دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پختونخوا پولیس کا پانی کی طرح بہتا ہوا خون ۔ خالد خان
No image خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ امن کے قیام کی سب سے بھاری قیمت وہ پولیس فورس ادا کر رہی ہے جو ہر خطرے کے باوجود شہریوں کے تحفظ کے لیے سب سے پہلی صف میں کھڑی ہے۔ رواں برس کے پہلے سات ماہ کے دوران صوبے میں 150 سے زائد پولیس اہلکاروں کی شہادتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کا چیلنج اب بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے اور خیبر پختونخوا پولیس مسلسل قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے اعداد و شمار اس صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ 2022 سے اب تک 844 پولیس اہلکار اور افسران فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ 844 خاندانوں کے دکھ، قربانی اور حوصلے کی داستان ہے۔ ہر شہید اہلکار کے پیچھے ایک خاندان، ایک ماں کی دعا، ایک بیوہ کی جدوجہد اور بچوں کے مستقبل سے جڑی ایک پوری کہانی موجود ہے۔
سالانہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو 2022 میں 93 پولیس اہلکار شہید ہوئے، 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 197 تک پہنچ گئی، 2024 میں 169 اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جبکہ 2025 خیبر پختونخوا پولیس کے لیے انتہائی مشکل سال ثابت ہوا جب 235 اہلکار دہشت گرد حملوں میں شہید ہوئے۔ رواں سال صرف سات ماہ میں 150 سے زائد شہادتیں اس خطرے کی شدت کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس کے لیے یہ آزمائش نئی نہیں۔ 2009 میں بھی دہشت گردی کی شدید لہر کے دوران 210 پولیس اہلکاروں اور افسران کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس دور اور موجودہ حالات میں فرق صرف یہ ہے کہ دہشت گردی کے طریقہ کار تبدیل ہو چکے ہیں، لیکن پولیس کے لیے خطرات کی نوعیت بدستور سنگین ہے۔
خیبر پختونخوا کی جغرافیائی حیثیت، افغانستان کے ساتھ طویل سرحد، قبائلی اضلاع کی حساس صورتحال اور خطے میں موجود شدت پسند نیٹ ورکس نے اس صوبے کو طویل عرصے سے سکیورٹی کے اعتبار سے ایک اہم محاذ بنا رکھا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار صرف امن و امان برقرار رکھنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب وہ انٹیلی جنس، انسداد دہشت گردی اور شہری تحفظ کے ایک پیچیدہ نظام کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔
دنیا بھر کے تجربات بتاتے ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ مضبوط اداروں، مؤثر انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی، عوامی تعاون اور سماجی و معاشی ترقی کے ذریعے دیرپا امن قائم کیا جاتا ہے۔ عراق، افغانستان، کولمبیا اور دیگر شورش زدہ علاقوں کے تجربات یہی ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیے بغیر کسی بھی معاشرے میں پائیدار امن کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔
خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ایک اہلکار کی شہادت صرف ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتی بلکہ ایک پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ شہداء کے خاندان ریاست کی ذمہ داری ہوتے ہیں اور ان کی کفالت، بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کے تحفظ کے لیے جامع اقدامات ناگزیر ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کے خاندانوں کے لیے خصوصی نظام موجود ہیں جن میں مالی معاونت کے ساتھ ساتھ تعلیم، روزگار اور نفسیاتی مدد بھی شامل ہوتی ہے۔
موجودہ دور کی دہشت گردی روایتی جنگ سے مختلف ہے۔ شدت پسند عناصر جدید ذرائع، خفیہ نیٹ ورکس اور بدلتی ہوئی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں، اس لیے پولیس کو بھی جدید وسائل، بہتر تربیت، جدید نگرانی کے نظام، ڈیجیٹل فرانزک صلاحیت اور جدید حفاظتی آلات کی ضرورت ہے۔ ایک مضبوط پولیس فورس صرف حملوں کا جواب نہیں دیتی بلکہ خطرات کی پیشگی نشاندہی کرکے انہیں روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
844 شہادتیں اس حقیقت کا اظہار ہیں کہ خیبر پختونخوا پولیس نے ریاستی رٹ، شہری تحفظ اور امن کے لیے غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ یہ قربانیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ پولیس کو صرف خراج تحسین تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے وہ وسائل، تربیت اور سہولیات فراہم کی جائیں جن کی ایک جدید سکیورٹی فورس کو ضرورت ہوتی ہے۔
امن کی قیمت ادا کرنے والے ان محافظوں کی قربانیاں پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ خیبر پختونخوا پولیس کا لہو اس عزم کی علامت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حوصلہ، قربانی اور فرض شناسی آج بھی زندہ ہے، لیکن مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ قربانیوں کے ساتھ ساتھ ایک ایسی حکمت عملی بھی اختیار کی جائے جو آنے والی نسلوں کو خوف کے سائے سے نکال کر ایک محفوظ مستقبل کی طرف لے جا سکے۔
واپس کریں