دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسلحے کے ڈھیر اور انسانیت کی بھیک
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
عجیب وقت ہے۔ ایک طرف واشنگٹن میں قانون ساز ایک ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ پر مہر لگا رہے ہیں، دوسری طرف جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے مہاجرین کے عملے کو اپنی میزیں پیک کرنی پڑ رہی ہیں کیونکہ بجٹ میں اتنے بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی گئی ہیں کہ چھوٹی عمارت میں منتقلی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ متضاد منظر ایک ایسے عالمی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو جنگ کے لیے تو خزانے کے دروازے کھول دیتا ہے، لیکن ایک بچھڑے ہوئے بچے کی جان بچانے کے لیے حساب کتاب شروع کر دیتا ہے۔

بیس پچیس کا سال انسانیت کے لیے کئی اعتبار سے سخت امتحان بنا ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق زمین پر ہر سترواں شخص اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہے یعنی ایک سو بائیس ملین انسان، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ انسانی تاریخ میں اس سے بڑی بے گھری کی لہر کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ایسے میں پینٹاگون کے بجٹ میں ستّر ارب ڈالر کا اضافہ کیا جائے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کا امریکی حصہ چالیس فیصد سے گھٹ کر محض سولہ فیصد رہ جائے، تو یہ کوئی سادہ پالیسی فیصلہ نہیں یہ ایک عالمگیر ترجیح کا اعلان ہے۔

یہاں ایک عجیب سی کہانی یاد آتی ہے: ایک بادشاہ جسے اپنے محل کے چھتوں پر گھاس اگنے کا خوف تھا، اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ شہر کی تمام کھیتیاں جلا دو تاکہ گھاس کا ایک تنا بھی محل کی چھت تک نہ پہنچ سکے۔ بادشاہ نے حملے سے بچنے کے لیے شہر کو بھوکا چھوڑ دیا۔ آج کا پینٹاگون شاید اسی دیوانگی کو اعلیٰ انداز میں دہرا رہا ہے یہ بھول کر کہ سب سے بڑی سلامتی کا بحران جب کوئی ماں اپنے بچے کو قحط کے باعث کھوتے دیکھتی ہے تو پیدا ہوتا ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کا یہ فیصلہ کوئی تنہا واقعہ نہیں۔ یہ ایک عالمی رجحان کا حصہ ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں امداد کی سیاست سے بالاتر ہو کر انسانی ترجیحات کی نوعیت کا جائزہ لینا ہوگا۔ جب عالمی ادارہ صحت کو اپنے دو سالہ بجٹ میں اکیس فیصد کمی کا سامنا ہے، اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو امریکی فنڈنگ میں تقریباً سو فیصد کٹوتی کا نشانہ بنایا گیا ہے، تو معروضی طور پر ایک سوال اٹھتا ہے: کیا دنیا واقعی اتنی زیادہ غیرمحفوظ ہو گئی ہے کہ اسلحے کے اخراجات کو زندگی بچانے والے اخراجات پر ترجیح دی جائے، یا یہ محض سیاسی ترجیحات کا ایک مظہر ہے جسے سلامتی کے نام پر چھپایا جا رہا ہے؟

میں پچھلے کئی برسوں سے پاکستان اور جنوبی ایشیا میں ترقیاتی کاموں کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔ گلیوں اور دیہاتوں کے اس منظر میں انسانی امداد کے یہ تخمینے اور بجٹ صرف اعداد نہیں ہوتے یہ وہ ایندھن ہیں جو لاکھوں خاندانوں کی بقا کی بھٹی کو گرم رکھتے ہیں۔ لینسیٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر امریکی امداد میں کٹوتیاں جاری رہیں تو دو ہزار تیس تک ایک کروڑ چالیس لاکھ اضافی اموات واقع ہو سکتی ہیں۔ چھیالیس لاکھ سے زائد بچے۔ یہ اعداد محض ریاضی نہیں، بلکہ وہ داستانیں ہیں جو کبھی لکھی نہیں جائیں گی، وہ خواب جو کبھی پَل نہیں پائیں گے۔

سوڈان میں ایک مہاجر خاندان جس کے پاس اب کرایہ ادا کرنے کے لیے نقد امداد نہیں رہی، ایتھوپیا میں ایک کلینک جہاں ایچ آئی وی کی دوائیں ختم ہو چکی ہیں، اور میانمار میں ایک اسکول جس کا دروازہ بند ہو گیا ہے یہ سب ان بجٹی کٹوتیوں کے گوشت پوست میں تبدیل ہوتے مناظر ہیں۔ نیویارک، جنیوا اور واشنگٹن کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں طے پانے والے یہ فیصلے لاکھوں میل دور کسی خیمے میں ایک بچی کی زندگی کا رخ موڑ دیتے ہیں—جس نے شاید کبھی پینٹاگون کا نام بھی نہ سنا ہو۔

یہاں ایک اور کہانی ہے: ایک تارکین وطن بزرگ خاتون جو اپنے پوتے کو امریکی اسکول بھیجنا چاہتی تھی، اس نے اپنی کمائی کی ایک بڑی رقم اس امید پر خرچ کی کہ اس کا پوتا پڑھ لکھ کر دنیا میں کچھ بڑا کرے گا، مگر چند ماہ بعد اسے پتا چلا کہ اس رقم کا بڑا حصہ کسی اور ملک کی فوجی تربیت میں خرچ ہو گیا۔ وہ بولی، "میں اسلحہ خرید رہی تھی، میں سمجھی کتاب خرید رہی ہوں۔" یہ تمثیل صرف ایک فرد کی نہیں، پوری انسانیت کی ہے جو جنگ کی بھینٹ چڑھنے والے وسائل کو امن کا سامان سمجھ بیٹھی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت غیرملکی امداد میں ساڑھے چھتیس ارب ڈالر سے کم ہو کر انیس ارب ڈالر رہ جانے کا مطلب ہے کہ سمجھی جانے والی سلامتی کے نام پر انسانی سلامتی کو قربان کیا جا رہا ہے۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ ایک جنگی طیارے کی قیمت سے کتنے اسکول بن سکتے تھے، یا ایک میزائل سسٹم کی لاگت سے کتنی غذائی امداد فراہم کی جا سکتی تھی، تو ہم اس سوال تک پہنچتے ہیں جس کا جواب کوئی آسانی سے نہیں دینا چاہتا: کیا ہم واقعی پوری انسانیت کو ایک دوسرے کا دشمن سمجھ کر زیادہ محفوظ ہیں، یا یہ خوف ہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے؟

جنیوا میں منتقل ہونے والا UNHCR کا دفتر ایک علامت ہے۔ یہ صرف ایک عمارت کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کا آئینہ ہے جو بقا کو بمقابلہ اسلحے کی دوڑ میں ہر بار مؤخر الذکر کا انتخاب کرتا ہے۔ بیس پچیس کا یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب انسانیت اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ جمع کرتی ہے تو وہ درحقیقت اپنی حفاظت کی بنیاد کو کمزور کر رہی ہوتی ہے، کیونکہ حقیقی سلامتی ایک بھوکے بچے کے پیٹ میں نہیں بستی، اور نہ ایک بے گھر خاندان کے خیمے میں۔ حقیقی سلامتی تو اس یقین میں ہے کہ اگر کل کو کوئی بحران آئے تو ہم ایک دوسرے کی مدد کو دوڑیں گے، ایک دوسرے کو گولی نہیں ماریں گے۔
واپس کریں