قیام جیسے حساس اور پیچیدہ معاملہ پر مباحثہ کا آغاز کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ وزیر اعظم کو اپنے وزیر داخلہ سے جواب طلب کرنے کی ضرورت تھی کہ اس نے کابینہ میں اپنے اعتراضات پیش کرنے کی بجائے، ایک معاشی سمٹ میں یہ پیغام کیوں عام کیا۔ پارلیمانی جمہوری روایت میں یہ ایک ایسا جرم ہے جس کے ارتکاب کے بعد کوئی وزیر کابینہ کا حصہ نہیں رہ سکتا۔ لیکن وزیر اعظم منقار زیر پر رہے۔ یہ سوال کرنا تو خیر شہباز شریف کی کم حوصلگی کا پردہ فاش کرنے کے مترادف ہو گا کہ وہ آئی ایس پی آر کے سربراہ سے استفسار کرتے کہ سکیورٹی کے معاملہ پر منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں انہوں نے اہم آئینی معاملات پر کیوں رائے زنی کی۔
ماضی میں شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کو یہی مشورہ دیتے رہے ہیں کہ فوج اگر رولز آف گیم کی خلاف ورزی بھی کرتی ہے تو درگزر سے کام لیا جائے اور تنازعہ بڑھانے سے گریز کیا جائے۔ اس لیے وہ وزیر اعظم کے طور پر کبھی اس معاملہ پر زبان نہیں کھول سکیں گے۔ البتہ لگتا ہے کہ ان کے بڑے بھائی جو چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی خواہش پوری نہ ہونے کے بعد اب اپنی پارٹی کی سربراہی کر رہے ہیں، خود بھی شہباز شریف کا سکھایا ہوا سبق اچھی طرح یاد کرچکے ہیں۔ ملک میں ’ووٹ کو عزت دو ، مجھے کیوں نکالا اور عوام کی رائے کا احترام کرو‘ جیسے نعروں کے بعد اب وہ خاموشی ہی کو مناسب حکمت عملی سمجھتے ہیں۔ اسی لیے اب انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ پارٹی لیڈر اور وزرا محسن نقوی کا بیان ’نظر انداز‘ کریں۔ دوسرے لفظوں میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی ذمہ داری پورا کرنے، نظم حکومت کی اصلاح اور اداروں کی خود مختاری کے سوال پر خاموش رہنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔
متعدد یوٹیوبرز اور کالم نگار یہ واضح کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی شاید اس سوال پر کوئی سخت موقف اختیار نہ کرے اور اس مشکل مرحلہ سے نکلنے کی کوشش کی جائے۔ یہ رویہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک کے لیڈر اقتدار لینا اور پروٹوکول کے مزے تو اٹھانا چاہتے ہیں لیکن سیاسی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ بیشتر تجزیہ نگار تسلسل سے ملکی سیاسی و آئینی مسائل کی ذمہ داری ان طویل فوجی ادوار کو قرار دیتے ہیں جب فوج نے ملک پر اپنی مرضی مسلط کی تھی۔ لیکن اس وقت نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے علاوہ صدر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خاموشی سے یہی واضح ہوتا ہے کہ ملکی معاملات میں بگاڑ کی ساری ذمہ داری صرف فوج پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ ملک کی سیاسی قیادت بھی اس معاملہ میں برابر کی ذمہ دار ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ معمولی سے معمولی معاملہ پر حکومت کی ٹانگ کھینچنے والے تحریک انصاف کے لیڈر یا مولانا فضل الرحمان بھی اس معاملہ میں کوئی رائے دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ گویا انہیں بھی ہمہ وقت ’حکم حاکم‘ کا انتظار رہتا ہے تاکہ اپنے حصے کا ’رزق‘ ملتا رہے۔
کسی پارلیمانی جمہوری نظام میں مفادات کے ایسے ارتکاز ور سیاسی لیڈروں کی اس بے حسی سے محض یہی واضح ہوتا ہے کہ جمہوریت کا سوال نعروں اور نصاب میں سبق کے طور پر شامل کرنے کے باوجود کوئی بھی درحقیقت کسی جمہوری طریقے کو ماننے اور اس پر اصرار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ محسن نقوی نے فوج کا پیغام سیاسی لیڈروں تک پہنچایا ہے اور اس میں وزن پیدا کرنے کے لیے نظام کی ناکامی کا تڑکا لگایا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محسن نقوی کو کابینہ میں کیوں شامل کیا گیا یا اسے ابھی تک کیوں استعفی ٰ دینے کا پیغام نہیں دیا گیا۔ ویسے بھی نظام کی ناکامی کے بارے میں وزیر داخلہ کی بات کو اگر درست مان لیا جائے تو ایک اکنامک سمٹ میں ان کی گفتگو درحقیقت اس ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ کسی فعال حکومت کا کوئی وزیر، وزیر اعظم کے نوٹس اور اجازت کے بغیر کسی پبلک فورم پر ایسی گفتگو نہیں کر سکتا۔ اگرچہ اب یہ خبریں بھی عام ہو رہی ہیں کہ وزیر داخلہ نے متعلقہ تقریر سے پہلے شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات کر کے انہیں اپنی گفتگو کے متن سے آگاہ کر دیا تھا اور وزیر اعظم نے اس کی ’اجازت‘ بھی دے دی تھی۔ اس طرح اگر سیاسی لیڈر عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان کا اقتدار فوج کے رحم و کرم کی وجہ سے قائم ہے، تو یہ بات بہر حال واضح ہونی چاہیے کہ ملک پر صرف انہی لوگوں کو حکومتی انتظام سنبھالنے کا حق ملنا چاہیے جو اپنے ضمیر کی آواز اور پارلیمنٹ کی رائے کے مطابق امور مملکت چلائیں۔ موجودہ صورت حال میں شہباز شریف ملک پر حکومت کے حق سے محروم ہوچکے ہیں۔
صوبوں کی تعداد میں اضافے کا معاملہ حرف ممنوع نہیں ہے لیکن اسے سیاسی فورمز پر سیاسی طریقے سے حقائق اور عوامی ضرورتوں کے مطابق زیر غور لانے اور ان پر مناسب فیصلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بین اللسانی و بین الثقافتی معاشرے میں محض انتظامی سہولتوں کے لیے جغرافیائی تقسیم کے فیصلے ناجائز اور ناکام ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس سے پہلے ون یونٹ کا تجربہ اسی لیے ناکام ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کسی صوبے کو تقسیم نہ کرنے کا اصول اس لیے نہیں مانا جاسکتا کہ کسی ایک پارٹی کا سیاسی مستقبل اس صوبے کو ’متحد‘ رکھنے پر منحصر ہے۔
تاہم دوسری طرف فوج، اسٹیبلشمنٹ اور محسن نقوی کو بھی مان لینا چاہیے کہ بہتر انتظام کے لئے صوبوں کی تعداد میں اضافہ ایک خام اور ناقص تصور ہے جس کی کوئی سیاسی بنیاد موجود نہیں ہے۔ نئے صوبے بنانے سے، نئے عہدے اور بیورو کریسی تخلیق ہوگی اور اشرافیہ کی ایک نئی نسل پروان چڑھے گی۔ اگر ملک میں انتظامی حالات بہتر بنانے کا شوق ہے تو آئین کے مطابق سب صوبوں کو مقامی حکومتیں قائم کرنے اور وسائل و اختیارات ان تک منتقل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس کے بعد نئے صوبے بنانے کی بحث بھی ہوتی رہے گی۔
بشکریہ: کاروان ناروے
واپس کریں