دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پیادے سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ ۔ احتشام الحق شامی
No image شطرنج کی بساط پر پیادہ آگے بڑھتا ہے، دشمن کے رخ پر نظر رکھتا ہے، مگر شاطر کا اصل منصوبہ اکثر اس کی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔ وہ صرف ایک قدم دیکھتا ہے، جبکہ شاطر پوری بساط، کئی چالیں اور حریف کی کمزوری کا حساب لگا چکا ہوتا ہے۔ یہی تمثیل آج آزاد جموں و کشمیر کی سیاست، معاشیات اور عوامی حقوق کی جدوجہد پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ یہاں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عام عوام کا وہ پیادہ بن کر سامنے آئی ہے جو اپنے جائز مطالبات کے لیے میدان میں اترا، مگر اس کے سامنے کھڑی حکمران مشینری کا ارادہ اکثر اس سے پوشیدہ، پیچیدہ اور کئی پرتوں والا رہا۔
ستمبر 2023 میں راولاکوٹ اور مظفرآباد میں تاجروں، وکلاء، طلبہ، ٹرانسپورٹرز اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں نے مل کر اس کمیٹی کی بنیاد رکھی۔ ابتدا میں یہ ایک سادہ سی آواز تھی: آٹے کی قیمت کم کی جائے، بجلی کے نرخ مقامی پن بجلی کی پیداوار کے مطابق رکھے جائیں، اور عام آدمی پر بوجھ کم ہو۔ جلد ہی یہ 38 نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈز میں تبدیل ہو گئی۔ فوری معاشی ریلیف (سبسڈی، ٹیرف، اوور بلنگ کا خاتمہ) کے ساتھ ساختی اصلاحات بھی شامل تھیں—اشرافیہ کی مراعات میں کمی، کابینہ کے سائز میں تخفیف، بلدیاتی اختیارات کی بحالی، اور سب سے اہم، آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کا خاتمہ۔ کمیٹی کا موقف واضح تھا کہ یہ نشستیں مقامی آبادی کی نمائندگی کو کمزور کرتی ہیں اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہیں۔2024 میں لانگ مارچ اور احتجاج نے حکومت کو کچھ رعایتیں دینے پر مجبور کیا۔ آٹے کی قیمت میں کمی اور بجلی کے نرخوں میں عارضی نرمی ہوئی۔ 2025 میں مزید معاہدے ہوئے، جن میں کچھ مطالبات پر پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا۔ مگر عملی طور پر عمل درآمد ناقص رہا۔ وعدے کیے گئے، کمیٹیاں بنیں، مگر بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی نہ آئی۔
عوامی سطح پر یہ احساس پیدا ہوا کہ بات چیت صرف وقت گزارنے کا حربہ ہے۔2026 میں صورتحال شدید ہو گئی۔ جون میں کمیٹی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا۔ رہنماؤں اور کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے، گرفتاریاں ہوئیں، اور راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جن میں متعدد اموات ہوئیں۔ لانگ مارچ ملتوی ہوتے رہے، مذاکرات کے دعوے ہوتے رہے، مگر 12 نشستوں کا مسئلہ اور معاشی انصاف جیسے بنیادی نکات پر کوئی مستحکم نوٹیفیکیشن نہ آیا۔ کمیٹی نے بار بار کہا کہ وہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتی، لیکن وعدوں کے بجائے عملی اقدامات چاہتی ہے۔ حکام کی طرف سے اسے امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا گیا، جبکہ کمیٹی اسے عوامی حقوق کی پرامن جدوجہد قرار دیتی رہی۔یہیں پر “شاطر کا ارادہ” والی بات سامنے آتی ہے۔ پیادہ (عوام اور ان کی کمیٹی) صرف اپنے مطالبات دیکھ رہا ہے۔روٹی، بجلی، نمائندگی اور کرامت۔ مگر شاطر (ریاستی ڈھانچہ، وفاقی اثرات اور مقامی اشرافیہ کا گٹھ جوڑ) شاید کچھ اور دیکھ رہا ہو۔ کیا معاشی رعایتیں صرف عارضی ہیں تاکہ دباؤ کم ہو؟ کیا کالعدم قرار دینا اور گرفتاریاں صرف قانون و نظم کا معاملہ ہیں یا جمہوری جگہ کو محدود کرنے کی کوشش؟
کیا 12 نشستوں کا دفاع آئینی اصول ہے یا سیاسی کنٹرول برقرار رکھنے کا ذریعہ؟ کیا بین الاقوامی سطح پر (جیسے او آئی سی کو خطوط) یہ تحریک صرف مقامی ہے یا اس کے وسیع تر اثرات ہیں؟ ان سوالات کے جوابات عام پیادے کے پاس مکمل طور پر نہیں ہوتے، کیونکہ شاطر کی چالیں اکثر پردے کے پیچھے چلتی ہیں۔
کمیٹی نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ وہ سیاسی جماعت نہیں بلکہ عوامی فلاح اور اقتصادی انصاف کا پلیٹ فارم ہے۔ اس کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے مختلف طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور مقامی مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کیا۔ اس کی کمزوری یہ رہی کہ حکومتی ردعمل میں سختی نے اسے مزید سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا، اور تشدد کے واقعات نے دونوں طرف سے اعتماد کو نقصان پہنچایا۔آج بھی صورتحال یہی ہے: دھرنے، احتجاج، مذاکرات کے امکان اور دباؤ کے چکر جاری ہیں۔ اگر شاطر کا ارادہ واقعی عوامی فلاح ہے تو پھر وعدوں کی بجائے نوٹیفیکیشنز، شفاف عمل درآمد اور جمہوری اصلاحات سامنے آنی چاہییں۔ اگر ارادہ صرف کنٹرول برقرار رکھنا ہے تو پیادے کی آگے بڑھنے کی کوششیں مزید مزاحمت کا سامنا کریں گی۔ شطرنج میں پیادہ اگر صحیح راستے پر چلے تو کبھی کبھی وزیر بھی بن جاتا ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ بساط صاف ہو، قواعد واضح ہوں اور شاطر کا ارادہ پیادے سے پوشیدہ نہ رہے۔جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد اسی پوشیدگی کو بے نقاب کرنے کی کوشش ہے اور پیغام سادہ ہے کہ عام آدمی کے حقوق کو صرف وعدوں سے نہیں بلکہ عملی انصاف سے پورا کیا جائے۔ جب تک یہ نہ ہو، شاطر کی چالیں جتنی بھی پیچیدہ ہوں، پیادہ میدان میں موجود رہے گا۔
واپس کریں