
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز نہ کسی سیاسی جماعت اور نہ ہی سول سوسائٹی کی جانب سے، پیش کی گئی ہے بلکہ حاکمانہ انداز میں پیش کی گئی یہ تجویز اپنے آپ کو غیر سیاسی کہلوانے والی طاقت یعنی اشٹبلشمنٹ کے خاص نمائندے نے بطور خاص پیش کی یا اپنے مالکان کی خواہش کو ظاہر کیا جبکہ رد عمل میں عوامی سطح پر مالکان کی اس تجویز کو کسی بھی قسم کی پذیرائی نہیں ملی ماسوائے،اشٹبلشمنٹ کی ٹاوٹ اور نمائندہ سیاسی جماعتوں مصطفی کمال کی ایم کیو ایم(پی)، علیم خان کی پاکستان استحکام پارٹی اور لانگ بوٹ پسند سینیٹر فیصل واوڈا اور چند ٹاوٹ صحافیوں کے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہر کچھ عرصے بعد اس ملک میں نئے نئے تجربے کرنے کی خواہشیں جنم لیتی ہیں لیکن نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بڑھکیں مارنے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری تھا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے یا نیا صوبہ بنانے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم پاس کرنی ہوگی گویا نئے صوبوں کی زاتی خواہش صرف پارلیمنٹ ہی پوری کر سکتی ہے، کسی فرمائشی ایگزیکٹو آرڈر سے نہیں۔گویا مالکان ملک و ملت کی مذکورہ خواہش کے عملی نفاذ کے لیے آئینی رکاوٹیں ہیں اور سیاسی اتفاق رائے بھی موجود نہیں جو اس ضمن میں ضروری ہے۔
چلیں اگر مالکان کی زاتی خواہش کو پورا کرنے کے لیئے پارلیمنٹ یا سیاسی اتفاق رائے کا بندوبست کر بھی لیا جاتا ہے تو یہ جاننا بھی ضروری ہو گا کہ نئے صوبے بنانے سے بے پناہ انتظامی اخراجات بڑھیں گے، درجنوں نئے گورنرز، وزراء، نئے وزرائے اعلیٰ اور سینکڑوں ارکان اسمبلی کی تنخواہیں،یہی نہیں درجنوں صوبائی اسمبلیاں، سیکرٹریٹس اور ہائی کورٹس پر اٹھنے والے اربوں روپے کی اخراجات جبکہ اپنے قومی خزانے کی حالت یہ ہو چکی ہے کہِ ادھر اور ُادھر سے مانگ تانگ کر گزارا کیا جا رہا ہے اور دے پھر بھی کوئی نہیں رہا اور اب تو ہمالیہ سے اونچا اور سمندروں سے گہرا دوست چین بھی اپنا پچھلا حساب کتاب کلیئر کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
مالکانِ ملک و ملت نت نئی اپنی خواہشیں ضرور پوری کریں لیکن اس سے پہلے عوام کے بنیادی مسائل جن میں مہنگائی اور بے روزگاری سر فہرست ہے، حل کر دیں تو ان کی عوام پر بڑی مہربانی ہو گی۔ویسے بھی اب پریشانی،مشکلات اور مصائب کے مارے اس ملک کے عوام کو مالکان اور ان کی کٹھ پتلی حکومت کی خواہشات، پروگراموں،منصوبوں اور عالمی ثالثیوں وغیرہ سے کوئی لینا دینا نہیں۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
واپس کریں