ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ایک قدیم حکایت ہے کہ ایک بستی کے کنارے بہنے والے دریا نے اپنے کناروں سے کہا: "میں ہر برس ایک ہی راستے سے گزرتا ہوں، مگر تم ہر برس میری راہ میں نئی دیواریں کھڑی کر دیتے ہو، پھر جب میں اپنی گزرگاہ واپس مانگتا ہوں تو مجھے آفت کا نام دے دیتے ہو۔" شاید یہی حکایت ہر مون سون میں ہمارے قومی منظرنامے کی سب سے سچی تمثیل بن جاتی ہے۔ پانی انتقام نہیں لیتا، وہ صرف اپنا راستہ تلاش کرتا ہے؛ مگر جب انسان قدرت کے نقشے کو اپنی مصلحت کے مطابق بدلنے لگے تو دریا خاموش نہیں رہتے، وہ گواہی دیتے ہیں کہ تباہی کا معمار ہمیشہ بادل نہیں، اکثر انسان خود ہوتا ہے۔
قدرت کا پورا نظام ایک ایسی میزان پر قائم ہے جس میں بے ترتیبی کی کوئی گنجائش نہیں۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر آتے ہیں، پہاڑ اپنی برف کو تدریج کے ساتھ دریاؤں کے سپرد کرتے ہیں، بادل اپنے مقررہ دائرے میں سفر کرتے ہیں اور پانی ہمیشہ نشیب کی طرف بہتا ہے۔ اس پورے نظام میں اچانک پن کم اور پیش بینی زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لیے مون سون کا ہر موسم دراصل ایک قدرتی امتحان سے پہلے انسانی تدبیر کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر امتحان میں ناکامی بار بار ایک ہی صورت میں ظاہر ہو تو اس کا سبب فطرت نہیں بلکہ نظمِ ریاست کی کمزوری ہوتی ہے۔
رواں برس جولائی کے اختتام تک سامنے آنے والے اعداد و شمار نے ایک مرتبہ پھر یہ احساس تازہ کر دیا کہ پاکستان میں سیلاب صرف موسمی مظہر نہیں رہا بلکہ انتظامی کارکردگی کا پیمانہ بھی بن چکا ہے۔ قیمتی جانوں کا ضیاع، سینکڑوں زخمی، تباہ حال مکانات اور زیرِ آب شہر محض ایک قدرتی منظر نہیں بلکہ اجتماعی منصوبہ بندی کی کمزوری کا عکاس نقشہ ہیں۔ خیبر پختونخوا سے پنجاب تک پانی نے صرف زمینوں کو نہیں ڈھانپا بلکہ ہمارے ترقیاتی دعووں، شہری منصوبہ بندی اور احتیاطی تیاریوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔
یہ حقیقت اب کسی تحقیق کی محتاج نہیں کہ خطرے کی علامات کئی ماہ پہلے ظاہر ہو چکی تھیں۔ موسمیاتی ماہرین نے معمول سے زیادہ بارشوں، گلیشیئرز کے تیز رفتار پگھلاؤ اور جھیلوں میں بڑھتی ہوئی آبی سطح کے بارے میں مسلسل تنبیہ کی۔ گویا فطرت نے اپنا پیغام وقت پر پہنچا دیا تھا۔ سوال یہ نہیں کہ معلومات موجود تھیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان معلومات کو ریاستی فیصلوں میں وہ مرکزی حیثیت دی گئی جس کی وہ مستحق تھیں؟ علم اگر عمل تک نہ پہنچے تو وہ محفوظ دستاویز تو بن جاتا ہے، مگر محفوظ معاشرہ نہیں بنا سکتا۔
حکمرانی کی اصل پہچان بحران کے بعد کی سرگرمی نہیں بلکہ بحران سے پہلے کی بصیرت ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست خطرات کا انتظار نہیں کرتی بلکہ ان کی آمد سے پہلے اپنی تیاری مکمل کرتی ہے۔ اس کے ادارے پیش گوئی کو منصوبہ بندی میں بدلتے ہیں، منصوبہ بندی کو عمل میں اور عمل کو عوامی اعتماد میں۔ اس کے برعکس جب منصوبے اعلانات تک محدود رہ جائیں، مرمتیں کاغذوں میں مکمل ہوں اور حفاظتی انتظامات صرف بیانات میں دکھائی دیں تو پہلا شدید موسم پورے نظام کی حقیقت آشکار کر دیتا ہے۔
اسی تناظر میں بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور حفاظتی بندوں کی جانچ کے لیے متعدد منصوبے متعارف کرائے گئے۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ خطرے سے پہلے کمزوریوں کی اصلاح ہو، آبی گزرگاہیں بحال ہوں اور عوام کو اعتماد حاصل ہو کہ ریاست نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے۔ لیکن اعتماد سرکاری اعلان سے نہیں، قابلِ تصدیق شفافیت سے پیدا ہوتا ہے۔ جب جائزوں کی تفصیلات منظرِ عام پر نہ آئیں اور عوام یہ نہ جان سکیں کہ کون سا بند محفوظ ہے اور کون سا خطرے میں، تو خاموشی خود ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
اس پورے منظرنامے کا سب سے نازک پہلو انتباہی نظام ہے۔ جدید دور میں اطلاع صرف خطرے کی خبر نہیں بلکہ نجات کا راستہ بھی ہونی چاہیے۔ اگر ایک خاندان کو صرف یہ معلوم ہو کہ اس کا ضلع خطرے میں ہے مگر یہ معلوم نہ ہو کہ کس وقت انخلا کرنا ہے، کون سا راستہ اختیار کرنا ہے اور محفوظ مقام کہاں ہے، تو ایسی اطلاع اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔ مؤثر انتباہ وہ ہے جو مقامی حقیقتوں سے جڑا ہو، بروقت ہو اور قابلِ عمل بھی۔
گزشتہ سولہ برسوں کا ریکارڈ ایک تلخ حقیقت دہراتا ہے کہ ہمارے ہاں سیلاب کا پانی تو ہر موسم کے بعد اتر جاتا ہے، مگر ادارہ جاتی کمزوریاں اپنی جگہ قائم رہتی ہیں۔ ہر تحقیق، ہر کمیشن اور ہر جائزہ اس نتیجے پر پہنچا کہ قدرتی آفت کو قومی المیے میں بدلنے میں انسانی غفلت کا حصہ فیصلہ کن رہا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ہر تباہی کو ایک وقتی حادثہ سمجھ کر فراموش کر دیا، حالانکہ وہ دراصل مستقبل کے لیے ایک انتباہ تھا۔
آج بھی فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر قانون کو مصلحت پر، منصوبہ بندی کو نمائشی اعلانات پر اور شفافیت کو خاموشی پر ترجیح دی جائے تو آنے والے نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے ایک بار پھر وقت کو گزر جانے دیا، فائلوں کو الماریوں میں بند رکھا اور احتساب کو مؤخر کر دیا تو پھر دریا اگلے برس بھی وہی گواہی دیں گے جو وہ برسوں سے دیتے آ رہے ہیں: پانی نے اپنا راستہ نہیں بدلا تھا، راستہ انسان نے بدلا تھا۔ اور جب قومیں قدرت کے نقشے سے زیادہ اپنی غفلت پر اعتماد کرنے لگتی ہیں تو تاریخ ان کے لیے سیلاب کو صرف موسمی واقعہ نہیں بلکہ تہذیبی تنبیہ بنا دیتی ہے۔
واپس کریں