محمد محسن خان ( راجپوت )
یہ صرف اینٹ، پتھر اور سڑکوں کا شہر نہیں، یہ لاکھوں خوابوں، کروڑوں امیدوں اور پاکستان کی معاشی شہ رگ کا نام ہے۔ یہی وہ کراچی ہے جس نے ہر رنگ، ہر نسل، ہر زبان اور ہر مکتبِ فکر کے لوگوں کو اپنے دامن میں جگہ دی۔ یہی شہر ملک کی صنعت، تجارت، بندرگاہ، بینکاری اور برآمدات کا مرکز ہے، مگر افسوس کہ اسی شہر کو بارہا سیاسی تصادم، تشدد اور خوف کی سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا۔
آج جب ایک بار پھر ایم کیو ایم پاکستان کے اندر اختلافات، تلخ بیانات اور پرتشدت جھگڑوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں تو کراچی کا ہر باشعور شہری ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے! کیا اس شہر کو دوبارہ ماضی کی تاریکیوں میں دھکیلا جائے گا؟
کراچی نے تشدد کی سیاست کی قیمت صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ انسانی جانوں، اجڑے ہوئے گھروں، تباہ کاروباروں اور خوف زدہ نسلوں کی صورت میں ادا کی ہے۔ اس شہر نے وہ دور بھی دیکھا جب سیاسی اختلاف کا جواب دلیل سے نہیں بلکہ اسلحے کی زبان میں دیا جاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر کی معیشت کمزور ہوئی، سرمایہ کاری متاثر ہوئی، تعلیم کا ماحول خراب ہوا اور کراچی کی شناخت امن و ترقی کے بجائے بدامنی سے جوڑی جانے لگی۔
سیاسی جماعتوں کے اندر اختلافات نئی بات نہیں۔ دنیا کی ہر جمہوری جماعت میں قیادت، حکمتِ عملی اور پالیسی پر اختلاف ہوتا ہے، مگر مہذب معاشروں میں ان اختلافات کا فیصلہ ووٹ، آئین اور تنظیمی ڈھانچے کے ذریعے ہوتا ہے، نہ کہ اشتعال، دھونس یا طاقت کے مظاہرے سے۔ اگر کسی جماعت کے اندرونی اختلافات عوام کے امن کو متاثر کرنے لگیں تو وہ صرف جماعت کا داخلی معاملہ نہیں رہتے بلکہ پورے شہر کا مسئلہ بن جاتے ہیں۔
کراچی کے شہری دوٹوک الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ اب گولی کی سیاست قبول نہیں۔ یہ شہر مزید لاشیں نہیں اٹھا سکتا، مزید بازار بند نہیں دیکھ سکتا، مزید خوف کے سائے میں سانس نہیں لے سکتا۔ کراچی کو بندوق نہیں کاروبار چاہیے، نفرت نہیں برداشت چاہیے، اور تصادم نہیں، استحکام چاہیے۔
سیاسی کارکنوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ جماعت سے وفاداری قانون سے بالاتر نہیں ہوتی۔ اگر اختلاف ہے تو دلیل سے کیجیے، اگر شکایت ہے تو تنظیمی فورم پر اٹھائیے، اگر قیادت پر اعتراض ہے تو جمہوری طریقے سے فیصلہ کیجیے۔ اسلحہ، دھمکی اور تشدد نہ کسی جماعت کو مضبوط بناتے ہیں اور نہ ہی کسی رہنما کو بڑا ثابت کرتے ہیں بلکہ یہ عوام کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔
ریاستی اداروں کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ قانون کی عملداری بلاامتیاز یقینی بنائیں۔ کسی بھی فرد یا گروہ کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ شہر کے امن کو اپنی سیاسی کشمکش کی نذر کرے۔ جب قانون سب پر یکساں نافذ ہوتا ہے تو عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے اور جمہوریت بھی مستحکم ہوتی ہے۔
کراچی کسی ایک جماعت، زبان یا طبقے کا شہر نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ اس شہر کے امن سے قومی معیشت وابستہ ہے، اس کی بندرگاہوں سے ملکی تجارت جڑی ہے اور اس کی صنعتوں سے لاکھوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ لہٰذا کراچی میں امن صرف ایک شہری ضرورت نہیں بلکہ قومی تقاضا ہے۔
یہ میرا کراچی ہے۔ میں اسے خوف کے سائے میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ میں اسے بندوقوں کی گھن گرج میں نہیں بلکہ اسکولوں کی گھنٹیوں، کارخانوں کی مشینوں، بندرگاہ کی رونقوں اور بازاروں کی چہل پہل سے آباد دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے شہر کی پہچان ترقی ہو، تہذیب ہو، قانون ہو اور برداشت ہو، نہ کہ سیاسی تشدد اور نفرت۔
آج کراچی کی گلیاں اپنے تمام سیاسی رہنماؤں سے صرف ایک مطالبہ کر رہی ہیں اپنے اختلافات کو عوام کے مستقبل پر مسلط نہ کریں۔ اگر واقعی عوام کی خدمت مقصود ہے تو سیاست کو دلیل، برداشت اور قانون کے دائرے میں رکھیں۔ کیونکہ جب سیاست بندوق کے سائے میں چلی جائے تو سب سے پہلے جمہوریت زخمی ہوتی ہے اور سب سے زیادہ نقصان عام شہری اٹھاتا ہے۔
کراچی کے عوام کا فیصلہ واضح ہے ہمیں گولی نہیں، امن چاہیے، ہمیں تصادم نہیں، استحکام چاہیے اور ہمیں ایسی سیاست چاہیے جو شہر کو تقسیم نہیں بلکہ تعمیر کرے۔ یہی اس شہر کا مستقبل ہے، یہی پاکستان کے مفاد کا تقاضا ہے، اور یہی ہر محبِ وطن شہری کی آواز ہے کہ اب گولی کی سیاست نہیں چلے گی۔
واپس کریں