دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
میں اور برقی دنیا (حصہ دوم)
منظر الحق
منظر الحق
اب جب برقی دنیا کے کوچے میں قدم رکھ ہی دیا ہے، تو چند اور کرداروں سے بھی آپ کو متعارف کرا دوں۔ یہ سب میرے پرانے شناسا ہیں، اگرچہ ان کے اصل نام انگریزی میں ہیں اور مگر ہم نے اپنی عنقا لغت میں انہیں اردو کے لباس میں زیب تن کر دیا ہے۔

"چیٹ جی پی ٹی" میرے نزدیک "برقی ہم نشین" ہے،یہ ایسا خاموش طبع رفیق ہے، جو نہ چائے کی فرمائش کرتا ہے اور نہ بسکٹ مانگتا ہے، یہ نہ تھکتا ہے اور نہ ہی گفتگو کے درمیان گھڑی دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ البتہ کبھی کبھی اتنا مودب ہو جاتا ہے، کہ آدمی کو شک ہونے لگتا ہے، کہیں اس نے سرکاری ملازمت تو اختیار نہیں کر لی!

"مصنوعی ذہانت (AI)" کو میں "برقی عقل" کہتا ہوں،یہ برقی مصنوعی عقل تو ہے، مگر ابھی تک اماں جی کی ڈانٹ، بیگم کے اشارے اور بچوں کی ضد کو پوری طرح نہیں سمجھ سکی۔ اسی لیے انسان کو فی الحال، بے روزگار ہونے کی زیادہ فکر نہیں کرنی چاہیے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

"ٹک ٹاک" میرے نزدیک "پلک جھپک تماشا" ہے، جہاں چند لمحوں(سیکنڈ) میں لوگ جید عالم، شاعر و ادیب،چٹ پٹے باورچی، طبیب و حکیم،فنکارانہ رقاص اور گہرے فلسفی سب ہی کچھ بن جاتے ہیں۔ دیکھنے و سننے والا حیران و پریشان ششدر رہ جاتا ہے، اتنی صلاحیتیں آخر کہاں مخفی تھیں اور یکدم پلک جھبتے ظاہر ہو گئیں!

"لنکڈاِن" کو میں "روزگار منڈی" کہتا ہوں۔ یہاں ہر شخص اپنی تعریف اس پیرائے میں کرتا ہے، کہ اگر آدھی بات بھی سچ ہو تو دنیا کے سارے ادارے بند ہو جائیں اور صرف وہی ایک عقل کل ملازم کافی ہو۔

"وائی فائی" میرے نزدیک "بے تار رشتہ" ہے،جب یہ رشتہ جڑا رہتا ہے، گھر میں امن و سکون رہتا ہے اور گر منقطع ہو جائے ،تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بجلی، پانی اور گیس تینوں ایک ساتھ بند ہو گئے ہوں،سارا گھرانہ مفلوج ہو جاتا ہے،جیسے برقی موت واقع ہو گئی ہے۔

"پاس ورڈ" کو میں "برقی کنجی" کہتا ہوں، یہ ایسی کنجی ہے جو مالک بھی اکثر بھول جاتا ہے، مگر مشین اسے کبھی نہیں بھولتی۔اس کے بغیر برقی دنیا میں داخلہ ممنوع ہے،اس کی افادیت یہ ہے، کوئ دوسرا شخص ذاتی برقی دنیا میں قدم رنجہ نہیں فرما سکتا اور اگر بد معاشی سے وہ پہنچ گیا،پھر آپ کی چندیا صاف اور خزانے خالی کر دے گا۔

"بلیوٹوتھ" میرے لیے "نیلا دانت" نہیں بلکہ " برقی قاصد" ہے، دو مشینیں خاموشی سے ایک دوسرے کو علیک سلیک کر لیتی ہیں اور سامان بھی ارسال کر دیتی ہیں، بناء کسی ڈاکیے کے۔

"نیٹ فلکس" کو میں "تماشہ خانہ" کہتا ہوں، یہاں ایک فلم دیکھنے بیٹھیں تو اگلی خود ہاتھ پکڑ لیتی ہے، پھر آگے پیچھے سر تا سرت قطار لگ جاتی ہے، یہاں تک کہ رات بھی رخصت ہو جاتی ہے اور نیند بھی۔

بس یہی ہے ہماری برقی دنیا، اس سے لڑائ جھگڑے کی کیا ضرورت اور دنیا ان کی افادیت کی قائل ہو چکی ہے،لہذا برقی دنیا سے عناد کے بجائے دوستی استوار کرنی چاہیئے۔ہمیں اپنی زبان کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے،آخر زبان صرف اظہار کا ذریعہ تو ہے نہیں، یہ ہماری تہذیب و تمدن کی وارث اور یادوں کا امین بھی ہوتی ہے۔

فیس بک = چہرے کی کتاب
وہاٹس ایپ = "کیا ہوا؟"
ٹویٹر = چڑیا کی چونچ
گوگل = طبیب گوگل
انٹرنیٹ = دجال کا جال
یوٹیوب = تماشوں کی ندی
انسٹاگرام = تصویروں کا میلہ
زوم = برقی بیٹھک
ای میل = برقی خط
کلاؤڈ = ہوائی الماری
ایکس=خطرناک
چیٹ جی پی ٹی=برقی ہم نشین
مصنوعی ذہانت (AI)=برقی عقل
ٹک ٹاک =پلک جھپک تماشہ
وائی فائی = بے تار رشتہ
پاس ورڈ =برقی کنجی
بلیوٹوتھ= برقی قاصد
نیٹ فلکس =تماشہ خانہ
واپس کریں