دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
میں اور برقی دنیا
منظر الحق
منظر الحق
ہم نے بچپن میں تختی سے تعلیم شروع کی تھی، اب ٹیبلٹ تک پہنچ گئے ہیں،بس فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے تختی دھوتے تھے اور اب یادداشت دھل جاتی ہے۔
برقی دنیا سے میرا تعلق کچھ ایسا ہی ہے ،جیسے گاؤں کے بوڑھے چودھری کا پہلی بار ہوائی جہاز سے،وہ اس پر سوار تو ہو جاتا ہے، مگر دل ہر وقت اللہ میاں کے سپرد رہتا ہے اور زبان پر کلمے کا ورد رہتا ہے۔
میں نئی برقی دنیا کا مخالف نہیں، صرف اس کے انگریزی ناموں سے ذرا اجتناب برتتا ہوں۔ میری ناقص رائے میں جب اپنی زبان میں کسی چیز کو پکارا جائے، تو ایک اپنائیت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ آخر مشین بھی تو برسوں کی رفاقت کے بعد، گھر کا فرد معلوم ہونے لگتی ہے اور رات دن اپنی لال،نیلی بتی جلا کر گھر کا معائنہ و حفاظت کرتی رہتی ہے۔
چنانچہ میں نے انگریزی کے برقی ناموں کی، اپنی ایک عنقا لغت مرتب کر رکھی ہے اور آپ ان سے یقینا محظوظ ہوں گے:
وہاٹس ایپ کو "کیا ہوا؟" کہتا ہوں، کیونکہ اس پر آنے والا ہر پیغام کسی نہ کسی "کیا ہوا؟" سے ہی شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم بھی ہوتا ہے۔
"فیس بک" میرے نزدیک "چہرے کی کتاب" ہے، جہاں ہر شخص اپنی بہترین تصویر کے ذریعے دنیا کو یہ یقین دلانے میں مصروف رہتا ہے ، زندگی اس سے زیادہ خوش باش کسی کی نہیں!
"ٹوئیٹر" میری دانست میں"چڑیا کی چونچ" ہے،جہاں چونچیں ہی چونچیں لڑائ جاتی ہیں، دانہ پانی کم اور شور و ہنگامہ زیادہ برپا رہتا ہے۔
"گوگل" کو میں "طبیب گوگل" کہتا ہوں،یہ ایسا حکیم ہے جو زکام کو بھی دو منٹ میں، مہلک مرض ثابت کر دیتا ہے اور پھر اگلے صفحے پر اس کے علاج کا تیر بہدف نسخہ بیچنے لگتا ہے۔
"انٹرنیٹ " میرے نزدیک وہ "دجال کا جال" ہے، جس میں علم کے موتی بھی پنہاں ہیں اور فریب کے کانٹے بھی۔ اب یہ غوطہ خور ماہی گیر کی عقل پر مبنی ہے، کہ جھولی میں وہ کیا لے کر واپس لوٹتا ہے اور اس سے منفی یا مثبت نتائج اخذ کرتا ہے۔
"یوٹیوب"،تماشوں کی ندی کہلاتی ہے،پہاڑوں سے نکل کر میدانوں تک پہنچتی ہے اور اس میں کیا کیا حسین و جمیل،سحر انگیز اور انگشت بدانداں کرنے والے راز مخفی ہیں۔
"انسٹاگرام " یہ تصویروں کا میلہ ٹھیلہ ہے،تصاویر سے ہری بھری لہلاتی دنیا اور یہاں ہر شخص اپنے آس پاس کے ماحول اور لوگوں کی عکاسی پیش خدمت کرتا ہے۔
"زوم " کو برقی بیٹھک کے نام سے پکارا ہے،نہ گھر سے نکلنے کی زحمت اور نہ کسی گاڑی و سائیکل کی سواری،بس گھر بیٹھے ہی ملاقاتوں و بیٹھکوں کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔
"ای میل " کے لیئے برقی خط کا لقب تفویض کیا ہے،عرصہ دراز پہلے کاغذ پر قلم روشنائ سے لکیریں بکھیرتا تھا اور صفحات کو لفافے میں قید کر کے، ڈاکیہ کے سپرد کر دیا جاتا۔کبھی خط ملتا اور کبھی راستے میں بے نام قزاقوں کی نذر ہو جاتا،پر برقی ڈاک فورا پہنچتی ہے اور بھیجنے والے کو رسید بھی مل جاتی ہے۔
"کلاؤڈ " کو ہوائی الماری یا برقی الماری کا خطاب ملا ہے،جانے کیا کیا فضاوں میں تیر رہا ہے اور برقی کنجی لگاتے ہی،سارا خزانہ ہاتھ آ جاتا ہے۔
"ایکس " اسے خطرناک بیٹھک کا لقب ملا ہے،اس جن کا سرغنہ ایک پگلا شخص ہے اور اسی کی بدولت مغربی دنیا کی چالبازیوں کو، غزہ کے عام انسانوں نے بے نقاب کر دیا۔
جاری ہے۔
واپس کریں