اشرافیہ کی گرفت: پاکستان کی معیشت پر سالانہ 36 سے 43 ارب ڈالر کا بوجھ؟یوسف نذر

پاکستان کی معیشت کے مسائل کا ذکر ہو تو عموماً قرضوں، کمزور ٹیکس نظام، مالیاتی خساروں یا کرپشن پر بات کی جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے مہنگا معاشی مسئلہ ان میں سے کوئی ایک نہیں۔ اصل مسئلہ ایک ایسا سیاسی و معاشی ڈھانچہ ہے جس میں ریاست تک رسائی اور اقتدار سے قربت خود ایک منافع بخش معاشی اثاثہ بن چکی ہے۔
میرے گزشتہ مضمون میں یہ اندازہ پیش کیا گیا تھا کہ اشرافیہ کی گرفت (Elite Capture) پاکستان کو سالانہ تقریباً 6.7 کھرب روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ رقم مالی سال 2024-25 کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تقریباً 5.8 فیصد، یا 25 ارب ڈالر، کے مساوی بنتی ہے۔ یہ تخمینہ اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس کی بنیاد سرکاری طور پر دستیاب مالیاتی اعدادوشمار پر رکھی گئی تھی، اور اس میں بجلی کے شعبے کی کیپیسٹی پیمنٹس، سرکاری اداروں کے نقصانات، ٹیکس مراعات اور عوامی وسائل پر دیگر قابلِ شناخت بوجھ شامل تھے۔
تاہم، اس تخمینے کی اصل اہمیت خود رقم میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ یہ صرف اُس نقصان کو ظاہر کرتا ہے جو سرکاری حسابات میں دکھائی دیتا ہے۔ اشرافیہ کی گرفت کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو کبھی سرکاری دستاویزات میں نظر ہی نہیں آتا۔
اشرافیہ کی گرفت کا مطلب ہر بار براہِ راست کرپشن نہیں ہوتا۔ یہ اُس وقت بھی وجود میں آتی ہے جب سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے مخصوص افراد یا گروہوں کو ایسے معاشی فوائد حاصل ہو جائیں جو آزاد اور مسابقتی منڈی میں ممکن نہ ہوں۔ پاکستان میں دولت کی سب سے بڑی منتقلی اکثر ٹیکس چھوٹ، زمینوں کی رعایتی تقسیم، ضابطہ جاتی تحفظ، محدود مسابقت، سرکاری ٹھیکوں اور ریاستی سرپرستی میں دی جانے والی مراعات کے ذریعے ہوتی ہے۔
اسی لیے 6.7 کھرب روپے کے تخمینے کو اشرافیہ کی گرفت کی کل قیمت نہیں، بلکہ اس کی کم از کم قابلِ پیمائش لاگت سمجھنا چاہیے۔
نظر آنے والی قیمت اور اصل کہانی
6.7 کھرب روپے کے تخمینے کے بنیادی اجزاء نسبتاً واضح ہیں۔
مالی سال 2024-25 میں وفاقی ٹیکس مراعات کا حجم تقریباً 2.35 کھرب روپے تھا۔ بجلی کے شعبے میں کیپیسٹی پیمنٹس تقریباً 2.14 کھرب روپے تک پہنچ گئیں، جبکہ سرکاری اداروں کے نقصانات 833 ارب روپے کے قریب رہے۔ دیگر قابلِ شناخت مالیاتی ضیاعات کو شامل کیا جائے تو مجموعی بوجھ تقریباً 6.7 کھرب روپے بنتا ہے۔
لیکن ان اعدادوشمار میں وہ فوائد شامل نہیں جو زمینوں کی کم قیمت پر تقسیم، مخصوص صنعتوں کو تحفظ، ضابطہ جاتی اختیارات کے استعمال، یا مسابقت محدود کرنے والی پالیسیوں کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔
ریاستی طاقت کے ذریعے پیدا ہونے والے معاشی فوائد چند افراد یا گروہوں تک محدود رہتے ہیں، جبکہ ان کی قیمت پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔
اشرافیہ کی گرفت کے چار بڑے ذرائع
پاکستان میں اشرافیہ کی گرفت کو چار بنیادی ذرائع میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
پہلا ذریعہ براہِ راست مالی مراعات ہیں، مثلاً ٹیکس چھوٹ، سبسڈیز، سرکاری ضمانتیں اور وہ نقصانات جو بالآخر قومی خزانے کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
دوسرا ذریعہ سرکاری خریداری اور ٹھیکے ہیں، جہاں شفافیت، مسابقت اور احتساب کی کمی اضافی اخراجات اور مخصوص مفادات کے لیے مواقع پیدا کرتی ہے۔
تیسرا ذریعہ زمین اور دیگر عوامی اثاثوں کی منتقلی ہے، جو اکثر مارکیٹ قیمت سے کم نرخوں پر مخصوص حلقوں کو حاصل ہو جاتی ہے۔
چوتھا ذریعہ مارکیٹ پاور، یا معاشی اجارہ داری، ہے، جہاں بعض صنعتیں حکومتی تحفظ یا ضابطہ جاتی رکاوٹوں کے باعث غیرمعمولی منافع حاصل کرتی ہیں۔
یہ چاروں ذرائع بظاہر مختلف نظر آتے ہیں، مگر ان کا نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے: عوامی وسائل اور ریاستی اختیار کا نجی دولت میں تبدیل ہو جانا۔
سرکاری خریداری: خاموش مگر مہنگا مسئلہ
پاکستان میں سرکاری خریداری اشرافیہ کی گرفت کا ایک بڑا، مگر کم زیرِ بحث آنے والا، ذریعہ ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ خریداری میں ہونے والا نقصان سرکاری بجٹ میں کسی الگ مد کے طور پر نظر نہیں آتا۔ یہ مہنگے معاہدوں، ناقص منصوبہ بندی، کمزور نگرانی، بار بار ہونے والی ترامیم، اور محدود مسابقت میں پوشیدہ رہتا ہے۔
سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان ہر سال اپنی جی ڈی پی کا تقریباً 20 فیصد حصہ سرکاری خریداری پر خرچ کرتا ہے۔ شفافیت کے عالمی اداروں اور مختلف آڈٹ رپورٹس کے مطابق اس رقم کا 10 سے 30 فیصد حصہ بدعنوانی یا نااہلی کی نذر ہو جاتا ہے۔
اگر یہی اندازہ درست ہو تو صرف سرکاری خریداری کے شعبے میں ہونے والا نقصان جی ڈی پی کے 2 سے 6 فیصد کے درمیان بنتا ہے۔
پشاور بی آر ٹی منصوبہ اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اس مسئلے کی نمایاں مثالیں ہیں، جہاں لاگت میں نمایاں اضافے، ناقص منصوبہ بندی اور نگرانی کے مسائل سامنے آئے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر لاگت میں اضافہ کرپشن کا نتیجہ ہو، مگر بار بار پیش آنے والے ایسے واقعات ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں۔
زمین: پاکستان کی سب سے بڑی پوشیدہ سبسڈی
اگر ایک شعبے کو اشرافیہ کی گرفت کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا جائے تو غالباً وہ زمین ہوگی۔
دہائیوں سے ریاستی ادارے شہری اور زرعی زمینیں، رہائشی پلاٹس اور ترقیاتی حقوق، مارکیٹ قیمت سے کم نرخوں پر مخصوص حلقوں کو فراہم کرتے رہے ہیں۔ ان میں سرکاری ادارے، ہاؤسنگ اتھارٹیز، سیاسی روابط رکھنے والے کاروباری گروہ، بیوروکریسی اور دیگر بااثر طبقات شامل رہے ہیں۔
زمین پاکستان کے سب سے بڑے عوامی اثاثوں میں سے ایک ہے، لیکن اس کی تقسیم اور استعمال کے حوالے سے شفافیت انتہائی محدود ہے۔
دبئی پراپرٹی لیکس کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تقریباً 17 ہزار پاکستانیوں کا تعلق دبئی میں 23 ہزار سے زائد جائیدادوں سے تھا، جن کی مالیت تقریباً 11 ارب ڈالر بتائی گئی۔ اگرچہ ان تمام اثاثوں کی اصل نوعیت اور ذرائع کا تعین ممکن نہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ ان میں سے ایک بڑی مقدار پاکستان میں پیدا ہونے والی دولت کی نمائندگی کرتی ہے۔
اسی طرح، بحریہ ٹاؤن کراچی کے معاملے میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں تقریباً 460 ارب روپے کا تصفیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زمین سے متعلق ایک ہی تنازعہ کس قدر بڑی معاشی قدر کا حامل ہو سکتا ہے۔
یہ اعدادوشمار قومی سطح کا مکمل تخمینہ فراہم نہیں کرتے، مگر وہ اس حقیقت کی طرف ضرور اشارہ کرتے ہیں کہ زمین پاکستان میں دولت کی منتقلی کا سب سے بڑا اور کم شفاف ذریعہ بن چکی ہے۔
جب حکومتی تحفظ منافع کی ضمانت بن جائے
پاکستان کی معیشت میں کئی ایسے شعبے موجود ہیں جہاں منافع صرف بہتر کارکردگی کا نتیجہ نہیں، بلکہ حکومتی پالیسیوں اور ضابطہ جاتی تحفظ کا حاصل بھی ہے۔
کھاد کی صنعت کو رعایتی نرخوں پر گیس فراہم کی جاتی رہی ہے۔ چینی کی صنعت میں برآمدات، درآمدات اور سپورٹ پرائسز حکومتی فیصلوں سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ آٹو موبائل سیکٹر دہائیوں تک بلند درآمدی ڈیوٹیوں اور سخت تجارتی پابندیوں کے ذریعے بیرونی مسابقت سے محفوظ رہا۔ سیمنٹ کی صنعت میں بھی متعدد بار قیمتوں کے تعین اور ممکنہ گٹھ جوڑ کے حوالے سے تحقیقات کی جا چکی ہیں۔
یہ ضروری نہیں کہ ہر معاملہ بدعنوانی کی تعریف میں آئے، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ریاستی پالیسیوں کے ذریعے بعض شعبوں کو ایسے فوائد حاصل ہوتے ہیں جو آزاد منڈی میں برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔
اصل بوجھ کتنا ہے؟
اگر صرف وہ اخراجات شمار کیے جائیں جو سرکاری حسابات میں موجود ہیں تو اشرافیہ کی گرفت کی قیمت تقریباً 5.8 فیصد جی ڈی پی بنتی ہے۔
تاہم، اگر سرکاری خریداری میں ضیاع، زمین اور اثاثوں کی مراعات یافتہ تقسیم، اور محدود مسابقت سے پیدا ہونے والے اضافی معاشی فوائد کو بھی شامل کیا جائے تو مجموعی بوجھ مزید 2 سے 3.5 فیصد جی ڈی پی تک بڑھ سکتا ہے۔
اس طرح اشرافیہ کی گرفت کا مجموعی معاشی بوجھ پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 8 سے 9.5 فیصد کے درمیان بنتا ہے۔
مالی سال 2025-26 کی متوقع قومی پیداوار کی بنیاد پر یہ رقم تقریباً 10 سے 12 کھرب روپے، یا 36 سے 43 ارب ڈالر، سالانہ بنتی ہے۔
یہ کوئی حتمی حساب کتاب نہیں، بلکہ ایک محتاط معاشی تخمینہ ہے۔ اس کا مقصد یہ نہیں کہ پوری رقم چوری شدہ دولت کے مترادف ہے، بلکہ یہ اس وسیع معاشی نقصان کی نشاندہی کرتا ہے جو وسائل کی غلط تقسیم، محدود مسابقت، کمزور حکمرانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔
اصل مالیاتی بحران
پاکستان کو اکثر کم ٹیکس وصول کرنے والا ملک کہا جاتا ہے۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے، مگر پوری تصویر نہیں۔
ایک ایسا ملک، جو ہر سال اپنی جی ڈی پی کے 8 سے 9 فیصد کے برابر وسائل اشرافیہ کی گرفت کے باعث کھو دیتا ہو، اس کا مسئلہ صرف کم محصولات نہیں ہو سکتا۔
اصل بحران معاشی طاقت اور ریاستی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔
اسی لیے بحث کو صرف ٹیکس وصولی یا انفرادی کرپشن اسکینڈلز تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ معاشی مراعات کیسے پیدا ہوتی ہیں، کن لوگوں تک پہنچتی ہیں، اور ان کی قیمت کون ادا کرتا ہے۔
6.7 کھرب روپے کے تخمینے نے ثابت کیا کہ اشرافیہ کی گرفت کو کسی حد تک ناپا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا سبق یہ ہے کہ جو کچھ ناپا جا سکتا ہے، وہ پوری کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔
نظر آنے والا بل پہلے ہی بہت بڑا ہے۔ ممکن ہے اصل بل اس سے کہیں زیادہ ہو۔
آخرکار، پاکستان کا سب سے مہنگا معاشی مسئلہ قرض، ٹیکس یا کرپشن الگ الگ نہیں، بلکہ ایک ایسا سیاسی و معاشی نظام ہے جس میں ریاست سے قربت خود ایک معاشی سرمایہ بن چکی ہے۔ سرکاری حسابات میں صرف وہ قیمت درج ہوتی ہے جو نظر آتی ہے، جبکہ دولت کی اصل منتقلی اکثر بجٹ سے باہر، زمینوں کی تقسیم، ضابطہ جاتی رعایتوں، محفوظ منڈیوں اور صوابدیدی ریاستی اختیارات کے ذریعے وقوع پذیر ہوتی ہے۔
بشکریہ : اردو نیا دور
واپس کریں